کوئٹہ، امریکی نژاد کم عمر لڑکی حرا کے قتل کیس میں عدالت کا فیصلہ، والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا

کوئٹہ (آئی این پی)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج Xکوئٹہ جنا ب شاہد جا وید نے 14 سالہ پاکستانی نژاد امریکی لڑکی حرا انوار کے قتل کے جرم میں ان کے والد اور ماموں کو عمر قید اور دو دو لا کھ روپے جر مانہ کی سزائیں سنادی ہےں۔استغاثہ کے مطابق ملزمان انوارالحق اور محمد طیب نے 27جنوری 2025ءکو صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ کے علا قے بلو چی اسٹریٹ میں گو لیاں ما ر کر 14 سالہ پاکستانی نژاد امریکی لڑکی حرا انوارکو قتل کر دیا تھا اس مقدمے کی تفتیش ’سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ‘ (SCIW) نے کی تھی جس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر بسم اللہ خان تھے جبکہ استغاثہ کی جانب سے مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر قیصر خان نے کی۔ گزشتہ روز مقدمہ کامحفوظ فیصلہ سنا تے ہو ئے عدالت نے مقتولہ کے والد انوارالحق راجپوت اور ماموں محمد طیب بھٹی کو عمر قید اور دو دو لا کھ روپے جر مانہ کی سزائیںسنا دی ہیں عدم ادائیگی جر مانہ کی صورت میں ملزمان کو مزید چھ چھ ما ہ قید کی سزائیں بھگتنا ہو گی ۔سزائیں سنائے جا نے کے بعد بحراست ملزمان کو واپس جیل بھیج دیا گیا ۔ واضح رہے واقعے کے فوراً بعد مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت نے خود گوالمنڈی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا انہوں نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں مو¿قف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے تھے تاہم وہ اپنے بھائی کا موبائل فون واپس دینے کے لیے دوبارہ گھر کے اندر چلے گئے اور اسی دوران باہر فائرنگ ہو گئی۔ ان کے مطابق جب وہ باہر آئے تو حرا شدید زخمی حالت میں پڑی تھیں، جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیںتاہم جب پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے اور عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کرکے مختلف پہلوو¿ں سے تحقیقات کا آغاز کیا تو شک کی سوئی مقتولہ کے والد اور خاندان کے دیگر افراد پر گھوم گئی۔بعد ازاں یہ مقدمہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا جس نے تفتیش کے بعد مقتولہ کے والد اور ماموں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ والد کو اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں، رہن سہن اور طرزِ زندگی پر سخت اعتراض تھا۔پولیس کے مطابق ملزم انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے اور حرا انوار کی پیدائش بھی وہیں امریکہ میں ہوئی تھی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جنوری 2025 میں حرا اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے پاکستان کے شہر لاہور آئیں اور چند روز بعد کوئٹہ پہنچیں جہاں انہیں ان کے والد اور ماموں نے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت امریکہ سے پاکستان لا کر قتل کر دیا۔پاکستان کے علاوہ اس مقدمے کو امریکہ اور عالمی سطح پر بھی کافی توجہ حاصل ہوئی تھی۔ تحقیقات کے دوران امریکی سفارتخانے کی ایک ٹیم نے کوئٹہ کا خصوصی دورہ بھی کیا تھا اور قونصلر رسائی کے تحت مقتولہ کے والد سے ملاقات کی تھی کیونکہ وہ خود بھی امریکی شہری ہیں۔پولیس کے مطابق دوسری جانب امریکہ میں مقیم لڑکی کی والدہ نے پولیس کی مکرر درخواستوں کے باوجود اس کیس میں اپنا بیان قلمبند کرایا اور نہ ہی وہ پاکستان آئیں۔پولیس حکام نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ والد کو اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں ، رہن سہن اور طرززندگی پر اعتراض تھا۔پولیس کے مطابق انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے۔ حرا انور وہیں امریکہ میں پیدا ہوئی تھیں۔تفتیشی حکام کے مطابق جنوری 2025 میں وہ اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے پاکستان کے شہر لاہور آئیں اور چند روز بعد کوئٹہ پہنچیں جہاں انہیں قتل کیا گیا۔تفتیشی حکام کے مطابق مقتولہ کو اس کے والد اور ماموں نے منصوبہ بندی کے تحت امریکہ سے پاکستان لاکر قتل کیا۔اس مقدمے کو پاکستان کے علاوہ امریکا اور عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی تھی۔تحقیقات کے دوران امریکی سفارتخانے کی ایک ٹیم نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور قونصلر رسائی کے تحت مقتولہ کے والد جو خود بھی امریکی شہری ہیں سے ملاقات کی تھی۔پولیس کے مطابق امریکہ میں مقیم لڑکی کی والدہ نے پولیس کی درخواست کے باوجود اس کیس میں بیان قلمبند کرایا اور نہ پاکستان آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے