ملتان: طلبہ کے احتجاج کو 34دن بیت گئے، کوئی پرسان حال نہیں
بلوچ طلبا کونسل ملتان کااحتجاجی کیمپ چونتیس دنوں سے جاری ہے مگرتاحال کسی قسم کی مثبت پیش رفت کی خبر نہیں ملی
واضح رہے بی ایس سی ملتان کے چیرمین وقاربلوچ نے گدان ٹی وی کے پروگرام شمس الدین شمس ءَ گو تران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اور حکومت کی طرف سے ہمارےمسئلے کوحل کرنے کی بھرپور یقین دہانی کی گئی تھی مگراب یونیورسٹی اس مسئلےسے لاتعلق ہوچکی ہے البتہ یونیورسٹی نےاحتجاج ختم کرنے کی شرط پر بات چیت کا کہاتھا جس کاواضح مقصد ہمارےاحتجاجی کیمپ کے مقاصدکوسبوتاژکرنا تھا البتہ اب حکومت نے احتجاج ختم کرنےکاکہا ہے کہ آپ کامسئلہ حل ہوگا احتجاج ختم کریں مگرہم نے ان کی سابقہ وعدوں کی بنا پراحتجاج ختم کرنے پراتفاق نہیں کیا کیونکہ ہم جانتے ہیں یہ احتجاج ختم کرنے کے بعدکچھ نہیں کرتے یہ ہمیشہ طفل تسلی دیتے ہیں
انہوں نےباقی کونسلوں اور تنظیموں سےاتحاد کی بابت بات کرتے ہوئے کہا کہ
ہمارے کونسلوں کاکوئی مرکزی اتحاد نہیں اور نہ ہی بلوچ طلباتنظیموں کا کوئی ایسا اتحاد ہے جو مشترکہ لائحہ عمل پرکام کررہے ہیں البتہ ان سے ہمارا رابطہ ہے ،انہوں نے ہمارے لیے کوئٹہ،اسلام آباد،لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں البتہ اب ہمیں اتحادکی جانب جاناچاہیے
انہوں نے ریزوسیٹوں پرسکالرشپ کےخاتمے پرنقصانات کےسوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ اس کابہت بڑانقصان ہوگا،ہمارے طلبا بہت غریب ہیں اورپنجاب کے تعلیمی مراکز میں فیسوں کووہ ادا نہیں کرسکتے اوربلوچستان میں تعلیمی اداروں کی کمی کی وجہ سے ہمارے علاقے کے ترقی کےلیے لازمی ہے اگر یہ ختم ہوئے توہمارے علاقے تعلیمی ترقی میں پیچھے رہ جائیں گے جس کاخمیازہ شرح خواندگی میں کمی کی صورت میں بھگتیں گے اور تعلیم یافتہ افراد کی کمی کی صورت میں بھگتیں گے
یادرہے!بلوچ طلبا کےاحتجاج کوچونتیس سےزائددن گزرچکے ہیں مگرتاحال کسی قسم کی شنوائی نہیں ہورہی
طلبا کے مطابق ان کے مطالبات میں سکالرشپ کی بحالی سمیت ڈیرہ غازی خان اورراجن پور کےقبائلی علاقوں کےلیے سکالرشپ کااہتمام بھی شامل ہے اوراس کےساتھ قبائلی علاقوں کےلیے یونیورسٹی کےہرشعبے میں کوٹامختص کرنا بھی ان کےمطالبات میں شامل ہے


