امریکا، خاموش مگر خطرناک بحران طاقت کے ایوانوں میں سر اٹھانے لگا
امریکہ (مانیٹرنگ ڈیسک)واشنگٹن میں طاقت کے ایوانوں کے اندر ایک خاموش مگر خطرناک بحران سر اٹھا رہا ہے، جہاں امریکی محکمہ? دفاع پر یہ سنگین الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ وائٹ ہاو?س سے میزائلوں کی کمی کی اصل شدت چھپا رہا ہے۔اندرونی ذرائع کو خدشہ ہے کہ اعلیٰ سطح پر حقائق پوری طرح سامنے نہیں لائے جا رہے۔ امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ ہمارے پاس اتنا اسلحہ نہیں کہ محفوظ انداز میں جنگ جاری رکھ سکیں، وائٹ ہاﺅس مکمل طور پر آگاہ نہیں ہے۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف اور امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران کے خلاف سخت ردعمل دینے کے لیے دباﺅ کا سامنا ہے۔ تاہم انتظامیہ کے اندر یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ پینٹاگون انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کو چھپا رہا ہے، جو جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائٹ ہاﺅس خود بھی اس کمی کی اصل صورتحال جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ خاموشی کا کلچر امریکی وزیرِ دفاع کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔مارچ میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی جنگ کے ابتدائی 16 دنوں میں 11 ہزار سے زائد ہتھیار استعمال کر چکے تھے، اور پیشگوئی کی گئی تھی کہ اہم اسلحہ ایک ماہ کے اندر ختم ہونے کے قریب پہنچ سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کو جنگی حالت میں ڈال دیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ تہران کے خلاف جنگ پہلے سے زیادہ شدت اور بڑے پیمانے پر دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور جرمنی میں موجود اڈوں سے ایف 35 اور ایف 16 لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے گئے ہیں جبکہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ابتدائی طور پر امریکی حملے ساحلی اہداف تک محدود تھے، مگر گزشتہ ہفتے جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد کارروائیاں اندرونِ ملک تک پھیل گئی ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق پینٹاگون اس نتیجے پر پہنچ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے جنگ کو مزید شدت دینا ضروری ہو سکتا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک مکمل جنگ میں مصروف ہے، تاہم یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا امریکا مکمل جنگ کے لیے تیار ہے یا نہیں۔رپورٹ کے مطابق اگر میزائلوں کی کمی درست ہے تو یہ امریکا کی جنگ کو وسعت دینے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتی ہے اور امریکی فوجیوں کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے، جس سے اسے تباہ کرنے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔


