یہ جوڑی نہیں چل سکتی۔۔۔۔۔

تحریر: رشید بلوچ
سیاسی دنیا بے رحم ہے اسکے سینے میں دھڑکنے والا دل احساس سے عاری ہے،سیاست کی دنیا میں ابدی دوستی و دشمنی کا کوئی کنسپیٹ نہیں،کٹر مخالفین ماضی کی ریشہ دوانیاں بھول کر دوست بن چکے ہیں،جبکہ ماضی کے دوست آج دشمنی واختلاف کے ڈگر پر چل نکلے ہیں،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کبھی یکجاہ نہ ہوتے اگر تحریک انصاف نام کا لشکر دونوں کو روند کر منصب اقتدار نہ سنبھالتا، سیاست کے بے رحم موجوں نے پی ڈی ایم کے منچ پر دو بڑی جماعتوں کو یکجاہ کر دیا ہے اور مزید 11جماعتیں اس اکٹھ میں شامل ہیں جن کا واحد مقصد نومولود تحریک انصاف کا رستہ روکنا ہے، مختلف الخیال جماعتیں اپنے اپنے مقاصد پیش نظر رکھ کر قافلے کے ساتھ ہو چلے ہیں،پی ڈی ایم نے اب تک تین بڑے عوامی اجتماع کئے ہیں،گوجرانوالہ کا جلسہ بغیر کسی تضاد اور رکاوٹ کے وقوع پزیر ہوا لیکن کراچی جلسے میں مشہور زمانہ“اغوا کاری“ کا واقعہ پیش آیا بقول پی ڈی ایم یہ انکی موومنٹ کو پارہ پارہ کرنے کی“سازش“ تھی جب کہ حکومتی موقف ہے کہ“مغوی”اپنے اغوا کا اقرار نہیں کررہا تو اسکا مطلب اغواکاری کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا،پیپلز پارٹی انکوائری کر رہی ہے جب کہ ن لیگ نہیں چاہتی کہ انکوائری ہو،اس سارے Episode میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے اس کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔۔۔۔
پی ڈی ایم کے کوئٹہ جلسے میں ن لیگ کے اندر ناراضگی کا عنصر شامل ہوگیا ہے،صوبائی قیادت اپنی لیڈر شپ سے اس لیئے منہ پھیر کے بیٹھی ہے کہ انہیں عوامی رونق میں شامل ہونے کیلئے card Invitation موصول نہیں ہوا تھا،اس ناراضگی کی وجہ بھی دلچسپ ہے،نواب ثنا اللہ زہری ن لیگ کے سابق صوبائی صدر اورسابق وزیر اعلی ہیں،سردار اختر مینگل اور نواب ثنا اللہ زہری کے درمیان علاقائی رنجش عرصے سے چلی آرہی ہے لیکن 2013 کے بعدسے اس رنجش میں گہرا چھاپ پڑ گیا ہے اس لیئے یہ بات ہر بلوچستانی کے علم میں تھی کہ یہ دونوں قبائلی سردار ایک اسٹیج پر نہیں بیٹھ سکتے تو ظاہر سی بات ہے نیشنل پارٹی،پشتونخوا میپ اور جمعیت کو اسکا ادراک ہوا ہوگا،نواب ثنا اللہ زہری کا جلسے میں شریک نہ ہونا ایک بہترین فیصلہ تھا اسکے بر عکس جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کے ساتھ بی این پی یا سردار اختر مینگل کی خدا نخواستہ ایسی کوئی قبائلی رنجش سرے سے موجود ہی نہیں ہے تو بطور صوبائی صدر مسلم لیگ ن بی این پی یا سردار اختر مینگل کو جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کی جلسے میں موجودگی سے کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئیے تھا،بلکہ بی این پی نے عبدالقادر بلوچ پر کوئی اعتراض اٹھا یا بھی نہیں تھا تو اسکے باوجود عبدالقادر بلوچ کا جلسے میں شریک نہ ہونا اور الٹا ناراض ہونے کا جواز پیدا کرنا سمجھ نہ آنے والی بات ہے، ممکن ہے عبدالقادر بلوچ نے نواب ثنا اللہ زہری کو نہ بلانے پر احتجاجاً جلسے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہو لیکن یہ ناراضگی اتنی بڑی نہیں ہے کہ پارٹی چھوڑنے کی نوبت تک پہنچا جائے، جس ناراضگی کا اظہار عبدا لقادر بلوچ کرر ہے ہیں اس ناراضگی کا اظہار نواب ثنا اللہ زہری کو کرنا چاہئے تعجب ہے جہاں نواب ثنا اللہ کو ناراض ہونا چاہئے تھا اسکی جگہ ن لیگ کے صوبائی صدر عبدالقادر بلوچ ناراض ہوگئے۔۔۔۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں 25 اکتوبرکو مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوا ز کا کوئٹہ میں پہلا جلسہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل 25 جولائی 2019 کو بھی ہاکی گراؤنڈ میں نیشنل پارٹی اور پشتونخوا میپ کی میزبانی میں مریم نواز نے ایک جلسہ کیا تھا،ایک سال قبل ہونے والے جلسے میں نواب ثنا اللہ زہری بلوچستان میں مسلم لیگ ن کا صدر ہوا کرتا تھا اس وقت بھی بطور صوبائی صدر نواب ثنااللہ زہری جلسے میں شریک نہیں ہوئے تھے، 2019 کے جلسے میں نہ تو بی این پی موجود تھی اور نہ ہی سردار اختر مینگل جلسے کی میزبانی کر رہے تھے،بلکہ بی این پی ایک سال قبل ہونے والے جلسے میں تو تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ تھی،ماضی اور حال کا پس منظر بتا رہا ہے کہ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ صاحب کی نارضگی کا کوئی جواز پیدا نہیں ہورہا ہے در اصل معاملہ یہ ہے کہ ن لیگ کی صوبائی قیادت نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیہ کے ساتھ چلنے کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے،نواب ثنا اللہ زہری اور بلوچستان کی موجودہ قیادت (تادم تحریر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے استعفی نہیں دیا ہے) اس لیئے میرامراد قیادت سے عبدالقادر بلوچ ہے،شہباز شریف کے قریبی مانے جاتے ہیں،بلوچستان کی قیادت ن لیگ کے اس گروپ کا حصہ ہے جن کا خیال ہے کہ نواز شریف کے سخت بیانیے کے ساتھ چلنا محال ہے، یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ جلسہ میں شرکت نہ کرکے ایک نرم پیغام دیا گیا ہے۔۔۔۔
شنید یہی ہے کہ دوسری جانب لیگی قیادت نے 25 اکتوبر کے جلسے میں مسلم لیگ ن کی انتہا درجے کی کم موجودگی کے بعد فیصلہ کیا تھا بلوچستان میں پارٹی کااز سر نو جائزہ لیا جائے،پرانے لیگیوں پر مشتمل ایک نئی صوبائی کابینہ تشکیل دیا جائے جو نواز بیانیہ ساتھ لیکر آگے چلنے والے ہوں، بلوچستان کی موجودہ قیادت کو اس بات کی بھنک لگ گئی تھی کہ بزود بلوچستان میں انکی جگہ کوئی اور گروہ لینے جارہا ہے اس سے پہلے کہ انہیں قیادت کی زمہ داریوں سے فارغ کیا جائے انہوں نے از خود ایک ہفتہ بعد کوئٹہ جلسہ کو بنیاد بنا کر جماعت سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔
بعض معاملات میں انسان کا باڈی لینگویج بہت کچھ بتا تا ہے،جنرل عبدالقادر بلوچ کے استعفے سے متعلق جب احسن اقبال سے پوچھا گیا تو کسی زاویے سے نہیں لگ رہا تھا کہ احسن اقبال کو صوبائی قیادت کے چھوڑ جانے پر کوئی ملال یا افسردگی ہے بلکہ انہوں نے دو ٹھوک الفاظ میں کہا کہ انکی مرضی ہے رہنا چاہیں یا چلے جائیں، اس سے اندازہ لگا نا مشکل نہیں کہ مرکزی قیادت اپنی صوبائی قیادت سے زیادہ مطمئن نہیں ہے بلکہ اس بات پر خوشہے وہ خود جانے کی بات کر رہے ہیں، پارٹی چھوڑ جانے پر دونوں طرف کی رضا مندی شامل ہے صرف چھوڑ جانے کے جواز گڑھے جارہے ہیں،مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے دبے الفاظ میں یہ بھی کہہ رہی ہے کہ نواب ثنا اللہ زہری نے ن لیگ کے صوبائی صدر ہوتے ہوئے بھی اپنے چھوٹے بھائی نعمت اللہ زہری کو عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا کر انہیں تحریک انصاف میں شامل کرا دیا، ن لیگ کی مرکزی قیادت سمجھ رہی ہے کہ نواب ثنا اللہ زہری نے برے حالات میں نواز شریف کا ساتھ دیا انہیں وزارت اعلی کی منصب تک دلوائی،اس بر عکس ایک بلوچ نواب نے کھٹن حالات میں نوازشریف کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اسکے سخت ترین مخالف جماعت میں اپنے بھائی کو شامل کروایا،ن لیگی قیادت کا یہ بھی خیال ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے دنوں میں نواز شریف نے نواب ثنا اللہ کو سختی سے کہا تھا کہ استعفی دینے کے بجائے تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں لیکن نواب ثنا اللہ زہری نے دباؤ کا سامنا کرنے بجائے استعفی دینے کو ترجیح دی،یہ جو دوریاں اور ناراضگی آن ہیں یہ ن لیگ مرکزی اور صوبائی قیادت میں تحریک عدم اعتماد کے بعد شروع ہوئی تھیں اب معاملات کھل کر سامنے آگئے ہیں صوبائی اور مرکزی قیادت یکسو ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ آگے نہیں جایا جاسکتا،اس لئیے بہتر یہی ہے کہ طے کیا گیا رفاقت یہی ختم ہوں،۔۔۔۔
اس لئے کہا جاتا ہے سیاست میں مستقل دوستی اور دشمنی نہیں ہوتی،سیاست کا یہ بے رحم کھیل چلتا رہے گا چھوڑ کر جانے والے کسی اور چھتری کا سایہ ڈھونڈیں گے نئے آنے والے انکی جگہ پائیں گے،
یہ کھیل یوں ہی چلتا رہے گا۔۔ چلتا رہے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں