اٹھارہ سال قبل میری آچے امن معاہدے کی تجویز پر مذاق اڑاتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کے دفاعی ادارے انڈونیشیا کی طرح کمزور نہیں کہ مذاکرات کریں، ثالثی قبول کریں یا بلوچ عوام کو کوئی با معنی سیاسی ریلیف دیں، ثنا بلوچ
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثناءبلوچ نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 2008 میںسینیٹ آف پاکستان سے بطور احتجاج استعفیٰ دینے کے بعد میں نے بلوچستان کے سیاسی بحران پر لکھا تھا۔ میرا موقف تھا کہ اس مسئلے کا حل عالمی بہترین سیاسی روایات، خصوصاً انڈونیشیا کے آچے امن معاہدے سے سیکھنے میں ہے، جہاں دہائیوں پر محیط تنازع مذاکرات، آئینی مفاہمت اور بین الاقوامی سہولت کاری کے ذریعے ختم ہوا۔ اس وقت نجم سیٹھی اور اس وقت کے ڈیلی ٹائم پاکستان کے ایک اداریے میں اس تجویز کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کے دفاعی ادارے انڈونیشیا کی طرح کمزور نہیں کہ مذاکرات کریں، ثالثی قبول کریں یا بلوچ عوام کو کوئی بامعنی سیاسی ریلیف دیں۔ اٹھارہ سال بعد، یہ تنازع مزید پیچیدہ ہوچکا ہے، اندرونی تقسیم، علاقائی الجھاﺅ اور بین الاقوامی اثرات کے ساتھ۔ جس مسئلے کو کبھی محض ایک سیاسی شکایت سمجھ کر نظرانداز کیا گیا، وہ آج حکمرانی، سلامتی، ترقی اور خود وفاق کے مستقبل سے جڑا ایک ہمہ جہتی بحران بن چکا ہے۔ تاریخ بارہا ثابت کرتی ہے کہ پائیدار امن صرف انکار یا طاقت کے استعمال سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ سیاسی بصیرت، شمولیت، انصاف اور مذاکراتی حل سے قائم ہوتا ہے۔ آچے آج بھی اس بات کی اہم مثال ہے کہ ریاستیں مسلسل تصادم کے بجائے مفاہمت کے ذریعے اپنی وحدت کو محفوظ بناسکتی ہیں۔


