آج کیا معجزہ ہوگا؟

تحریر:انورساجدی
ڈونلڈ ٹرمپ آج جیت جائے یا ہار جائے دنیا پر اس کے گہرے اثرات ہونگے کمال کے آدمی ہیں داناؤں نے انہیں غیر روایتی حکمران قرار دیا ہے منہ پھٹ بدلحاظ میڈیا کا دشمن کالے اور رنگدار لوگوں کے ساتھ نفرت کاروبار اور دولت سے محبت اتنے سخت گیر ہیں کہ امریکہ جیسے ملک میں دو بیویوں کی اولاد اکٹھے رہتی ہیں گھر داماد بھی رکھے ہوئے ہیں ان کی جوائنٹ فیملی سسٹم ابھی تک برقرار ہے صاف گو اتنے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل فرما رہے تھے کہ سعودی بادشاہ انہیں بہت پسند ہیں کیونکہ ان کے پاس دولت بہت ہے ہم سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدتے ہیں حالانکہ اس اسلحہ کی انہیں ضرورت بھی نہیں مزید کہا کہ سعودی شاہی خاندان کی سیکورٹی ہمارے ہاتھ میں ہے اگر ہم ہاتھ کھینچ لیں تو شاہی خاندان کا اقتدارتو دنوں میں ہی ختم ہوجائے ٹرمپ کے دیگر کمالات بھی بہت ہیں مختلف ممالک اور خاص طور پر عرب بادشاہوں کو لوٹنے کا فن بہت جانتے ہیں اسی وجہ سے امریکہ کی معیشت ڈوبنے سے بچ گئی اور بیروزگاری میں بھی کمی آگئی لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب شمالی امریکہ کے صدر بوائے ان نے میزائل داغے تو ٹرمپ نے کہا کہ اس گول مٹول پاگل کی اب خیر نہیں ہے شمالی کوریا کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا لیکن چند ہفتوں کے بعد وہ کم ان سے مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے ایران نے جب سعودی اہداف کو نشانہ بنایا تو ٹرمپ ایک بڑا بحری بیڑہ لیکر مشرق وسطیٰ آگئے سب نے سوچا کہ اب ایران کی خیر نہیں ہے لیکن وہ فوج اور اسلحہ کا تاوان وصول کرنے کے بعد چپ ہوگئے جیسے کچھ ہوا نہیں ہے ٹرمپ سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں جھونک کر بڑے مزے میں رہے سعودی عرب کا سارا محفوظ سرمایہ چٹ کرگئے وہ جتنا میڈیا پر گرجتے ہیں ان کا دھمکی آمیز لہجہ اتنا دھیما ہوتا ہے کہ بہت کم اونچی آواز میں بات کرتے ہیں مخالفین کی نقل بھی دلچسپ انداز میں اتارتے ہیں انہوں نے ایک مرتبہ نریندر مودی کی بہترین نقل اتاری ٹرمپ نے آتے ہی کہا کہ طالبان کو تہس نہس کردوں گا لیکن پھر انہوں نے دوحہ میں ان سے مذاکرات کئے اور امن کا معاہدہ کرلیا غرض کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت دنیا کے واحد رنگ رنگیلا دلچسپ اور رنگین مزاج حکمران ہیں اگر وہ اقتدار سے رخصت ہوگئے تو کوئی کمی محسوس ہوگی لوگوں کا حس مزاح اور جمالیاتی ذوق مر جائیگا ان کی وجہ سے کرہ ارض کافی دلچسپ لگ رہی ہے چونکہ جوانی میں پلے بوائے تھے اپنے لیڈر عمران خان کی طرح نامی گرامی ریسلر سے کشتیاں لڑواتے تھے جوا بھی کھیلتے تھے جیسے ہمارے رہنما کرکٹ میں جوا کھیلتے تھے اس لئے اگر وہ ہار بھی گئے تو کچھ ”دلچسپ“ کرکے جائیں گے پہلے سے کہہ رکھا ہے کہ پوسٹل بیلٹ پر انہیں اعتبار نہیں ہے دھاندلی اسی کے ذریعے ہوتی ہے یہ بھی فرمایا کہ ووٹوں کی گنتی کا طریقہ کار غلط ہے اس میں گڑبڑ کی جاتی ہے یعنی وہ انتخابی نتائج کو رد کرنے کیلئے پیشگی تیار ہیں جاتے جاتے ایسا ڈرامہ کریں گے کہ دنیا ششدر رہ جائے گی ہار گئے تو اعلان کریں گے کہ وہ الیکشن جیت گئے ہیں اگر جیت گئے تو بھنگڑے ڈالیں گے بے شمار لوگ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ جیت جائیں تاکہ دنیا کی رنگینی پھیکی نہ پڑجائے ڈیموکریٹ جوبائیڈن کو کیا کرنا ہے خشک مزاج شخص ہے وہ امریکی تاریخ کے چند غریب ترین صدارتی امیدواروں میں سے ایک ہیں جبکہ عالی جناب ٹرمپ کھرب پتی ہیں چھ براعظموں میں ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے مسلمانوں کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن دو درجن مسلمان ممالک میں اربوں ڈالر کا کاروبار کررہے ہیں گزشتہ انتخاب میں کامیابی کے بعد انہوں نے ایک بہت گہری بات کہی جس سے ان کے وژن نرمی لیڈر ہونے کا پتہ چلتا ہے انہوں نے کہا کہ مخالفین کو معلوم نہیں کہ میں تبدیلی نہیں انقلاب لارہا ہوں یہ کہہ کر انہوں نے تارکین وطن سے راستہ بند کردیا موصوف واحد صدر ہیں جنہوں نے لاطینی امریکہ میں مداخلت بند کی ہوئی ہے ان کے دور میں سی آئی اے نے کسی بھی غریب ملک کا تختہ نہیں الٹا چین کے خلاف معاشی کارروائیاں کیں لیکن تجارت کا حجم بڑھادیا ایران پر بہت گرجے لیکن برسے نہیں ان کے دور کی واحد بڑی کارروائی بیروت کو تاراج کرنا ہے لیکن پھر بھی حزب اللہ سلامت رہی بلکہ حسن نصر اللہ نے بیروت کے کھنڈرات پر اپنی طاقت مزید بڑھائی ہے طیب اردگان کی بہت مخالفت کرتے ہیں اور انہیں مسلمانوں کا جعلی لیڈر اور شوباز قرار دیتے ہیں لیکن تجارت جاری ہے۔
ٹرمپ کی طرح مغربی مفکرین نے ہمارے وزیراعظم عمران خان کو بھی غیر روایتی حکمران کا لقب دیا ہے دونوں میں کئی مماثلتیں یکساں ہیں لیکن ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑی سپر پاور کے سربراہ ہیں جبکہ عمران خان تیسری دنیا کے غریب ملک کے حکمران ہیں جس کا گزارہ بیرونی امداد اور اپنے غریب عوام کی آمدنی پر ہے عمران خان نے بھی جوانی کا آغاز کرکٹ اور مغرب کے نائٹ کلبوں سے کیا اور پختہ عمر ہونے کے بعد وہ کہنے کی حد تک مذہب کی طرف راغب ہوئے لیکن ان کی باتوں میں کوئی یکسانیت نہیں ہے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنائیں گے لیکن چند روز ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ چین جیسا نظام لانا چاہتے ہیں لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ کافی سارا عرصہ وہ مغرب کے فلاحی نظام جمہوریت اور نظام انصاف کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے جہاں تک ریاست مدینہ کا تعلق ہے تو خلفائے راشدین کے بعد اس کا وجود باقی نہیں رہا اور وہاں پر ملوکیت آگئی جو سلطنت عثمانیہ کے وقفہ کے بعد آج تک قائم ہے اور لہٰذایہ نظام لانانا ممکنات میں سے ہے جہاں تک چین کے نظام کا تعلق ہے تو وہاں آج کل روئے زمین کی بدترین آمریت قائم ہے چیئرمین ماؤ نے تو سوشلزم قائم کرکے سوشلسٹ پارٹی کی اجارہ داری قائم کی تھی لیکن ڈینگ زیاؤ پنگ نے کمیونسٹ پارٹی کا نام تو قائم رہنے دیا لیکن ان کی آڑ میں ایسا نظام قائم کیا جہاں انسان فکری معاشی اور سیاسی طور پر آزاد نہیں ہیں البتہ جانوروں کی طرح انہیں کھانے پینے اور نقل و حرکت کی آزادی ہے چین نے سرمایہ دارانہ نظام کی ایک بدترین شکل قائم کی ہے اور وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق چنگیز خانی نظام کو ساری دنیا تک توسیع کی کوشش کررہا ہے اس کی نظر دنیا کے تمام غریب اور پسماندہ ممالک کے وسائل پر ہے وہ انہیں ہڑپ کرکے دنیا کا سب سے بڑا سپرپاور بننا چاہتا ہے سوال یہ ہے کہ عمران خان چین جیسا نظام کیسے لائیں گے ان کی جماعت تحریک انصاف جو چینی کمیونسٹ پارٹی کی طرح منظم نہیں ہے چین کے موجودہ صدر نے اپنا عہدہ تاحیات رکھا ہے جبکہ عمران خان آئندہ ڈھائی سال کیلئے دوسروں کی بیساکھیوں پر کھڑے ہیں چین والا نظام لانے کیلئے ایک انقلاب بلکہ خونی انقلاب کی ضرورت ہے عمران خان کو تو اپنی حکومت چلانے کا اختیار نہیں ہے وہ انقلاب کہاں سے لائیں گے البتہ چینی نظام لانے کیلئے وہ ایک کام کرسکتے ہیں کہ اپنے ملک کو چین کے حوالے کردیں یا اس میں ضم کردیں اس سے ایک دم سے چین والا نظام آجائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے ناجائز دولت اکٹھی کررکھی ہے اس پر ریاست قبضہ کرلے گی ان لوگوں میں خود وزیراعظم صاحب بھی شامل ہونگے جن کے وسائل اچانک سے بہت بڑھ گئے ہیں جہاں تک وزیراعظم کے افکار عالیہ کا تعلق ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ کنفیوژ ہیں اور نہیں سمجھائی نہیں دے رہا کہ وہ کیا کریں ملک کو کیسے چلائیں اور معیشت کو کیسے بحال کریں بجائے کہ وہ ان معاملات کو حل کرنے پر توجہ دیں وہ ادھر ادھر کی باتیں کرکے عوام کی توجہ روز مرہ کے مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں یہ پہلی حکومت ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں کا جواب جلسوں سے دینا چاہتے ہیں یعنی وہ خود سیاسی قوتوں کو دستگریبان کرنا چاہتے ہیں انتشار اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اپوزیشن کے جلسوں سے کیا ہوگا؟اس سے حکومت تو گرنے والی نہیں ہے لیکن وہ”آبیل مجھے مار“ والا طریقہ اپنا رہے ہیں اس سے شک ہورہا ہے کہ وہ کچھ اور کرنا چاہتے ہیں وہ انتشار کو ہوا دے کر آئین سے ماورا عمل لانا تو نہیں چاہتے تاکہ معاملات ان کے ہاتھ سے نکل جائیں تو مخالفین کے ہاتھ نہ آئیں۔
بہرحال مجھے تو فیاض الحسن کی برطرفی اور بے عزتی کا بڑا دکھ ہے موصوف کو دوسری دفعہ برطرف کیا گیا حالانکہ ان کی کارکردگی شاندار تھی اتنا گالم گلوچ اتنے الزامات اور اتنی دشنام طرازی کے بعد ان سے یہ ہتک آمیز سلوک سمجھ سے بالاتر ہے وہ تو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار تھے اردو کی لغت میں جتنے برے الفاظ تھے وہ اپوزیشن اور خاص طور پر شریف فیملی کے خلاف استعمال کرتے تھے معلوم نہیں کہ کونسی کمی رہ گئی تھی جو عمران خان نے انہیں بہ یک جنبش قلم برطرف کردیا اور ان کی جگہ سابق برطرف معاون خصوصی آپا فردوس کو لے آئے آپا کو تو کرپشن اور وسائل کے زیادہ استعمال پر برطرف کیا گیا تھا سوال یہ ہے کہ وہ اچانک کیسے پاک صاف ہوگئیں کہ انہیں سب سے بڑے صوبے کی اطلاعات کا محکمہ سونپ دیا گیا ہو نہ ہو وہ ضرور کسی پیر فقیر اور درگاہ پر گئی ہونگی اور استخارہ اپنے حق میں کروا کر آئی ہونگی اب لوگوں کی سماعتوں کو یہ نیا امتحان بھی دینا پڑے گا پہلے ”سمع خراشی“ کیا کم تھی کہ اب نیا ”بھاری بھرکم“ بوجھ ڈال دیا گیا ہے اصل بات یہ ہے کہ ڈھائی سال بعد بھی حکمرانوں کو معلوم نہیں کہ معاملات کو کیسے سنبھالا جائے اس لئے ہر روز نئے تجربے کئے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں