علم کی ضرورت

تحریر:ناصر احمد جلالی

علم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ” آگاہ ” ہونا ہے۔
ہر مسلمان مرد و زن پر حصول ِعلم اتنا ضروری ہے کہ وہ روزمرہ زندگی میں حلال و حرام، پاکی و ناپاکی میں تمیز کرسکے۔
یہ وہ عظیم وصف ہے جو انسان کو نہ صرف تہذیب و اخلاق کا جامہ پہنادیتا ہے،بلکہ قلبِ خاکی کو خدا شناسی کے مقدس نور سے منورکردیتا ہے ۔دینی فکر کو صحیح عقیدے کی معراج بخشتا ہے۔شریعت نے اس عظیم وصف کو مسلمانوں کے لیے ضروری قرار دیا ہے ، چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ علٰی کُلَّ مُسْلِمٍ۔“
ظاہر ہے کہ جو زندگی مطلوب ہے اور انسانیت کو عبدیت کی معراج عطا کرتی ہے وہ علم دین ہی پر موقوف ہے۔علم کی وجہ سے انسان انسان بنتا ہے اور اپنے حقیقت کو پہچان کر خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے ۔
علم انسان کی اتنی بڑی ضرورت ہے کہ انسان اس کے بغیر دین و اخلاق پر عمل نہیں کرسکتا۔مصیبتوں کی نجات کا انحصار علم و عمل ہی پر ہے ۔
آپ علیہ السلام علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتےتھے،علاوہ ازیں آپ علیہ السلام اپنے صحابہ کو غیر ملکی زبان بھی سیکھنے کی ترغیب دیتےتھے ۔حضرت زید بن ثابت نے عبرانی، سریانی،حبشی اور فارسی زبانیں سیکھ لی تھیں ۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں”کاتب وحی” ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔
مسلمانوں نے علم سے لو لگائی، کئی علوم و فنون کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ۔علم و تحقیق کی دنیا میں مختلف شخصیات اپنے زمانے میں حکومت کرتی رہیں۔ انسانی ترقی یافتہ دور میں یونانی اپنے علم کی بدولت دوصدیوں تک چھائے رہے۔رومیوں کا عروج دو صدیوں سے آگے نہ بڑھ سکا ۔مسلمان سات سو برس سائنس، علم و حکمت اور تحقیق پر حکمرانی کرتے رہے ۔ان ادوار میں سائنس،ٹیکنالوجی اور دیگر علوم و فنون کے ہر شعبے میں متعدد نئی شخصیات پیدا ہوئیں ،لیکن آج مسلمان نے علم سے اپنا ناتا توڑا تو اہل مغرب ہم پر حاوی ہوتے چلے گئے اور وہ ہمارے علمی سرمائے سے اپنی ایجادات کا آغاز کرتے گئے۔جس کے نتیجے میں مسلمان تنزل اور مغرب بامِ عروج پاتے گئے۔ ایجادات اور اختراعات ان کے دامنوں میں گرتاچلاگیا اور زمامِ قیادت پر ان کا قبضہ رہا اور وہ پوری دنیا میں اپنا لوہا منواتے گئے ۔
آج اسی ناخواندگی کی وجہ سے مسلمان دنیا کے ہر خطے میں مغلوب ہیں۔علم کے بغیر اسلامی دنیا کی قیادت ،مسلم ممالک کی نظامت ،خلفائے راشدین کے طرز پر سیاست، عدل وانصاف کاقیام، قرآنی نظام کا پیغام مشکل ہی نہیں، بلکہ نا ممکن ہے۔
علم ہماری گمشدہ میراث ہے ۔ماضی کے مسلمانوں نے اسے سینے سے لگایا تو ساری دنیا ان کی حکمرانی میں تھی ۔مسلمانوں کا وقار تھا،حیثیت تھی،روز بروز ترقی کررہے تھے۔ جس دن مسلمانوں نے علم کا دامن چھوڑا ، اسی دن سے تباہی کا شکار ہوتے گئے۔ اگر ہم پھر سے علم کو گلے لگائیں تو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو اسی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ؛
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا
نہیں دنیا کے آئین ِمسّلم سے کوئی چارہ
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھے ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

اپنا تبصرہ بھیجیں