سب صلح کریں گے؟
تحریر: انور ساجدی
میاں نوازشریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہے لیکن وہ ولایت میں مقیم ہونے کی وجہ سے پاکستانی حکام کی دسترس سے باہر ہیں باالفرض محال اگر وہ واپس بھی آجائیں زیادہ سے زیادہ انہیں جیل میں رہنا پڑے گا انہیں دفعہ 6کی سزا دی نہیں جائے گی کیونکہ پنجاب کے سب سے بڑے لیڈر کو پھانسی لگاناکوئی آسان کام نہیں اسی طرح سابق اسپیکر سردار ایازصادق کیخلاف بھی حکام دفعہ6کے تحت مقدمہ درج کرکے کارروائی کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کاجرم اتنا سنگین نہیں کہ انہیں پھانسی لگادی جائے حالانکہ نوازشریف کے مقابلے میں ایاز صادق کو پھانسی لگانا زیادہ آسان ہے ایک تو وہ نوازشریف جتنے بڑے لیڈر نہیں دوسرے یہ کہ وہ کشمیر کے سدھن ہیں جو درانی کشمیر پر حملہ کرنے گئے تھے وہ سدوزئی تھے اس لئے کشمیر میں ان کا نام سدھن پڑھ گیا برادرمحترم بشیر سدوزئی نے کشمیر کے سدوزئی قبیلہ کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے وہ کافی عرصہ انتخاب میں کام کرتے بھی رہے انکے بھائی سردارمسعود خان آج کل آزاد کشمیر کے صدرہیں ایاز صادق کے بارے میں ایک خاص بات لوگ نہیں جانتے وہ بنیادی طور پر کشمیری بلوچ ہیں لیکن سدھنوں کے ساتھ رہنے اور رشتہ داری کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو سدھن کہتے ہیں اور لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ کشمیر میں بلوچوں کی تھوڑی سی تعدادموجود ہے ایک جگہ کا نام بھی بلوچ ہے بلوچوں کی زیادہ تعداد رئیسانی قبیلہ پر مشتمل ہے لیکن معلوم نہیں کہ یہ کس دور میں وہاں گئے تھے اور وہیں کے ہوگئے بہر حال اگرحکام بالا سردارایاز صادق کو پھانسی لگاکر یہ تاثر قائم کرنا چاہیں کہ پہلے دیگرصوبوں کے لیڈر پھانسی چڑھتے تھے ہم نے پنجاب کے ایک لیڈر کو پھانسی چڑھاکرحساب برابر کردیا تو بات بنتی ہے ایک کمزور کشمیری بلوچ کو پھانسی چڑھانا کونسا مشکل کام ہے۔میراذاتی خیال ہے کہ ایاز صادق نے جوش خطابت میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ٹانگیں کانپنے کی بات کی تھی لیکن شیخ رشید سمیت حکومتی زعماء کااصرار ہے کہ انہوں نے نوازشریف کے کہنے پر پسینے میں شرابور ہانپنے کانپنے اورٹانگیں کانپنے کی بات کی ہے شیخ رشید کے مطابق چونکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ ہفتہ ڈائیلاگ کی تجویز پیش تھی اس لئے نواشریف نے ردعمل کے طور پر سردارایاز صادق کو لانچ کردیا ویسے ایازصادق کوایک تقریر سے جتنی پبلسٹی ملی ہے اور ساری دنیا میں جس طرح انکی مشہوری ہوئی ہے وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے اگرانہیں نوازشریف نے مخصوص تقرر کی ہدایت کی تھی تو کیا ہوا نوازشریف توبڑے سکون سے لندن میں بیٹھے ہیں اور ہفتہ میں ایک آدھ شرارت کرکے پوری حکومت کو حواس باختہ کئے ہوئے ہیں اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے حکام ادھر سے ادھر بھاگ رہے ہیں درجنوں وزیرمشیر پریس کانفرنس کرچکے ہیں جبکہ داخلہ کے وزیراعجاز شاہ نے تو مشورہ دیا ہے کہ نوازشریف اور انکے ساتھی انڈیا چلے جائیں لاہورمیں راتوں رات ایازصادق کے ہزاروں پوسٹرآویزاں کئے گئے جس میں انہیں میرجعفرصادق اورغداروطن قراردیا گیا ہے لیگی متوالوں نے جب پوسٹر لگانے والوں کو پکڑ لیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ پوسٹر صوبائی وزیراورعمران خان کے قریبی ساتھی علیم خان نے انہیں لگانے کیلئے دیئے تھے جی ہاں یہ وہی علیم خان ہیں جنہیں نیب نے اربوں روپے کے کرپشن اور لندن میں جائیدادیں چھپانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن رہائی کے بعد نیب نے پلٹ کر بھی نہیں پوچھا اور نہ ہی انہیں پیشی پربلایا بلکہ اسی دوران علیم خان نے زمان پارک میں واقع عمران خان کا پرانا مکان گرادیا اور ایک نیامحل کھڑا کردیا لیکن کسی ادارے نے نہیں پوچھا کہ تعمیرات پر خرچ ہونیوالے کروڑوں روپے کہاں سے آگئے یہ ہے احتساب یہ ہے کہ انصاف
دوہرے انصاف کانظام شروع سے قائم ہے لوگ جلد یا بدیردیکھیں گے کہ جو لوگ آج معتوب اورغدار ہیں مقتدرہ انہی سے صلح کے بعد انہیں پسندیدہ اور معصوم قراردے گی یہ کھیل پیپلزپارٹی کے ساتھ کئی مرتبہ کھیلا گیا ہے اس مرتبہ یہ کھیل قلب پنجاب کی پارٹی ن لیگ کے ساتھ کھیلاجارہا ہے وجہ یہ ہے کہ نوازشریف نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ اقتدار کے مکمل مالک وہی ہونگے اور مقتدرہ کو اس میں شریک نہیں کریں گے بھلا یہ کیسے ہوسکتا تھا مقتدرہ نے سوچا کہ ”ہماری بلی ہم ہی کومیاؤں“ اس لئے انہیں ذلیل کرکے نہ صرف اقتدار سے باہر کیا گیا بلکہ سزائیں دلواکر مستقبل کاراستہ بھی بند کردیا گیا لیکن میاں صاحب نے ناتجربہ کار حکومت اور تجربہ کار مقتدرہ دونوں کو جُل دے کر لندن پہنچنے میں کامیابی حاصل کرلی وہاں بیٹھ کر10ماہ تک انہوں نے مقتدرہ سے صلح کی بے پناہ کوشش کیں لیکن جب بات نہ بنی تو انہوں نے ”دمادم مست قلندر“ کافیصلہ کیا اے پی سی میں ان کا خطاب گوجرانوالہ اورکوئٹہ کے جلسوں میں مقتدرہ کو چیلنج ایک قیامت خیز عمل تھا نازک مزاج مقتدرہ کو اس کی عادت نہیں تھی اس لئے وزیراعظم کو ہدایت کی گئی کہ کچھ کرو توانہوں نے ٹھوڑی پرہاتھ لگاکر کہا کہ وہ نوازشریف کو واپس لاکر سخت ترین جیل میں ڈال کر دم لیں گے لیکن چوہدری اعتزاز احسن کے مطابق حکومت نے برٹش حکومت کو خط لکھ کر اورایک وفاقی وزیر غلام سرور خان نے یہ کہہ کر کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کے سرقلم ہونے چاہئیں نوازشریف کی واپسی کاراستہ بند کردیا کیونکہ انگلینڈ میں لوگ جان کاخطرہ ظاہر کرکے پناہ لیتے ہیں چہ جائیکہ کے تین مرتبہ کے وزیراعظم کو وہ اپنے ملک سے نکال دیں نوازشریف جو کچھ کررہے ہیں جان بوجھ کرکررہے ہیں انکی حکمت عملی ابھی تک کامیاب ہے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انکی حمایت کوتوڑنے کی کوشش کی جائے گی اورمقتدرہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے مشرف نے ن لیگ کو توڑ کر ق لیگ بنوایا تھا پیپلزپارٹی کے اندر سے ایک لوٹا گروپ ”پیٹریاٹ“ بنایا گیا تھا پنجاب اوربلوچستان سے ن لیگ میں اختلافات شروع ہوگئے ہیں جنرل قادر اور نواب ثناء اللہ علیحدہ ہونیوالے ہیں لیکن جو لوگ ساتھ نہ دیں نوازشریف کیلئے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ24اکتوبر کی رات کو جب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ اخترمینگل اور ثناء اللہ زہری میں سے کس کا انتخاب کیاجائے تو نوازشریف نے کسی توقف کے بغیر کہا کہ اخترمینگل کا انتخاب کیاجائے کیونکہ جنرل قادر اور ثناء اللہ ویسے انہیں چھوڑچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ اخترمینگل نے رائے ونڈ جاکر مریم نواز کاشکریہ ادا کیا میراذاتی خیال ہے کہ جب حکومت گھیرا تنگ کرے تو آدھے سے زیادہ مسلم لیگی اراکین پارلیمنٹ ساتھ چھوڑدیں گے اگرخواجہ سیالکوٹی نے ساتھ نہ چھوڑا تو یہ معجزہ ہوگا میاں شہبازشریف تو پہلے ہی ساتھ چھوڑدیا ہے انہوں نے جان بوجھ کر عدالت سے اپنی ضمانت کی درخواست واپس لے لی تاکہ وہ جیل میں رہے اور تحریک چلانے کیلئے ان پر کوئی پریشر نہ آئے البتہ حکام بالا ان پر بھی پریشر بڑھارہے ہیں۔انکے بیٹے حمزہ شہباز کو بکتربند گاڑی میں ڈال کر احتساب عدالت لانے کی کوشش کی گئی جب وہ نہیں آئے تو حکام بالا سیخ پا ہوگئے اندازہ ہے کہ جیل میں ان کی خاطر تواضح شروع کردی گئی ہوگی آئندہ پیشی میں انہیں پولیس کی وین میں لایاجائیگا تاکہ مسلم لیگی کارکن اور رہنما خوفزدہ ہوجائیں اور ان کے والد کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجائے ان پر دباؤ ڈالا جائیگا کہ وہ بڑے بھائی سے قطع تعلق کرکے پارٹی کو اپنے نام رجسٹرڈ کروالیں اسی لئے وزیر اطلاعات جناب شبلی کوہاٹی نے مشورہ دیا ہے کہ پارٹی رہنما مائنس ون کرکے مسلم لیگ پاکستان بنائیں اسی دوران مریم نوازبھی ن لیگ کی رجسٹریشن اپنے نام کروانے کی کوشش کریں گی اگر ن لیگ کے اہم رہنماؤں نے حکام بالا کی بات نہیں مانی تو بیشتر نیب کے مقدمات میں اندرجائیں گے اور کچھ عرصہ تک مرچ کی چکی پیسنے کے بعد معافیاں مانگ کر جان خلاصی کریں گے کیونکہ بیشتر ن لیگی مقتدرہ کے ”نازوں“ میں پلے ہیں انہوں نے کب قیدوبند اور جیل کی صعوبتیں دیکھی ہیں۔
ضیاء الحق کے دور میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ انہیں پہلے ”چکر“ میں لے جاؤ اور ان کی خوب خاطر تواضع کرو جب ہم چکر پہنچے تو بھولوپہلوان نماجلادڈنڈے اورکوڑے لیکر تیار کھڑے تھے اس سے پہلے کہ کچھ ہوجاتا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محترم یعقوب نوشیروانی دوڑ کر آئے اور کہا کہ یہ صحافی ہے اسے الگ کرو اسکے بعد جو ہوا کارکنوں کی دلدوز چیخیں دوربیرکوں تک آنے لگیں ملکوں کی تاریخ میں مارشل لاء اورآمریتوں کیخلاف شائد کسی نے ایسی جدوجہد کی ہو جو پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے کی ہے میراخیال ہے کہ مسلم لیگ کی ایسی روایت اور ایسی شریعت نہیں ہے پیپلزپارٹی والوں نے تو ہزاورں کوڑے کھائے لیکن یہ تو ایک چابک بھی برداشت نہیں کرسکتے پارٹی رہنما اور مقتدرہ دونوں جانتے ہیں کہ یہ وقتی لڑائی ہے کیونکہ پنجاب کے ن لیگی انکے ”انپڑے“ ہیں اپنوں کوشرارت پر تھپڑ تو رسید کیاجاسکتا ہے کوڑوں اور پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکتی بالآخر ان اپنوں کی صلح ہوجانی ہے کچھ عرصہ بعد تو تبدیلی آنی ہے ضروری نہیں کہ آنے والے بھی وہی رویہ اپنائیں جو موجودہ حکام بالا اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پنجاب کے عوام بیشک سختیاں برداشت نہ کریں لیکن وہ زمانہ امن میں نوازشریف کے پیروکار ہیں اور ن لیگی کوصفحہ ہستی سے مٹانا خام خیالی ہے اس لئے اول آخر صلح تو کرنی پڑے گی نوازشریف جانتے ہیں کہ پنجاب کے عوام انکے ساتھ ہیں وہ اپنی جماعت کی کمزوریاں بھی جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ یہ جماعت مشکل وقت اورجنگی صورتحال میں ٹھہرنے والی نہیں ہے اسی لئے ان کا انحصار مولانا اور پی ڈی ایم پر ہے جبکہ پی ڈی ایم کا انحصار بلاول اور پیپلزپارٹی پر ہے پاکستانی مفاداتی سیاست کا تقاضہ ہے کہ اگر حکام بالا گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا راستہ نہ روکیں تو بلاول کو موجودہ موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے انہیں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ کی تحریک کاساتھ تودینا چاہئے لیکن مستقبل میں اپنے جماعتی مفادات کو دیکھنا چاہئے اسے ریڈزون کراس کرنے سے گریز کرنا چاہئے باالفرض محال اگر کل مسلم لیگ برسراقتدار آجائے تو سندھ میں اپنی پرانی سیاست بحال کردے گی لوگ دیکھیں گے کہ جی ڈی اے کے سیاسی مسافر ایم کیوایم اورتحریک انصاف کی باقیات پیپلزپارٹی کیخلاف ن لیگ سے مل جائیں گے اسی طرح ن لیگ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے دوبارہ احیاء کا راستہ روکے گی وہ پشتونخوا میں دوبارہ اے این پی اور دیگرجماعتوں سے مل کر پیپلزپارٹی کی بیخ کنی کاکام کرے گی یہ بات یقینی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سرائیکی علاقہ یا ساؤتھ پنجاب دوبارہ پیپلزپارٹی کی جانب لوٹ جائیگا یہ احیاء بھی ن لیگ کو ہضم نہیں ہوگا کیونکہ یہی جماعتیں پہلے بھی ایک دوسرے کی حریف تھیں اور مستقبل میں بھی ہونگی لہٰذا پیپلزپارٹی اپنی حکمت عملی موجودہ اور آئندہ پیش آمدہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیکربنائے اور جو مواقع آرہے ہیں ان سے فائدہ اٹھائے کیونکہ پاکستان میں کوئی نظریاتی سیاست نہیں ہے سب کا مقصدحصول اقتدار یا اقتدار میں شراکت داری ہے جہاں تک سیاست میں مداخلت کا تعلق ہے تواسے ختم ہونے میں طویل عرصہ لگے گا البتہ پی ڈی ایم کی تحریک اسکی بنیاد ضرور ڈالے گی۔


