ٹی ٹی سی خاران دو ماہ سے بند، حکومت بلوچستان فوری توجہ دے اور ادارہ کھولا جائے،بساک

خاران (مانیٹرنگ ڈیسک)ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر (ٹی ٹی سی) خاران گزشتہ دو ماہ سے مکمل طور پر بند پڑا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیاں جو صرف پندرہ دن کے لیے تھیں، انہیں بغیر بتائے بڑھا دیا گیا اور اب ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود ادارہ ابھی تک بند ہے۔ انتظامیہ کبھی بجلی خراب ہونے کا بہانہ بناتی ہے تو کبھی کوئی اور وجہ بتاتی ہے، اور اس طرح اسٹوڈنٹس کو ان کے پڑھنے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو کہ بہت افسوس کی بات ہے۔ادارے میں پڑھنے والے اسٹوڈنٹس کے مطابق چھ ماہ کے کورس کو بلاوجہ لمبا کر کے زیادہ وقت تک کھینچا جا رہاہے، جس سے اسٹوڈنٹس کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور ان کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اسٹوڈنٹس کو صرف روکا گیا ہے، نہ ٹھیک طرح سے پڑھایا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی اور راستہ دیا جا رہا ہے۔ اسٹوڈنٹس کا کہنا ہے کہ ہمارا داخلہ ٹی ٹی سی خاران میں ہے اور ادارے کے مسلسل بند رہنے کی وجہ سے ہم نہ پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ کوئی اور کام کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اسٹوڈنٹس کے ساتھ صاف ناانصافی ہے اور ان کے پڑھنے کے حق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔بساک خاران زون حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ خاران سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ ٹی ٹی سی خاران کو جلد از جلد کھولا جائے، ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسٹوڈنٹس کا ضائع ہونے والا وقت پورا کیا جائے۔ بصورت دیگربساک خاران زون اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گی، جس کی تمام ذمہ داری متعلقہ حکام پر ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے