ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے معاشی مشکلات کا شکارپانچ افغان ہلاک،بی بی سی
تہران(میڈیا رپورٹ)افغان میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ حال ہی میں سمگلنگ کے راستوں کے ذریعے ایران پہنچنے کی کوشش کرنے والے پانچ افغان جنوبی صوبے نیمروز کے ایک صحرائی علاقے میں مردہ پائے گئے، جبکہ 14 دیگر لاپتہ ہیں۔ ’سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس گروہ کا ارادہ ہلمند اور نیمروز کے صحراو¿ں کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جانے کا تھا۔ شدید گرمی اور پانی کی کمی کے باعث ان میں سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دیگر لاپتہ ہیں۔‘اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’یہ سانحہ خطرناک اور غیر قانونی سفری راستوں کی انسانی قیمت کی ایک دردناک یاد دہانی ہے، اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ لوگوں کو بہتر تحفظ اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہ ہوں۔برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل نے اس خبر کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’بیروزگاری، غربت، ایرانی ویزوں کے اجرا پر پابندیاں، اور ایران سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر بے دخلی‘ وہ عوامل ہیں جو نوجوانوں کو سمگلنگ کے راستے استعمال کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ’معاشی مشکلات، سیاسی چیلنجز، اور مواقع کی کمی‘ افغان شہریوں میں ہجرت کے اہم محرکات ہیں، جس کے باعث بعض لوگ نقل مکانی کے لیے غیر قانونی اور خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔رپورٹ میں زور دیا گیا کہ حالیہ برسوں میں غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کے دوران بہت سے افغان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پانی کی کمی، انتہائی درجہ حرارت، راستہ بھٹک جانا، اور سمگلروں کی جانب سے چھوڑ دیا جانا اہم خطرات میں شامل ہیں۔ غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران افغان ایرانی سرحدی محافظوں کے ہاتھوں بھی مارے گئے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان نے بھی 10 جولائی کی مہلت ختم ہونے کے بعد دستاویزات کے بغیر ملک میں موجود افغان شہریوں کی بے دخلی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔


