اینٹیگرل نیشنلزم اور چمن جلسہ

تحریر: جیئند ساجدی
ماہر تعلیم نیشنلزم کو لیکر ابہام کا شکار ہیں کچھ ماہرین اسے ایک مکمل نظریہ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس نظریے کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ دنیا مختلف اقوام میں تقسیم ہے اور ایک قوم دوسری قوم سے مختلف ہے اور اپنے اپنے آبائی علاقوں میں ہر قوم کو رائے حق خودارادیت کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ مقامی افراد کو یہ حق ہونا چاہیے کہ اپنے آبائی علاقے میں وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنا سیاسی نظام تشکیل دیں، اپنے لیڈروں کو خود منتخب کریں، اپنے معاشی نظام کے خود مالک ہوں اور اپنے خطے کا نام اپنی مرضی سے رکھیں۔ اس کے علاوہ دیگر اقوام کے حق خودارادیت کو بھی تسلیم کرنا اس نظریے کے اہم نکات ہیں۔ جو اسکالر نیشنلزم کو مکمل نظریہ مانتے ہیں انکے مطابق یہ دنیا کا سب سے طاقتور نظریہ ہے، دوسرے کسی بھی نظریے نے دنیا کو اتنا تبدیل نہیں کیا جتنا نیشنلزم نے کیا ہے، اسی نظریے کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ، آسٹریا، ہنگری اور برطانوی سامراج جیسے امپائرز ٹوٹ گئے اور ان کی جگہ متعدد قومی ریاستوں نے لی اور بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اگر نیشنلزم کا نظریہ نہیں ہوتا تو دنیا میں ابھی تک بادشاہت اور سلطنتیں ہوتیں اور جمہوریت سے دنیا نابلد رہتی۔ اس نظریے کے تحت محکوم لوگوں اور قوموں نے اپنی آزادی کی جنگیں لڑیں اور طاقت ور سلطنتوں کو زیر کیا۔
دوسری طرف کچھ ماہرین اسے نظریہ نہیں مانتے بلکہ وہ اس کی مشابہت شزنو فیرنیا نامی انسانی دماغی بیماری سے کرتے ہیں، اس بیماری میں ایک انسان کی کئی شخصیات ہوتی ہیں، کبھی وہ بہت اچھا ہوتا ہے، تو کبھی نہایت ہی برا اور اس کا دماغی توازن بیلنس نہیں ہوتا، اس مکتبہ فکر کے اسکالر یہ رائے دیتے ہیں کہ کبھی نیشنلزم سماجی اور انسانی بھلائی کیلئے استعمال ہوا ہے تو کبھی سماجی برائی اور انسانی حقوق کو پامال کرنے کیلئے ، کبھی ان محکوم قوموں نے اس کو استعمال کیا ہے جنہیں اپنی سرزمین میں حقوق میسر نہیں تھے چاہے وہ سیاسی ہوں یا معاشی، ان پہ بیرونی حکمران یا اقوام حکومتیں کرتی تھیں، ان کو ان کے سیاسی حقوق سے دور رکھتی تھیں اور ان کے وسائل کو لوٹ کر اپنے اپنے ممالک لے جایا کرتی تھیں۔ تو انہی مظلوم اور مقبوضہ اقوام نے اپنی آزادی کی جنگیں نیشنلزم کے نظریے کے تحت لڑی ہیں اور جو ان تحریکوں کو لیڈ کرتے تھے وہ قوم پرست یہ دعویٰ کرتے تھے کہ فرنگی حکمرانوں کے چلے جانے کے بعد مقامی لوگوں کو ان کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق ملیں گے، ان کی ثقافت کی حفاظت خود ریاست کرے گی اور ان کے وسائل ان کی فلاح و بہبود کیلئے ہی استعمال ہوں گے۔ دنیا میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں، جیسا کہ اطالوی قوم پرستوں نے آسٹریوی اور فرانسیسی سلطنتوں کیخلاف اپنی تحریکیں چلائی ہیں اور بالقان کی مفتوحہ قوموں نے سلطنت عثمانیہ کیخلاف اپنی اپنی تحریکیں چلائی ہیں جبکہ دوسری طرف فاشسٹ نظریہ رکھنے والے آمروں نے بھی اپنے سیاسی عزائم کیلئے نیشنلزم کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ یہ نظریہ یورپی سامراجی قوتوں نے کالونیاں فتح کرنے کیلئے استعمال کیا، مثال کے طور پر اپنی آزادی جیتنے کے بعد اٹلی آمریت کا شکار ہوا اور میسولینی نے افریقہ میں اطالوی کالونیاں قائم کرنے کیلئے نیشنلزم کی آئیڈیا لوجی کا سہارا لیا۔ اس نے لیبیا پر قبضہ کیا، مقامی افراد کو سیاسی اور معاشی حقوق سے دور رکھا، مقامی افراد کے پاس رائے حق خود ارادیت اور آزادی اظہار خیال کے کوئی حقوق نہیں تھے اور اپنی بالادستی کو جائز ثابت کرنے کیلئے انہوں نے اپنی من پسند تاریخ کا سہارا لیا کہ سیزر کے وقت لیبیا اٹلی یا سلطنت روم کا حصہ تھا۔ اسی طرح کے نظریات کا استعمال ہٹلر کی سرپرستی میں نازی جرمنی نے بھی کیا ہے اور انہوں نے دنیا کو جنگل اور اقوام کو جانوروں سے مشابہت دی ہے، ان کے مطابق جنگل میں صرف طاقتور جانور ہی بچ سکتے ہیں باقی کمزور جانوروں کو طاقتور جانور شکار کرکے کھا جاتے ہیں اور کمزور اقوام کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا، نیشنلزم کے پہلے مکتبہ فکر کے اسکالر جو اسکو ایک مکمل اور مثبت نظریہ سمجھتے ہیں، انہوں نے ان تنقید کا دفاع یوں کیا ہے کہ انہوں نے نیشنلزم کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے، ایک کو وہ مثبت نیشنلزم کہتے ہیں جس میں اقوام اپنے علاقائی سرزمین کیلئے اور اپنے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کرتے ہیں اور دوسرے اقوام کے سیاسی حقوق اور رائے حق خود ارادیت کا بھی احترام کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں قومی ریاستیں ہونی چاہئیں اور ان کی سرحدیں وہاں تک ہونی چاہئیں جہاں تک ان کی ثقافت پھیلی ہوئی ہے، جس زمین میں دوسری ثقافت شروع ہوتی ہے اسے قدرتی سرحد ہونا چاہیے اور وہاں پر دوسری قوم کی ریاست اور حکمرانی ہونی چاہیے جبکہ ہٹلر اور میسولینی طرز کے نیشنلزم کو انہوں نے اینٹیگرل نیشنلزم کا نام دیا ہے جو کہ فاشزم کی ایک قسم ہے، اس کے بنیادی نکات یہ ہیں وہ دوسرے اقوام کی ثقافت کا احترام نہیں کرتے اور اپنی ثقافت کو دیگر تمام اقوام کی ثقافت سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح وہ دوسرے اقوام کی تاریخ اور وجود کو بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اپنی تاریخ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کیلئے دوسرے اقوام کے سیاسی و معاشی حقوق جیسا کہ رائے حق خودارادیت کوئی معنی نہیں رکھتی، کبھی کبھار وہ دوسرے اقوام کے وجود کو اپنے وجود کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
حال ہی میں محمود خان سمیت ایک قوم پرست جماعت کے رہنماﺅں نے چمن میں جلسے کا انعقاد کیا، ان کی تقاریر سن کر دوسرے مکتبہ فکر کے ماہرین کی رائے درست معلوم ہوئی جنہوں نے نیشنلزم کو شیزنو فیرنیا نامی بیماری سے تشبیہہ دی ہے۔ ان تقاریر میں انہوں نے اپنی سرزمین، رائے حق خود ارادیت اور معاشی حقوق کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف انہوں نے بلوچ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی، کچھ بلوچ علاقوں بولان اور بارکھان کے متعلق توسیع پسندانہ بیان بھی دیے اور بلوچوں کے وجود کو اپنے وجود کیلئے ایک خطرہ بھی قرار دیا ہے۔ ان کی تقریر میں یہ کہا گیا کہ آسمان سے تحفے کے طور پر صوبہ بلوچستان بلوچوں کو ملا ہے جو کہ تاریخ کے منافی ہے۔ ون یونٹ سے قبل بھی بلوچستان کا وجود تھا اور موجودہ بلوچستان دو انتظامیوں میں تقسیم تھا، ایک کو بلوچستان یونین آف اسٹیٹ کہتے تھے جس میں ماضی کی ریاست قلات سمیت مکران، خاران اور لسبیلہ شامل تھیں جبکہ دوسرے صوبے کو چیف کمشنر کا صوبہ قرار دیا گیا تھا جس میں بلوچستان کے موجودہ پشتون علاقے اور کچھ بلوچ علاقے جیسا کہ نوشکی، چاغی، مری، بگٹی علاقہ، بولان اور کچھی کے علاقے شامل تھے۔
1954ءمیں جب ون یونٹ قائم ہوا تو آخری خان احمد یار خان کے بھائی پرنس عبدالکریم بلوچ نے استمان گل نامی ایک جماعت بنائی تھی اور انہوں نے ون یونٹ کیخلاف تحریک بھی چلائی تھی، بعد میں یہ پارٹی موجودہ بنگلا دیش اور موجودہ پاکستان کے دیگر بائیں بازو کے رہنماﺅں کیساتھ ملکر نیپ نامی پارٹی میں ضم ہوگئی تھی جس میں بنگالی رہنماﺅں سمیت سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید، پشتون رہنما باچا خان، محمود خان کے اپنے والد صمد خان اور دیگر بلوچ رہنما جیسا کہ غوث بخش بزنجو اور عطاءاللہ مینگل بھی شامل تھے، ان کا یہی مطالبہ تھا کہ ون یونٹ ختم کرکے صوبوں کو بحال کیا جائے، پہلا مارشل لاءلگنے سے قبل اسکندر مرزا نے آخری خان احمد یار خان کو کراچی میں مدعو کیا اور ان سے یہ کہا کہ وہ ان کے الیکشن مہم کی مالی مدد کریں۔ جب خان صاحب واپس قلات آئے تو اسکندر مرزا نے میڈیا کے توسط سے یہ بتایا کہ خان احمد یار خان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں تو لہٰذا موجودہ حکومت کو ختم کرکے مارشل لاءلگانا نہایت ہی ضروری ہے۔ لہٰذا خان احمد یار خان کے مطابق پہلا مارشل لاءلگانے کیلئے بلوچستان کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ اس کے بعد خان احمد یار خان گرفتار بھی ہوئے اور اس کے جواب میں نواب نوروز خان پہاڑوں پر بھی چلے گئے، جس سے کافی جانی نقصان ہوا۔ جب وہ ایک معاہدے کے بعد پہاڑ سے واپس اترے تو گرفتار ہوئے اور کوئی بھی وکیل ایوب خان کے دباﺅ کی وجہ سے ان کا کیس لڑنے کیلئے تیار نہیں تھا، تو اس وقت نواب غوث بخش بزنجو نے قاضی فیض عیسیٰ سے درخواست کی کہ وہ نوروز خان کے وکیل بن جائیں، اس اقدام کی وجہ سے انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ 1962ءمیں ہی بلوچ رہنماﺅں نواب خیر بخش مری، سردار عطاءاللہ مینگل، نواب اکبر بگٹی اور نواب غوث بخش بزنجو نے ایوب خان کے بلاوے پر ان سے ملاقات کی اور ون یونٹ کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی، جب ان کے مذاکرات ناکام ہوئے تو بلوچ رہنماﺅں نے کراچی کا رخ کیا اور ایک تاریخی جلسے کا انعقاد لیاری کے ککری گراﺅنڈ میں ہوا جسکا عنوان ون یونٹ کا خاتمہ تھا، اس کے بعد سردار عطاءاللہ مینگل سمیت کچھ بلوچ رہنما گرفتار بھی ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ایک عوامی تحریک شروع ہوئی تھی جس پر لوگوں نے نوٹوں پر لکھنا شروع کردیا کہ ون یونٹ توڑ دو، اسے سرکار نے قانونی جرم قرار دیا۔ غوث بخش بزنجو جو تین بار جیل جاچکے تھے، وہ کراچی کے کسی ہوٹل میں مقیم تھے، ان کے پاس سے ایک نوٹ برآمد ہوا جس میں لکھا ہوا تھا ون یونٹ کو توڑ دو، اس کے نتیجے میں انہیں 14 سال قید کی سزا دی گئی۔
تو لہٰذا یہ کہنا کہ آسمان سے تحفے کے طور پر بلوچوں کو بلوچستان ملنا ان کی تاریخ اور سیاسی جدوجہد سے روگردانی ہے۔ اس کے علاوہ اسی جماعت کے ایک رہنما نے کوئٹہ، سبی سمیت بولان اور بارکھان کو بھی پشتون سرزمین قرار دیا ہے۔ کوئٹہ اور کسی حد تک سبی میں دونوں اقوام رہتے ہیں لیکن بولان اور بارکھان میں جس لسانی گروہ کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کررہے ہیں اس لسانی گروہ سے کوئی نہیں رہتا اور یہ بلوچ اکثریت والے علاقے ہیں، یہ ان دو اضلاع کے عوام کی رائے حق خود ارادیت کو پاﺅں تلے روندھنے کے برابر ہے۔ جب سے یہ قوم پرست پارٹی وجود میں آئی ہے انہوں نے بولان اور بارکھان میں کبھی الیکشن نہیں لڑا، نہ ہی کوئی جلسہ منعقد کیا ہے اور ان کی جماعت کی وہاں کوئی سیاسی حیثیت ہے، لہٰذا ان کو جبراً اپنے تصوراتی صوبے میں شامل کرنا اینٹیگرل نیشنلزم کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ یہی جماعت 2013ءسے 2018ءتک حکومت میں تھی، صوبے میں یہ نیشنل پارٹی کی حکومت میں شراکت دار تھی اور وفاق میں نواز شریف حکومت کی اتحادی تھی، لیکن ان پانچ سال میں انہوں نے جنوبی پشتونخوا صوبے کیلئے کوئی قرار داد منظور نہیں کروائی بلکہ فاٹا کی کے پی میں ضم ہونے کی مخالفت کی، جس پر بیگم نسیم ولی خان نے یہ کہا کہ فاٹا کا کے پی میں ضم ہونا متحدہ پشتون صوبے کی طرف پہلا قدم ہے، اس کی مخالفت کرنا دوہرا معیار ہے۔
اس کے علاوہ محمود خان نے ایک اور نفرت انگیز بات بھی کی تھی کہ پشتون تاجر بلوچ راستوں کا استعمال نہ کریں، ایسا لگتا ہے کہ انہیں موجودہ بلوچستان کے جغرافیے کا بھی علم نہیں ہے، ان کی معلومات موجودہ بلوچستان کے جغرافیے کے بارے میں اتنی ہی ہے جتنی ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کے بارے میں تھی۔ ملکی معیشت کا دارو مدار کراچی، ایران اور افغانستان کی سرحد سے ہے، پشتون تاجر 680 کلو میٹر بلوچ راستہ استعمال کرکے کوئٹہ سے کراچی جاتے ہیں، اس کے علاوہ کراچی کا ایک اور طویل راستہ بولان، بختیارآباد اور نصیر آباد سے گزرتا ہے یہ بھی بلوچ علاقے ہیں، اگر پشتون تاجر ان راستوں کا بائیکاٹ کریں گے تو انہیں ژوب سے پنجاب داخل ہوکر کراچی جانا پڑے گا جو کہ کاروباری خودکشی ہوگی۔ اس کے علاوہ ایرانی سرحد پر کاروبار کرنے کیلئے پشتون تاجروں کو نوشکی، چاغی سے گزرنا پڑتا ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ بلوچوں کے جغرافیے سے تو موصوف لاعلم ہیں ہی لیکن جب انہوں نے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کی مخالفت کی تھی تو یوں معلوم ہورہا تھا کہ وہ پشتون جغرافیے سے بھی لاعلم ہیں کیونکہ سابقہ فاٹا کی وجہ سے بلوچستان کے پشتون علاقوں اور خیبر پختونخوا کی کوئی سرحد نہیں ملتی تھی اگر ان کا مطالبہ مان لیا جاتا اور فاٹا کو ایک الگ صوبہ قرار دے دیا جاتا تو یہ ان کے اپنے بولان تا چترال نعرے کے ہی منافی ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے