ٹھپہ کے زور پر غیر سیاسی قوتو ں کو عوام پر مسلط کردیا، کیچ نظریاتی سیاست کی وارث سرزمین ہے ،ڈاکٹرمالک بلوچ

تربت(نمائندہ انتخاب) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ،سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ کیچ نظریاتی سیاست کی وارث سرزمین ہے ،یہاں زر پرستی، مراعات اور لالچ کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی،جن قوتوں نے کیچ سے سیاست ختم کرنے کی کوشش کی تھی وہ دیکھ لیں نیشنل پارٹی ایک قومی قوت کے طور پر آج بھی منظم اور مضبوط ہے، میر حاصل بزنجو نے اپنی ساری زندگی جمہوریت اورجمہوری اصولوں کی بالادستی کیلئے گزاری اور زندگی کے آخری لمحہ تک بلوچستان کے قومی حقوق کی جدوجہد اور جمہوریت کی سربلندی سے غافل نہ رہے، ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کی شام تربت میں میر حاصل خان بزنجو کی یادمیں منعقدہ تعزیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، نیشنل پارٹی کیچ کے زیراہتمام تعزیتی جلسہ میں سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکنان اور عوام نے کثیرتعدادمیں شرکت کی، ریفرنس کی صدارت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ عوام کا نیشنل پارٹی پر بھر پور اعتماد ان قوتوں کے لیئے ایک بڑا چیلنج ہے جنہوں نے 2018ء کے الیکشن میں ٹھپہ کے زور پر غیر سیاسی قوتو ں کو عوام پر مسلط کردیاانہوں نے کہاکہ ہمیں کہا گیا کہ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیں لیکن میں نے اور میر حاصل خان بزنجو نے جمہوریت کی خاطر مراعات ٹھکرادیئے اور کہہ دیا کہ جو نعرہ آج نواز شریف کی شکل میں پنجاب لگارہا ہے ،یہ نعرے ہمارے نعرے ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کے لیئے ہم نے قربانیاں دیں اور جدوجہد کیا،ہم نے کسی جابر کے سامنے سر نہیں جھکایا بلکہ اپنے نظریات کا دفاع کیاجس کی قیمت آج نیشنل پارٹی کے بطو ر ایک منظم قومی قوت کے ہمارے سامنے ہے انہوں نے کہاکہ جن قوتوں نے سیاست کو ناکام بنانے کے لیئے 2018ء کا ڈاکٹرائن مرتب کیا تھا وہ بھی آج پریشان ہیں کیونکہ ان کاپلان بری طرح ناکام ہوگیا ہے، پاکستان میں بے روزگاری، مہنگائی اور کرپشن بے انتہا بڑھتی جارہی ہے، بلوچستان میں حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی، صوبائی حکومت یس مین بنی ہوئی مکمل بے اختیار ہے، اس سے پہلے ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف نے جو باپ بنایا تھا ان کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتایہ باپ جو صوبے پر مسلط کردی گئی ہے یہ بھی بہت جلد ختم ہو جائے گا اور سیاست پھر سرخرو ہوگی، انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے کٹھن سے کٹھن وقت کا مقابلہ کیا، یہاں سیاست نیشنل پارٹی کے لیئے شجر ممنوعہ تھی تب بھی ہمارے کارکنان میدان میں موجود رہے، نیشنل پارٹی کی عوامی طاقت روز بروز بڑھتی گئی اور آج ایک تناور درخت کی صورت میں قائم ہے، نیشنل پارٹی کے کارکنان میر حاصل خان بزنجو کی چہلم کے بعد ٹھپہ مافیا کے خلاف میدان میں آئیں گے اور یہ باور کرائیں گے بلوچستان اور پاکستان کے عوام کا مستقبل صرف اور صرف سیاسی قوتوں کے ہاتھو ں محفوظ رہے گی،انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی میر غوث بخش بزنجو کی سیاسی وارث ہے، ہم میر حاصل خان بزنجو، میر مولا بخش دشتی اور ڈاکٹر یاسین بلوچ کے نظریاتی سیاست کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ان کے طے کردہ اصول اور نظریات کے سہارے بلوچستان کے عوام کو غیر سیاسی عناصر کی شکل میں مسلط شدہ مافیا کے خلاف سینہ سپر ہیں، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ، سابق میئر تربت قاضی غلام رسو ل بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میر حاصل خان ایک فکر اور سیاسی فلسفے کا نام ہے، انہوں نے ہمیشہ پروگریسو سیاست کی اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف صف اول پر کھڑے ہو کر اپنا قومی کردار ادا کیا، میر حاصل خان بزنجو نے میر غوث بخش جیسے قد آور شخصیت سے نظریاتی اور اصولی سیاست سیکھا اور آخری دم تک اپنے نظریات پر قائم اورڈٹے رہے، انہوں نے کہاکہ جب مشرف نے پاکستان پر آمریت مسلط کی تو سب سے پہلی آواز میر حاصل خان بزنجو نے بلند کی اور پورے پاکستا ن میں سب سے پہلی پریس کانفرنس کر کے آمریت کو چلنج کی،ا س کی پاداش میں اسے جیل جانا پڑا لیکن اپنے اصول ،آدرش اور نظریات سے منہ نہیں موڑا، جب وہ کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا تھے تب بھی جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی جنگ میں اول صف پر موجود رہے، تعزیتی ریفرنس سے جے یو آئی کے صوبائی نائب امیر خالد ولید سیفی نے خطاب کرتے ہوئے میر حاصل خان بزنجو کو خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہاکہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیئے نیشنل پارٹی اور ان کی قیادت نے جو قربانیاں دی ہیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، میر حاصل خان بزنجو نے اصولی سیاست کا علم بلند کر کے پورے پاکستان کی سیاست کو سرخرو کیا، میر حاصل خان بزنجو کا فکر نظریہ عملی جدوجہد میں مشعل راہ بنے گا نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو فخر ہونا چاہیے کہ ان کے پاس میر حاصل خان بزنجو جیسا نظریاتی رہنما تھا اور ڈاکٹر مالک جیسے ثابت قدم لیڈر ان کے سربراہ ہیں، انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی کو منظم بنا کر ان کے کارکنان قومی خدمت کررہے ہیں، موجودہ دور میں نیشنل پارٹی جیسی قوت کا ابھر کر سامنے آنا ثابت کرتی ہے کہ لوگ غیر نظریاتی اور مراعاتی سیاست کو قبول نہیں کرتے، انہوں نے کہاکہ سیاست کو مافیا اور سوداگروں سے نجات دلانا وقت کی ضروت ہے ، جمہوریت کی بالادستی کی سیاسی جدوجہد میں مسلم لیگ، جے یوآئی اور نیشنل پارٹی ایک پیج پر کھڑے ہیں ،بہت جلد ملک میں مسلط شدہ غیر سیاسی مافیا کو شکست دیں گے، تعزیتی ریفرنس سے نیشنل پارٹی کے رہنما واجہ ابوالحسن، ناظم الدین ایڈوکیٹ، نثار احمد بزنجو، مسلم لیگ نواز کے صوبائی رہنما نواب شمبے زئی، بی ایس او پجار کے رہنما نوید تاج ،نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر محمد جان دشتی ، تحصیل تربت کے صدر فضل کریم بلوچ، آبسرکے رہنما شکیل احمد ودیگرنے خطاب کیا، ریفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مشکور انور نے سر انجام دیئے جبکہ تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاجی میجر نصیر احمد نے حاصل کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں