عطا شاد کی شاعری قومی شعور، فکری مزاحمت اور ادبی جدت کا روشن علامت ، ادبی خدمات ناقابل فراموش سرمایہ ہے، بی ایس او پجار
کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) پجار کے مرکزی ترجمان نے عظیم بلوچ شاعر، دانشور، محقق اور ادیب عطا شاد کے یومِ پیدائش کے موقع پر اپنے بیان میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عطا شاد بلوچ زبان و ادب کی تاریخ میں ایک ایسے تخلیقی اور فکری عہد کا نام ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف بلوچی ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا بلکہ بلوچ قومی احساس، تہذیبی شناخت، تاریخی شعور اور انسانی تجربات کو جدید ادبی اسلوب میں بیان کرنے کی ایک نئی روایت قائم کی۔عطا شاد نے ایسے دور میں بلوچی شاعری کو ایک نیا رنگ، نیا آہنگ اور نئی معنویت عطا کی جب روایتی شعری اظہار کے دائرے محدود تھے۔ انہوں نے بلوچی شاعری میں جدیدیت، علامت نگاری، استعارہ، منظر نگاری، آزاد نظم اور فکری تجربات کو متعارف کراتے ہوئے اسے عالمی ادب کے جدید رجحانات سے ہم آہنگ کیا۔ ان کی شاعری محض الفاظ اور جذبات کی خوب صورت ترتیب نہیں بلکہ بلوچ سرزمین، اس کے پہاڑوں، صحراو¿ں، سمندروں، موسموں، تہذیب، محرومیوں اور اجتماعی احساسات کی ایک زندہ ادبی دستاویز ہے۔ عطا شاد کی مزاحمتی شاعری میں ظلم، ناانصافی، سماجی جبر، انسانی محرومی اور فرسودہ سماجی رویوں کے خلاف ایک گہرا فکری احتجاج دکھائی دیتا ہے۔ ان کی شاعری میں مزاحمت محض بلند آہنگ نعروں کا نام نہیں بلکہ شعور، سوال، تخلیقی آزادی اور انسانی وقار کے دفاع کا نام ہے۔ انہوں نے شاعری کو معاشرتی حقیقتوں کے ادراک اور اجتماعی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی بلوچ سماج کے فکری اور ادبی مباحث میں معنویت رکھتا ہے۔عطا شاد کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے بلوچی کے ساتھ اردو شاعری میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے اردو شعری مجموعے سنگاب اور برفاگ ان کے وسیع تخلیقی تجربے، منفرد اسلوب اور فکری وسعت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کی اردو شاعری میں بھی بلوچستان کی سرزمین، انسانی وجود، تنہائی، محبت، کرب اور زندگی کے پیچیدہ تجربات نمایاں ہیں۔ انہوں نے اردو شاعری کو بھی نئے استعاروں، منفرد تراکیب اور تازہ شعری اظہار سے مالا مال کیا اور یوں دو زبانوں کے ادبی سرمائے کے درمیان ایک تخلیقی رابطہ قائم کیا۔عطا شاد کی ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ تحقیق، تنقید، ترجمہ، ڈرامہ نگاری اور بلوچی زبان کی لغوی و ثقافتی روایت کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی اور تخلیقی جدوجہد اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کسی زبان کی ترقی صرف اس کے بولنے والوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس زبان میں تخلیق ہونے والے علم، ادب، تحقیق اور فکری وسعت سے وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں بلوچ زبان و ادب کی ترقی اور اسے ایک جدید ادبی شناخت دینے کے لیے وقف کیں۔ آج جب مادری زبانوں، ثقافتی شناخت اور مقامی ادب کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، عطا شاد جیسے ادبی رہنماو¿ں کے افکار اور تخلیقات کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، جامعات اور ادبی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ان کے فن و فکر پر تحقیقی سرگرمیوں، ادبی نشستوں اور مطالعاتی پروگراموں کو فروغ دیں تاکہ نئی نسل اپنی زبان، تاریخ، تہذیب اور ادبی ورثے سے مضبوط رشتہ قائم کر سکے۔ عطا شاد جیسے تخلیق کار کسی ایک عہد یا نسل تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کی فکر اور تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے علمی و ادبی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زبان محض ابلاغ کا وسیلہ نہیں بلکہ کسی قوم کی تاریخ، شناخت، اجتماعی حافظے اور فکری آزادی کی بنیاد ہوتی ہے۔ عطا شاد کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی تخلیقات کو پڑھیں، ان پر تحقیق کریں، بلوچی زبان و ادب کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کریں اور اپنی آنے والی نسلوں میں مطالعے، تخلیق اور تنقیدی شعور کی روایت کو مضبوط بنائیں۔ عطا شاد کا ادبی ورثہ بلوچ قوم کا قیمتی سرمایہ ہے اور ان کا نام جدید بلوچ ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔


