منگلا، ہنہ اوڑک و دیگر علاقوں میں عوام کی جدی پشتی قبائلی زمینوں پر قبضے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، مولانا ہدایت الرحمن
کوئٹہ (این این آئی )امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی جانب سے تشدد،عوام کی جدی پشتی قبائلی زمینوں پر قبضے کی کوششیں، اور دوسری جانب کراچی سے آنے والے نہتے مسافر خاندان کی گاڑی پر فائرنگ،تاجرحاجی ہاشم نورزئی کوشہید کرناجیسے افسوسناک واقعات صوبے کے پہلے سے خراب حالات کو مزید خراب کرنے کی سازش معلوم ہوتے ہیں۔بلوچستان میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال،بدامنی اور عوام میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس پر حکومت، متعلقہ ادارے اور امن و امان برقرار رکھنے والے ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار گوادر میں مختلف وفود سے ملاقاتوں اور میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہمیشہ سے مہمان نواز رہے ہیں اور خواتین، بچوں، بزرگوں اور مسافروں کی عزت و تکریم یہاں کی قبائلی روایات اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ چند عناصر کی مجرمانہ کارروائیوں کو بلوچستان کے عوام کی روایات سے جوڑنا کسی بھی صورت درست نہیں۔قانون نافذکرنے والے اداروں، سیکورٹی فورسز اورحکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تمام واقعات میں ملوث مسلح گروہوں اور قاتلوں کو بے نقاب کرے، انہیں گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ منگلا، ہنہ اوڑک اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں عوام کی جدی پشتی قبائلی زمینوں پر قبضے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ نامعلوم مسلح جتھوں کی جانب سے مقامی آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کرکے زمینوں پر قبضے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر کو بے نقاب کریں ان کے سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور مقامی لوگوں کی جان و مال اور زمینوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی زمینوں پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کراچی سے آنے والے مسافر خاندان پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کرکے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ اسی طرح معروف تاجر ہاشم نورزئی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں عبرتناک سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ حکومت صرف امن و امان کے قیام ہی پر توجہ نہ دے بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹرز، اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں تاکہ احتجاجی صورتحال کا خاتمہ ہو اور سرکاری اداروں کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ جماعت اسلامی بلوچستان ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جو صوبے میں امن، انصاف اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا جائے، جبکہ ظلم، ناانصافی، بدامنی اور عوامی حقوق پر کسی بھی قسم کے حملے کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔


