جبل نور القرآن قبرستان کی اراضی پر مبینہ قبضے کی کوششوں کےخلاف قبائلی جرگے کا دوٹوک موقف، انتظامیہ فوری نوٹس لے
کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی بائی پاس پر واقع جبل نور القرآن قبرستان اور اس سے ملحقہ پہاڑی اراضی کے حوالے سے جاری تنازعے پر اہلیانِ بروری اور قبائلی عمائدین نے ایک بار پھر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان کی زمین کو مبینہ قبضہ مافیا سے محفوظ بنایا جائے اور اراضی کے ریکارڈ میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔جبل نور القرآن اور قبرستان کی اراضی کا معاملہ نیا نہیں بلکہ اہلِ علاقہ گزشتہ کئی برسوں سے اس حوالے سے آواز اٹھاتے آرہے ہیں۔ مقامی عمائدین کے مطابق مذکورہ اراضی عرص دراز سے مرحومین کی تدفین اور عوامی قبرستان کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، جبکہ جبل نور القرآن میں قرآن پاک کے شہید اوراق اور قدیم نسخوں کو محفوظ رکھنے کی مذہبی اہمیت بھی مسلم ہے۔ اس لیے اس اراضی کا تحفظ صرف زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی، قبائلی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔اہلیانِ بروری کی جانب سے ماضی میں بھی پریس کانفرنسوں، احتجاجی مظاہروں اور متعلقہ حکام کو درخواستوں کے ذریعے اس معاملے کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ مقامی حلقوں نے قبرستان اور پہاڑی اراضی کے مبینہ انتقال، زمین کو ہموار کرنے اور وہاں ممکنہ تعمیرات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام متعلقہ دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور اراضی کی قانونی حیثیت کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے اور کسی بھی غیرقانونی اقدام کو روکا جائے۔آج منعقد ہونے والے جرگے میں بھی اس حساس معاملے پر آواز اٹھانے کا مقصد یہی ہے کہ تنازعے کو قبائلی روایات، باہمی مشاورت اور قانونی طریق? کار کے تحت حل کیا جائے۔ قبائلی عمائدین اور اہلِ علاقہ کا مو¿قف ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو مبینہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر عوامی قبرستان کی اراضی پر قبضے یا اس کی نوعیت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم، کسی بھی فریق کے خلاف حتمی کارروائی مستند شواہد اور قانونی تحقیقات کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔اہلیانِ بروری نے وزیراعلیٰ بلوچستان، کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ جبل نور القرآن قبرستان اور اس سے ملحقہ متنازعہ اراضی کا فوری سروے کرایا جائے، ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے، مبینہ غیرقانونی انتقالات کی تحقیقات مکمل کی جائیں اور تحقیقات تک زمین کی نوعیت تبدیل کرنے یا کسی بھی نئی تعمیراتی سرگرمی کو قانون کے مطابق روکا جائے۔عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ جبل نور قبرستان سے متعلق متنازعہ اراضی میں سرمایہ کاری یا خرید و فروخت سے قبل زمین کی قانونی حیثیت اور ملکیتی دستاویزات کی مکمل تصدیق ضرور کریں تاکہ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی کسی ممکنہ قانونی تنازعے میں نہ پھنس جائے۔اہلیانِ بروری کا واضح پیغام ہے کہ جبل نور القرآن قبرستان اور اس سے متعلق عوامی مفاد کی اراضی کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ قبضے کی کسی بھی مبینہ کوشش، غیرقانونی انتقال یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار ثابت ہونے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی قبرستانوں کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، اور اس مسئلے کا حل دباو¿ یا تصادم نہیں بلکہ قانون، انصاف اور شفافیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔


