بی زیڈ یو میں بلوچستان کے طلبا کو درپیش مسائل حل کئے جائیں، وکلا کی یکجہتی و مطالبہ
ملتان میں بلوچ طلبا کی جانب سےاحتجاجی کیمپ کو اکتیس دن گزرگئے ہیں تاحال کسی قسم کی پیش رفت کی بابت خبر نہیں ملی البتہ طلبا کے مطابق وزیراعلی بلوچستان کےایکشن لینے اور ان کا پنجاب کے گورنرسےاس مسئلے پربات کرنا اس امر کی غمازی ہے کہ مسئلہ حل کی طرف جارہا ہے
درایں اثنا !یہ احتجاجی کیمپ بی زی یو کی طرف سے بلوچستان اورسابقہ فاٹا کےطلبا سےفیس لینے کی پالیسی کےخلاف لگایا گیا ہے اور ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے طلبا کےلیے کوٹے پرسکالرشپ سمیت ان کےلیے کوٹے کی مانگ بھی اسی احتجاجی کیمپ کے مقاصدمیں سے ہے
مگرتاحال وزیراعلی پنجاب کی جانب سےڈی جی خان اور راجن پور کےقبائلی علاقوں کےکوٹے پرسکالرشپ سمیت کوٹے پراضافہ پرکوئی نوٹس نہیں لیاگیا حالانکہ وزیراعلی پنجاب کےآبائی حلقے کے نوجوان اس احتجاجی کیمپ کے منتظمین میں سے ہیں
واضح رہے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کےطلبا ملک بھر کے بلوچ کونسلز کے ممبرزہیں اور کونسلز کے اعلیٰ ترین عہدوں پہ بھی فائزرہے ہیں
یادرہے ہائی کورٹ بار ایسویسی ایشن بلوچستان کےسابق نائب صدر احمل قاضی ،سپریم کورٹ بارایسویسی ایشن کے وکلا عبدالرازاق بلوچ اور عبدالمالک بلوچ نےاحتجاج کیمپ کا دورہ کیا،طلبا کےساتھ اظہاریکجہتی کی
انہوں نےحکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان طلبا کے مسئلے کوحل کرنے کےلیے سنجیدہ کوششیں بروکارلائے تاکہ نئےآنےوالے طلبا اپنی کلاسیں بروقت لےسکیں
انہوں نےحکومت بلوچستان اور پنجاب سے پرزوراپیل کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پڑھنے والے طلبا کےلیے حکومت سہولت کااہتمام کرے تاکہ طلبا اپنی پڑھائی پرمکمل توجہ دیں نہ کہ احتجاج میں اپناوقت ضائع کریں
اس موقع پر بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کےچیرمین وقاربلوچ نےاظہارِیکجہتی کرنے پروکلا برادری کا شکریہ کیا اور اس عزم کااظہار کیاجب تک ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوتاتب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا
جبکہ دوسری جانب لاہور میں بھی طلبا کےسکالرشپ کی بحالی کے لیے پنجاب یونیورسٹی کےسامنے ایک احتجاجی کیمپ کااہتمام کیا گیا ہے جن کا مطالبہ ہے کہ ان کےخلاف یونیورسٹی کی جانب سے کاٹے گئےایف آئی آر واپس لیےجائیں اور دوردراز علاقوں کے طلبا کےلیے ہاسٹل دوبارہ کھولا جائے
واضح رہے بلوچ کونسل لاہور کی طرف سے اس احتجاجی کیمپ کے تین دن مکمل ہوچکے ہیں جس کی بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان نے مکمل حمایت کی
یادرہےبلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان کےترجمان مزمل بلوچ نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ہم لاہور میں بیٹھے ہوئے بلوچستان اور سابقہ فاٹا کےطلبا کےساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہیں اوران کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں
انہوں نے حکومت سےمطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ بلوچستان اور سابقہ فاٹا کےطلبا کے مسائل کوحل کرنے کے لیے سنجیدگی دکھائیں بصورت دیگر طلبا سخت لائحہ عمل دینے پر مجبور ہوں گے چاہے وہ بھوک ہڑتال کی شکل میں پو یاملک بھر میں احتجاج کی شکل میں ہو


