آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال، ممکنہ جنگ یا پابندیوں کی صورت میں گوادر محفوظ اور متبادل تجارتی راستہ ثابت ہوسکتا ہے، چیئرمین گوادر پورٹ
کراچی (انتخاب نیوز) چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کراچی میں آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن کے ممبران سے ملاقات کی، جس میں حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، گوادر پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت، ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مستقبل بننے جا رہا ہے اور خطے میں اس کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کا اپروچ چینل ملک کے دیگر پورٹس کے مقابلے میں سب سے کم، یعنی تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر طویل ہے۔ چیرمین نورالحق بلوچ نے کہا کہ گوادر سے زاہدان اور پھر وسطی ایشیا تک رسائی کا روٹ موجود ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں چین سے آنے والے پہلے کنٹینرز قافلے کو کامیابی کے ساتھ بلوچستان روٹ کے ذریعے گوادر پورٹ پہنچایا گیا تھا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ گوادر خطے کو چین اور وسطی ایشیا سے جوڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال کے باعث کسی بھی ممکنہ جنگ یا پابندیوں کی صورت میں گوادر ایک محفوظ اور متبادل تجارتی راستہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر سے ایران کے مشرقی علاقوں اور وسطی ایشیا تک رسائی ملک کے دیگر شہروں کی نسبت کئی سو کلومیٹر کم ہے، جس سے لاجسٹکس لاگت اور وقت میں نمایاں کمی آتی ہے۔ چیئرمین گوادر پورٹ نے کہا کہ گوادر فری زون میں صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر خصوصی مراعات حاصل ہیں، جہاں مشینری اور آلات ٹیکس فری درآمد کیئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر پورٹ پر درآمد و برآمدی سامان کے لیے 30 دن تک مفت اسٹوریج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر پورٹس پر اس کے چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے زیر انتظام کارگو شیڈ، اسٹوریج کنٹینر یارڈ اور ریپئر شیڈز میں بھی مفت اسٹوریج کی سہولت دی جا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام سہولیات جدید 6 لین ایکسپریس وے سے منسلک ہیں، جو پورٹ اور فری زون کو کوسٹل ہائی وے سے ملاتی ہے۔ شرکا نے چیرمین گوادر پورٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے دستیاب سہولیات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، خصوصاً ایران ٹرانزٹ کے حوالے سے۔ اس موقع پر گبد ریمدان 250 بارڈر روٹ کو ایران اور وسطی ایشیا کے لیے کارگو نقل و حمل کی ایک مو¿ثر ملٹی ماڈل سہولت قرار دیا گیا۔ چیرمین نورالحق بلوچ نے شپنگ کمپنیوں اور تاجروں سے کہا کہ وہ گوادر پورٹ کا رخ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ایران سے ایک تجارتی وفد بھی گوادر کا دورہ کرے گا۔ چیئرمین گوادر بندرگاہ کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ کم ترین نرخوں، جدید سہولیات اور اسٹریٹجک محل وقوع کے باعث پاکستان کی معیشت کے لیے ایک عظیم تجارتی کوریڈور بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ اجلاس میں (APSA) کے ممبران کے علاوہ سابق صدر گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فیصل دشتی اور ڈائریکٹر کسٹمز ٹرانزٹ ٹریڈ نے بھی خصوصی شرکت کی۔ فیصل دشتی نے گوادر سمیت علاقائی تجارتی سرگرمیوں سے متعلق، جبکہ ڈائریکٹر کسٹمز ٹرانزٹ ٹریڈ نے کسٹمز سے متعلق امور پر آگاہی فراہم کیں۔


