زیارت پولیس کے قاتل وہ لوگ ہیں جنہوں نے اُنہیں واٹر ٹینک پر بھیجا، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ ( آئی این پی ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک کے مقام پر جاری زیارت دہشت گردانہ واقعہ کے خلاف عوامی احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام پشتونوں کا جرگہ ہونا چاہیے، پشتونوں کی موجودہ صورتحال پر خیبر سے تیراہ وزیرستان اور جنوبی پشتونخوا تک تمام پشتونوں کا جرگہ ضروری ہے ، قوموں پر جب بُرا وقت آتا ہے تو وہ اپنے اندرونی اختلافات پس پشت ڈال کر رکھ دیتے ہیں، زیارت پولیس شہدا کے قاتل وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے اُنہیں واٹر ٹینک پر بھیجا جنہوں نے اسلحہ نہیں پہنچایا ۔ اسلام اباد میں یہ مطالبہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کیا کہ ان لوگوں کو استعفیٰ دینا ہوگا ، وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم تک سب بے اختیار ہیں، شہدا کے لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے ،، دھرنے کو مزید وسیع دی جائیگی ، ہمیں اتنا کمزور نہ سمجھا جائے پشتون 100سال بعد بھ اپنا بدلہ نہیں بھولتے، قرآن کریم قصاص کا حکم دیتا ہے ہم بندوق نہیں اٹھاینگے لیکن اس ظلم کے خلاف اٹھنا ہوگا،اپنی صفیں درست کرنا ہوگی۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ یہ بڑی دُکھ کی بات ہے جب کسی قوم پر ایسے حالات آجائے تو جذبات ، بُرا بلا کہنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ عقل شریک کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔جن کے ہاتھوں ہمارے یہ بچے شہید ہوئے ہیں ہمیں ان کو معلوم کرنا ہوگا کیونکہ اسلام اور پشتون اعلیٰ روایات دونوں میں اس قسم کی المناک اور ناحق موت کی اجازت نہیں اگر کوئی زبردستی کسی کا خون بہاتا ہے اور زور کرتا ہے تو ایسے لوگوں کو پشتون روایات میں مار دیاجاتا ہے ۔ قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ ہے کہ ”گویا ایک بے گناہ انسان کی موت تمام انسایت کی موت اور کسی ایک بے گناہ انسان کو بچانا تمام انسایت کو بچانے کے مترادف ہے “۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اپنی بساط کے مطابق گزشتہ تین سالوں سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ پشتون وطن کودنیا کے مست سانڈوں نے اپنے جنگ کا مرکز بنا نا ہے اور ہمارے وطن اور اس قوم کے وسائل معدنیات پر ان کی بُری نظریں ہیںاور وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وطن میں قدرت کی بے شمار نعمتیں ہیں وہ تمام نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورة رحمن میں بیان کی ہےں اللہ تعالیٰ نے پشتون افغان کو انتہائی غنی وطن سے نوازا ہے جہاں دریاء، پانی ، نہریں، جنگلات ، قیمتی معدنیات ، کوئلہ سب کچھ موجود ہیں ۔ آج جو حالات ہیں ہم اس کی نشاندہی کرتے چلے آرہے ہیں ۔ پہلے مرحلے میں شدید گرمی میں وزیرستان کے لوگوں کو مردان میں کیمپس بناکر آباد کیا گیا اور ان کے وطن پر قبضہ کیاگیا اور انہیں تمام ملک میں بعد میں آئی ڈی پیز بنا دیا گیا ۔ پشتون سیال قوم ہے ہمیں کسی کی خیرات نہیں چاہیے ۔ ہم یہ ملک توڑنا نہیں چاہتے ، یہ ایک فیڈریشن ہے جس میں پشتون ، بلوچ، سندھی ،سرائیکی اور پنجابی اقوام اپنی اپنی زمینوں پر تاریخی طور پرآباد ہیں ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کے قیام کے بعد سے لیکر آج تک ملک میں آئین کو نہیں مانا گیا ۔ اس حد تک کہ یہ ملک دولخت ہوا بنگال بنا اس کے بعد آج تک کسی سے نہیں پوچھا گیا کہ یہ ملک کیوں ٹوٹا ۔ باقی ماندہ ملک میں اکابرین نے بیٹھ کر ملک کو جمہوری ٹریک پر ڈالنے کے لیے آئین تشکیل دیا اگر چہ اس میں پشتونوں کا اپنا قومی صوبہ نہ تھا لیکن اس کے باوجود ایک متفقہ آئین بنایا گیا تاکہ ملک میں جمہور کی حکمرانی ہو ، پارلیمنٹ خود مختار ہو ، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن قائم ہو ، ہر قوم کے وسائل پر ان کا واک واختیا ر ہو لیکن اس آئین کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان اس ملک کا پاپولر لیڈر ہے، 8فروری کے انتخابات میں جس انداز میں دہشت گردی کی گئی عوام کے مینڈیٹ کو چھینا گیا ، عدالتوں کو توڑ کر تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا اور پھر اسمبلیوں کی بولیاں لگائی گئی جس میں کوئی غریب سیاسی کارکن نہیں آسکتا تھا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور یہ بھی دہشت گردی کی علامت ہے کہ آپ نے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا اور بولیاںلگاکر لوگوں کو اسمبلیوں تک پہنچاکر عوام پر مسلط کیا ۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ ہماری سُنو اور جو نہیں سُنتا اُسے گولیاں مار دی جاتی ہے ، عمران خان کے کارکن عمران خان کی رہائی ، جمہورکی حکمرانی کے لیے نکلے تھے اور احتجاج کیا آپ نے انہیں گولیاں ماردیں ۔ تحریک لبیک والوں کو آپ نے گولیاں مار دیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ زیارت کے علاقہ مانگی میں جس واٹر ٹینک کی جگہ پر پولیس اہلکاروں کو لاکر اکٹھا کیا گیا اور انہیں ایک یا دو دو میگزین دیئے گئے انتہائی کم اسلحہ فراہم کیاگیا یہ کام جس نے بھی کیا وہی دراصل ان شہدا کے قاتل ہیں ۔اگر وہ کوئی ڈی سی ہو ، کمشنر ہو یا سیکرٹری داخلہ ہو ۔ ان اہلکاروں کو یہاںپر تعینات کرنے والے ہی اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں اور وہ بھی ذمہ دار ہیں جنہیں اہلکاروں نے بروقت اطلاع دی اور امداد مزید اسلحہ ، گولیوں کی فراہمی کی درخواست کی ۔ تحقیقات کی جائیں اور انہیں بے نقاب کیا جائے کیونکہ یہ بھی اتنے ہی ذمہ دار اور قاتل ہیں ۔اہلکاروں کو بھیجنے والوں کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے تھا ۔ ٹرمپ پر گولی چلنے کا واقعہ رونماءہوا ذمہ دار خاتون نے اپنے عہدے سے فوری استعفیٰ دیا کہ یہ میری نااہلی ہے میں اپنی ذمہ داری میں غفلت برتی ۔ کسی ملک میں ٹرین حادثہ ہوتا ہے وہاں کا وزیر مستعفی ہوجاتا ہے ۔ ہم اس عوامی احتجاجی دھرنے کے تمام مطالبات کی حمایت کرتے ہیں ، تحریک تحفظ آئین پاکستان وزیر اعلیٰ اور اس حکومت سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ ہماری مائیں اس لیے بچوں کو جنم نہیں دیتی کہ آپ ان کا خون بہائیں اتنا ارزاں خون نہیں کہ آپ نے نسل کشی شروع کر رکھی ہے ۔ آپ نے پہلے انہیں بیدردی کے ساتھ مارا اور پھر ایک ہی گاڑی میں ایک دوسرے کے اوپر پھینک کر لاشیں ہسپتال بھیج دی ان کی اتنی بے حرمتی کی یہ وقت پھر آپ پر بھی آسکتا ہے اُس وقت سے ڈریں ۔ وزیر اعلیٰ سے لیکر وزیر اعظم تک ان لوگوں کے پاس تو یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے گھر جاسکیں ۔ محمو د خان اچکزئی نے کہا کہ تمام پشتونوں کا ایک جرگہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس جرگہ میں سخت لائحہ عمل بھی طے ہوسکتا ہے ۔ ملک میں پشتونوں کی حالات انتہائی بدتر ہوچکے ہیں اس صورتحال میں خیبر سے لیکر تیراہ وزیرستان اور جنوبی پشتونخوا تک تمام پشتونوں کا ایک جرگہ ہونا چاہیے ۔ زیارت اور کوئٹہ کے ہنہ اوڑک سمیت تمام بچوں کو جس طرح شہید کیا گیا اور اب اس کے بدلے لاکھوں روپے کے مراعات کی باتیں کرنے والے سُن لیں ہمیں یہ مراعات اور پیسے نہیں چاہیے آپ نے ہمارے بچوں کو کیوں شہید کیا ہمیں اس کا جواب چاہیے ؟۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ دھرنے کے شرکاءسے بات کریں ہم ہرلحاظ سے ان کا بھرپور ساتھ دینگے۔ میری تجویز ہے کہ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر عوامی احتجاج ہو ، آج تمام دنیا میں پشتونوں کا امیج ایک دہشت گرد کے طور پر دکھایا جارہا ہے جو پشتون داڑھی ، پگڑی والا ہو اسے دہشت گرد سمجھ کر تنگ کیا جاتا ہے۔ یہ جھوٹا اور منفی پروپیگنڈہ جس طرح پھیلایا جارہا ہے ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ آپ تو اتنے گئے گزرے ہو کہ مطالعہ بھی نہیں کرتے ۔ دنیا کے تاریخ دانوں ہتو رام ،کوئی سکھ ،انگریز، جرمن ، فرانسیسی، چائینی یا کوئی بھی ہو شائع کردہ کتابوں کا ہی مطالعہ کریں جو کہتے ہیں کہ پشتون پر امن لوگ ہیں ان کے وطن میں رات گزارنا ، بسترہ اور کھانا مفت ہے وہ مہمان نواز ہیں۔ لیکن ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ماں ، اپنے وطن ، اس کی آزادی ، خودمختاری کی جانب کسی کو بھی میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دینگے۔ پشونخوا وطن کو یہ لوگ No mans Landکا نام دیتے ہیں۔ ایسا کسی صورت نہیں۔ہمارے وطن کا انچ انچ معلوم ہے اور یہاں قبیلوں کے مابین تقسیم شدہ ہیں یہ کوئی ایسی زمین نہیں کہ آپ اس پر آکر قبضہ کرینگے۔ یہاں لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس وطن اور اس کے وسائل پر کسی کو بھی بزور طاقت قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گااور اگر آپ طاقت استعمال کرتے تو یہ انتہائی بربادی ہوگی ۔ پشتون ، بلوچ ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی اقوام کے بچوں کو یہ آئینی ضمانت دینی ہوگی کہ آپ کے وطن میں جو نعمتیں قدرت نے پیدا کی ہیں اس پر پہلا حق آپ کے بچوں کا ہے اور یہ آپ نے بھی تسلیم کرنا ہوگی ۔بلوچ بھائیوں سے بھی یہ کہتے ہیں ۔ فوجی بھائیوں کو کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ، طاقت کا استعمال اگر آپ کرتے ہیں تو ہم بندوق تو نہیں اٹھائینگے لیکن ہمیں اتنا کمزور نہ سمجھا جائے ۔ آپ کی گولیاں ختم ہونگی لیکن پشتون عوا م ختم نہیں ہوں گے یہ ظلم بند کردیں۔آپ جتنا بھی ظلم کرلیں فرعون سے زیادہ ظلم نہیں کرسکتے کہ وہ ہر پیدا ہونیوالے نرینہ بچہ کو زندہ دفن کردیتا لیکن پھر موسیٰ علیہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا کہ غلامی بندگی ہے اور اپنے قوم کو غلامی سے نجات دیں۔ ہمیں بھی اپنے بچے عزیز ہیں یہ وطن عزیز ہے ہم یہاں کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ اس وطن میں آگ وخون کو پھیلائیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھی بھی آئینگے ہمیں اپنی صفوں کو منظم کرنا ہوگا ۔خیر کے لیے اپنے وطن کی دفاع کے لیے مظلوموں کا ساتھ دینے کے لیے ہر ظالم کے سامنے ڈٹے رہینگے۔ ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بہترین جہاد ہے ۔ علامہ اقبال کا شعر ہے کہ ” یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ۔ ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات “ ۔ اگر پشتونوں سے کوئی غلطی ہوئی ہے وزیر اعلیٰ صاحب یا کوئی بھی بتا دے ہم بات کرینگے لیکن اس طرح کے حالات پر پشتون اپنا بدلا کبھی نہیں بھولتے ، یہ لوگوں کو مارنا ، تیزاب گردی کرنا اس کا حساب قرآن ، شریعت اور پشتون دود دستور روایات کے مطابق ضرور لیا جائے گا۔ تمام پشتونوں کا جرگہ اور اس کے ذریعہ نجات کی راہ اپنانی ہوگی ۔ آج زرغون میں ایک کلی پر حملہ آور ہوکر انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے دیہات ، گھروں سے بیدخل ہوجائیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اگر کسی کی زمین پر کوئی خزانہ پیدا ہوا ہے تو آئین اس کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں اس میں اس کا حصہ تسلیم کریں ۔لیکن طاقت کے زور تو سکندر ، یونانی اور دیگر بھی آزما چکے اور انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مہربانی کریں اس ملک پر اور عوام پر رحم کریں۔ ہم پشتونخوا وطن کے تمام عالم ،فاضل ، وکیل ، ڈاکٹر، زمیندار، تاجر ، اساتذہ اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اپنا عقل شریک کریں اور اس احتجاج کو طریقے کے ستاھ مزید وسیع کیا جائے گا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونوں پر تجارت کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں میری تجویز ہے کہ چمن پرلت (دھرنا) دیا جائے کہ کیوں ہمارا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سربراہی میں افغانستان کے متصل تمام ہمسایہ ممالک کی ایک کانفرنس بلائی جائے جس میں افغانستان سے ہمسایوں کے خدشات اور افغانستان کے اپنے ہمسایوں سے خدشات پر سیر حاصل گفتگو ہو اور نتیجے میں ایک ایسا معاہدہ تشکیل پائے کہ سارے ممالک ایک دوسرے کے استقلال اور آزادی کے احترام اوراندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے پابند ہوں ، اس معاہدے کی ضامن اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے تمام رکن ممالک ہوں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ ملک بہترین ملک بن سکتا ہے یہاں آئین کی بالادستی ہو ، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو ، عدلیہ اور میڈیا آزادی ہو ، تمام ادارے آئینی فریم میںرہ کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن ہو ، قوموں کے حقوق ان کے وسائل پر ان کے بچوں کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے اور انہیں آئینی ضمانت دی جائے۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ گزشتہ روز سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ ایک شریف موسیانی ایک بڑے قبیلے کا سردار ہے فورسز کی جانب سے اُس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتاہے وہ شریف آدمی باہر نکلتا ہے دو یا تین بچے ساتھ ہوتے ہیں فوراً اس پربٹوں سے استقبال کیا جاتا ہے مرمت کی جاتی ہے تشدد کیا جاتا ہے ان حالات میں جوان بیٹے اپنے باپ کو دیکھ کر حرکت کرینگے باپ کے سامنے اُن کو گولیاں مار دی جاتی ہے ۔ جب ان پر آپ تشدد کرینگے جوانوں بچوں پر گولیاں چلائینگے تو اس کا رد عمل کیا ہوگا ۔


