106 ارب کے ترقیاتی بجٹ میں کوئٹہ کے لیے کوئی قابل ذکر پروجیکٹ شامل نہیں، ایچ ڈی پی
کوئٹہ(یو این اے )ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) نے اپنے ایک مرکزی بیان میںصوبائی حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئے مالیاتی سال کے بجٹ کو ستم دیدہ عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاق کی رائلٹی کی بیساکھی پر کھڑی یہ صوبائی حکومت ساحل اور وسائل سے مالا مال صوبے بلوچستان کو جدید دور کے بجائے قرونِ وسطی کی طرف دھکیل رہی ہے، جبکہ اس بجٹ میں غریب عوام کو ریلیف دینے کے لیے کچھ بھی نہیں رکھا گیا ہے۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماں نے صوبائی دارالحکومت کی صورتحال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاوارث کوئٹہ شہر پر باہر سے مسلط کردہ فارم 47 کے ٹھیکیداروں کو اس شہر اور اس کے عوام کی تکالیف سے کوئی سروکار نہیں ہو سکتا، یہی وجہ ہے کہ صوبے کے 106 ارب روپے کے خطیر ترقیاتی پروگرام میں کوئٹہ شہر کے لیے ایک بھی قابلِ ذکر پراجیکٹ شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے شہری آج کے جدید دور میں بھی تعلیم، صحت، آبنوشی (پینے کے صاف پانی)، بنیادی سہولیات اور روزگار کے مواقع سے مسلسل محروم چلے آرہے ہیں۔بیان میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کے جن ارکان کو ٹف ٹائلوں کے نام پر فنڈز سے نوازا گیا ہے، وہ فنڈز بھی محض خریدی گئی سیٹوں کی بھروائی کے لیے چوری اور کرپشن کی نذر ہی ہوں گے۔ ایچ ڈی پی نے واضح کیا کہ حقیقی سیاسی و عوامی نمائندوں کی صوبائی اسمبلی میں عدم موجودگی کے باعث ایسے ہی "ٹھیکیداری بجٹ” کی توقع کی جا سکتی ہے جو عوام کی فلاح کے بجائے محض خرد برد اور کرپشن کا ذریعہ بنے گی۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ جب تک اسمبلی میں عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں ہوگی، تب تک صوبے کی ترقی و خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔


