ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈپروجیکٹ ریفرنس
ریکوڈک کاپراینڈ گولڈ پرجیکٹ بلوچستان اور پاکستان کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہے جس کی نگرانی بلوچستان اور پاکستان کودوسرے تمام پروجیکٹس سے کہیں زیادہ کرنا چاہیئے تھی۔یہ ہزاروں لاکھوں ٹن وزنی سونے کے ذخائر ہیں اور سونا آج کل ایک لاکھ روپے 13ہزار600فی تولہ(97ہزار 394 روپے فی10گرام) بک رہاہے،یعنی ایک کلو سوناکی قیمت97کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے صرف یہ ایک پروجیکٹ پاکستان کے تما م قرضے اتار سکتا ہے۔چین کے سفیر نے 14 اگست 2020کوپی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان اس وقت 106 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ صوبے، ملک اور عوام کی ملکیت اتنا قیمتی اثاثہ لاوارث چھوڑ دیا گیاتھا اور نیب کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اسے26چور صفت افراد خاموشی سے نوچ کر کھا رہے تھے۔اور اب تمام شواہد جمع کرنے کے بعد نیب نے ریفرنس (مقدمہ) دائر کر دیا ہے۔بلوچستان اور پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ ماضی میں یہ معاملہ حادثاتی طورپرمنظر عام پر آگیاتھا جب (اس وقت کے) پنجابی نژادمگر بلوچستان ڈومیسائل ہولڈر چیف جسٹس پاکستان کو اس قیمتی اثاثے کی بھنک پڑ گئی چنانچہ انہوں نے اپنے مخصوص افسرانہ انداز میں اس کا صوابدیدی اختیارات کے تحت نوٹس لے لیا۔اس کے بعد انہوں اس کیس کے ساتھ جو سلوک کیا، تاریخ کاحصہ ہے، مگر انہوں نے جس سرعت سے اپنے بیٹے کو بلوچستان کے معدنی وسائل کا چوہدری بنوایا وہ اس کیس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ ریکوڈک معاہدہ کرنے والوں نے پاکستان کو یہ اختیار بھی نہیں دیا کہ اپنی سرزمین پر اس سونے اور چاندی کو الگ کر لے جو صرف اور صرف پاکستان کی ملکیت ہے اور یہ فروخت نہیں کیا گیا۔کمپنی کو صرف تانبا بیچا گیا ہے اور وہ تانبے کے سوا کچھ لے جانے کی مجاز نہیں۔سونے کو کاپر سے الگ کرنے کے لئے ایک ریفائنری کی ضرورت تھی جسے ریکوڈک میں ہی نصب ہونا چاہیئے تھا جو سونے چاندی کو کاپر سے الگ کرتی۔مگر جب ذاتی مفادات غالب آجائیں تو قومی اثاثے کوڑیوں کے دام فروخت کرنے میں کسی کا دل نہیں دکھتا۔یہ کام ماضی کے چور سیندک پروجیکٹ میں کامیابی سے کر چکے ہیں۔ نہ معلوم کتناسونا اور چاندی ہڑپ کیاجاچکا ہے؟ اس لئے کہ سونے اورچاندی کو الگ کرنے کا کام پاکستان سے باہر کیا جاتا رہا ہے،اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ چوری کے اسی آزمودہ فارمولے کو ریکوڈک معاہدے کا حصہ بنایا گیا۔اب یہ تفصیلات عدالت کے سامنے آئیں گی،تب اس بھاری بھرکم لوٹ مار کی حقیقت منکشف ہوگی۔ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں معدنی وسائل پر صوبائی حق تسلیم کر لیاگیا ہے اس لئے صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں رہا۔لیکن یادرہے کہ ہمارے ملک میں ماں بھی اس وقت تک اپنے بچے کو دودھ نہیں پلاتی جب تک وہ رو رو کر ہلکان نہ ہو جائے۔وفاق سے یہ توقع نہ کی جائے کہ بلوچستان یا دوسرے صوبوں کو ان کا حق خود بخود مل جائے گا۔اس کے لئے تمام معاملات سے باخبر ہونا ضروری ہے۔معلومات جمع کرنے کے لئے ایک سے زائد ذرائع استعمال کئے جائیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی بھی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ غلط بیانی چھپ نہیں سکتی۔بغیر کھدائی کئے زمین کی تہہ میں جھانکنا ممکن ہو گیا ہے۔معدنیات کی نوعیت، وسعت اور مقدار کا تخمینہ لگایاجاسکتا ہے۔جس صوبے کے وسائل ہیں اسے تو ہرلحاظ سے چوکنا اور باخبر ہونا چاہیئے۔آنکھیں بند رکھنا پرلے درجے کی حماقت اور بیوقوفی ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی پر کسی خاص قوم کی اجارہ داری نہیں۔ اب تو بلوچ نوجوان کیمبرج جیسی دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھانے کے ساتھ مزید ریسرچ بھی کر رہے ہیں۔انہیں ذہین سائنسدان کے طور پر تسلیم کیاجا رہا ہے۔اگر اپنے ذہین اور محنتی طالب علموں کی میرٹ پر سرپرستی کی جائے تو بلوچستان کے نوجوان ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔کسی سے کم تریا پیچھے نہیں۔نیب کے دائر کردہ ریفرنس کی پیروی میں صوبائی حکومت دلچسی لے، لمحہ بہ لمحہ پیشرفت پر نظر رکھی جائے،واقعتاًبلوچستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔یہ عطیہ قدرت نے ان جفاکش اور بہادر اسلاف کی وجہ سے عطا کیاہے جو انتہائی نامساعد حالات میں بھی اس سرزمین کو اپنا مسکن بنائے رہے،دشمنوں سے جنگیں لڑیں، قربانیاں دیں اورموسمی شدائد کا مقابلہ کیا۔ قدرت کوئی نعمت کسی قوم کو بلا سبب عطا نہیں کرتی۔ہاں یہ بھی واضح رہے کہ جو قومیں اپنے اثاثوں کی حفاظت سے غافل ہو جاتی ہیں، ان سے قدرت منہ موڑ لیتی ہے۔کفران نعمت کی سزا ملتی ہے۔عرب ممالک نے اپنے قدرتی اثاثوں کی اس طرح حفاظت نہیں کی جیسے ناروے، سویڈن اور ڈنمارک نے کی ہے۔عرب ان اثاثوں کو عیاشی میں اڑاتے رہے جبکہ یورپین ممالک نے اسے احتیاط اور مہارت سے آئندہ نسلوں کی امانت سمجھ کر مختلف منافع بخش منصوبوں میں لگایا۔آج وہ اس منافعے سے اپنے ہر شہری کو گھر بیٹھے 2ہزارڈالر ماہانہ تاحیات دے سکتے ہیں۔ جبکہ عرب ممالک کی یہ حالت ہے کورونا وائرس کے آتے ہی ان کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کی سکت نہیں رہی۔انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ پیڑول اور اس کی دیگر مصنوعات ختم ہو نے کے بعد ملک کیسے چلے گا۔اب دیکھاجا رہا ہے کہ بیرون ملک سرمایہ کاری میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔بلوچستان کے پاس ریکوڈک کے علاوہ بھی غیر معمولی وسائل ہیں۔ 700 کلو میٹر طویل ساحل ہے۔آبی حیات اور معدنی وسائل سے مالا مال وسیع و عریض سمندر ہے۔غیر آباد زمین کو آباد کیا جائے تو یہ سونا اگل سکتی ہے۔ہمسایہ عرب ممالک اسے آباد کرنے کے لئے بیتاب ہیں۔یہ کام اپنے وسائل سے کیاجا ناممکن ہے بشرطیکہ اس بارے میں سنجیدہ منصوبہ بندی کی جائے۔ ریکوڈک پروجیکٹ کی طرح 26افرادسب کچھ نہ کھائیں۔تمام وسائل کوعوام کی ملکیت سمجھا جائے،امانت میں خیانت نہ کی جائے۔بلوچستان ہر شعبے میں پہلے نمبر پر آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


