جمعیت کی عوامی قوت سے حکومت خوفزدہ ہو چکی ہے، پشین میں لاکھوں عوام کا تاریخی سمندر جمع ہوگا، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماءاسلام صوبہ بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت جمعیت علماءاسلام کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت، منظم قوت اور عوامی طاقت سے اس قدر خائف ہو چکی ہے کہ تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس کی تشہیری مہم میں رکاوٹیں ڈالنے پر اتر آئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کانفرنس کے پینا فلیکس، بینرز اور جماعتی جھنڈوں کو اتارنا دراصل اس خوف اور بوکھلاہٹ کا واضح اظہار ہے جو جمعیت علماءاسلام کی عوامی پذیرائی اور سیاسی قوت کے باعث حکمرانوں کو لاحق ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام ایک پرامن، منظم اور جمہوری سیاسی و دینی جماعت ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں افراد کے اجتماعات کے باوجود نہ کبھی کسی عوامی یا نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، نہ کسی گملے کو ٹھیس پہنچی اور نہ کسی پودے کو نقصان ہوا۔ امن، نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہمارا شعار رہا ہے، ہے اور ان شاءاللہ ہمیشہ رہے گا۔صوبائی قائدین نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں کانفرنس کی تیاریاں غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ جاری ہیں۔ کارکنان، علماءکرام، قبائلی عمائدین، نوجوان اور عوام الناس قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ کی آمد کے منتظر ہیں۔ مدارسِ دینیہ جمعیت علماء اسلام کی ریڈ لائن ہیں، ان کے تحفظ، آزادی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ماضی میں کیا گیا ہے اور نہ آئندہ کیا جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت یا انتظامیہ نے جمعیت علماءاسلام کے پرامن اور آئینی عوامی اجتماع کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ ہم حکومت کو پیشگی متنبہ کرتے ہیں کہ عوامی سمندر کے راستے میں بند باندھنے کی غلطی نہ کی جائے، کیونکہ عوامی قوت کو طاقت کے ذریعے روکنا ممکن نہیں۔ ایسی کسی بھی غیر جمہوری حرکت کے جواب میں جمعیت علماءاسلام آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ کی سرزمینِ بلوچستان آمد صوبے کے سیاسی افق پر ایک تاریخی اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگی۔ قائد جمعیت ملکی و بین الاقوامی سیاسی حالات، بلوچستان کے مسائل، مدارسِ دینیہ کے تحفظ، آئینی حقوق اور قومی معاملات پر مفصل، مدلل اور فکر انگیز خطاب فرمائیں گے اور تحریک کے آئندہ مراحل کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کریں گے۔صوبائی قیادت نے کہا کہ عوامی جوش و جذبے کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ پشین میں مقرر کردہ پنڈال قافلوں اور شرکاءکی غیر معمولی تعداد کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔ 4 جون کو پشین کا میدان اس امر کا عملی ثبوت فراہم کرے گا کہ بلوچستان کی حقیقی عوامی، جمہوری اور اکثریتی قوت کون ہے۔ یہ عظیم عوامی اجتماع نہ صرف مدارس کے تحفظ بلکہ بلوچستان کے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کے حوالے سے آئندہ کے جدوجہد کا واضح روڈ میپ بھی دے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مائنز اینڈ منرلز بل کے حوالے سے دوہرا اور مبہم کردار بلوچستان کے عوام میں شدید تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ اس متنازعہ طرزِ عمل کے نتیجے میں قبائل کی جدی پشتی زمینوں، معدنی وسائل اور صوبے کے اجتماعی مفادات کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال، توانائی بحران، بے روزگاری، بدانتظامی اور عوامی مسائل کے حل میں حکومتی ناکامی نے عوام کو مایوسی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ جمعیت علماءاسلام ان تمام مسائل کے خلاف عوامی آواز بن کر ابھرے گی اور کانفرنس میں بلوچستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئندہ کا بھرپور اور مو¿ثر لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جمعیت علماء اسلام کی صوبائی و مرکزی قیادت، ضلعی امراء، کارکنان اور تنظیمی ڈھانچے کے ذمہ داران کانفرنس کی تیاریوں اور تشہیری مہم میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ صوبے بھر میں عوامی جوش و خروش، غیر معمولی دلچسپی اور کارکنان کے جذبے کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس بلوچستان کی تاریخ کے عظیم ترین، منظم ترین اور مثالی عوامی اجتماعات میں شمار ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں