اپنی ہی رقم بینک سے نکالنے پر مزید ٹیکس عائد کرنا سراسر زیادتی ہے، چیک پوسٹوں پر ہر ٹرک اور گاڑی سے رقم وصولی کیخلاف احتجاج کریں گے، مرکزی انجمن تاجران ژوب

ژوب (نامہ نگار) مرکزی انجمن تاجران کے صدر باران خان کلیوال جنرل سیکرٹری حاجی محمد دین خروٹی، سینئر نائب صدر حبیب الرحمن کاکڑ، عطاءاللہ بابر، قومی جرگہ چیئرمین اختر شاہ مندوخیل، عید محمد مندوخیل، بلوچ خان، محمد دان کاکڑ، محمد نعیم اچکزئی، محمد شاہ لوون، سعادت کاکڑ، یوسف راجپوت، محمد رحیم شیرانی اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ریلیف دینے کے بجائے آئے روز نئے نئے ٹیکس عائد کرکے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، جو عوام اور تاجروں کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، لیکن اب بینکوں سے اپنی ہی جمع شدہ رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنا پراپرٹی ٹیکس اور انکم ٹیکس سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری اور عوام اس ظالمانہ ٹیکس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ روز احتجاجاً ژوب کے تمام بینک بند رکھے گئے تھے۔ اگر حکومت نے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ایک طرف عوام اور تاجروں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جبکہ دوسری جانب نت نئے ٹیکس نافذ کرکے ان کا جینا دوبھر کیا جا رہا ہے۔ پہلے ہی ملازمین اور تاجروں سے انکم ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود اپنی ہی رقم بینک سے نکالنے پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا کوئی قانونی، اخلاقی یا معاشی جواز نہیں بنتا۔ اگر اس روایت کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں مزید غیر منصفانہ ٹیکس بھی عوام پر مسلط کیے جائیں گے۔ یہاں اور اہم مسئلے کی جانب حکام کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کوئٹہ اور ڈی آئی خان شاہراہ پر قائم ایف سی اور کسٹمز کی زیارت کراس، مسلم باغ، مانی خواہ اور دانہ سر چیک پوسٹوں پر ٹرانسپورٹرز کو مبینہ طور پر بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہر ٹرک اور گاڑی سے غیرقانونی طور پر رقم طلب کی جاتی ہے اور رقم نہ دینے کی صورت میں گاڑیوں کو کئی کئی گھنٹے روکے رکھا جاتا ہے، جس سے ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام ان شکایات کا فوری نوٹس لیں، بصورت دیگر تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز ان چیک پوسٹوں پر بھرپور احتجاج، دھرنے اور ہر آئینی و جمہوری آپشن استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں