بلوچستان میں سستے پیٹرول اور گیس کی فراہمی کے لیے ایران سے فوری معاہدہ کیا جائے، حافظ نعیم الرحمن
لورالائی (یو این اے )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے لورالائی میں الخدمت فانڈیشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ تاریخی ‘بنو قابل’ انٹری ٹیسٹ تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر سنگین مشکلات اور حق تلفی کے باوجود بلوچستان کے نوجوان پرامید رہیں اور حالات سے بالکل مایوس نہ ہوں، کیونکہ پورے پاکستان کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں اور مقتدر قوتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ صوبے میں سستے پیٹرول اور گیس کی مستقل فراہمی کے لیے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ فوری اور باقاعدہ معاہدہ کیا جائے، کیونکہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ فعال ہونے سے صنعت کا پہیہ چلے گا اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اختیارات پر قابض طبقے کو جواب دینا پڑے گا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع کیوں دستیاب نہیں اور ملک میں پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر کیوں ہیں؟تقریب سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی الخدمت فانڈیشن کے ‘بنو قابل’ پروگرام کے ذریعے بلوچستان کے ہزاروں طلبہ و طالبات کو بالکل مفت آئی ٹی (IT) کی تعلیم دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کو اب تھانے اور چیک پوسٹیں نہیں بلکہ اعلی تعلیمی ادارے چاہئیں؛ بارڈرز بند کر کے یہاں کے عوام کے لیے تجارت کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور زندہ سلامت نوجوانوں کو ماورائے آئین غائب کیا جا رہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ ‘بنو قابل’ ٹیسٹ پروگرام کے ذریعے بلوچستان کے نوجوان آئی ٹی کی دنیا میں قدم رکھ کر اپنے خاندانوں کے لیے باعزت اور حلال روزگار کما سکیں گے، اور ہم تعلیم کے ذریعے ہی صوبے میں حقیقی تبدیلی لائیں گے۔ کوئٹہ، جعفرآباد اور گوادر کی شاندار کامیابی کے بعد اب لورالائی کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے اپنے تفصیلی خطاب میں طبقاتی نظامِ تعلیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب معاشرے میں ظلم اور ناانصافی عام ہو جائے تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے اور عوام کا غصہ فطری ہے۔ آئین کے مطابق میٹرک تک مفت تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر صرف لورالائی جیسے کم آبادی والے ضلع میں 35 ہزار سے زائد بچے اسکول ہی نہیں جاتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ‘بنو قابل’ ٹیسٹ میں کامیاب طلبہ کو فری کورسز کرائے جائیں گے جبکہ موبائل ریپئرنگ، الیکٹریشن اور سولر ٹیکنالوجی جیسے دیگر ہنر بھی سکھائے جائیں گے تاکہ نوجوان اپنے پاں پر کھڑے ہو سکیں۔ انہوں نے جاگیردارانہ نظام اور آئی پی پیز (IPPs) مافیا کو سالانہ دو ہزار ارب روپے کی ادائیگیوں کو ملکی معیشت پر بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب چہروں کی نہیں بلکہ پورے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ تقریب سے نائب امیر صوبہ عبدالمتین اخوندزادہ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری نورالدین غلزئی، اور امیر ضلع لورالائی عبدالحمید ناصر نے بھی خطاب کیا، جبکہ الخدمت فانڈیشن بلوچستان کے صدر عبدالمجید سربازی اور مولانا عبدالحق ہاشمی سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین بھی اسٹیج پر موجود تھے۔


