پی ڈی ایم کی پیٹھ میں خنجر؟
تحریر: انور ساجدی
بلاول بھٹو کا بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو بہت متنازع مگر پیپلز پارٹی کے دیرینہ موقف کا تسلسل ہے‘ پیپلز پارٹی کے حامی اسے ایک سیاسی چال اور مخالفین سیاسی پینترا کہتے ہیں جبکہ راحت ملک نے اسے یوٹرن قرار دیا ہے۔
ن لیگ کے حامی اس انٹرویو کو شریف خاندان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تعبیر کررہے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان میں ڈیرہ جمائے پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بی بی سی کی خاتون نامہ نگار کو تفصیلی انٹرویو جس میں انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ جلسہ کے دوران جب میاں نواز شریف نے عمران خان کو لانے کی ذمہ داری جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر ڈالی تو انہیں دھچکہ لگا کیونکہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں یہ طے نہیں ہوا تھا کہ شخصیات کا نام لیا جائے بلکہ طے ہوا تھا کہ ادارے کا نام لیا جائے انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے فوج کی موجودہ قیادت کا نام لیا تو ان کے پاس ثبوت ہونگے کیونکہ وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ ٹھوس شہادتوں کے بغیر کسی پر الزام عائد نہیں کریں گے اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کردیں بلاول نے یہ بھی کہا کہ ان کی تین نسلوں سے موقف ہے کہ سیاست میں اداروں کی مداخلت بند کی جائے۔
بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ بلاول نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لئے سرد و گرم حلقوں کو نیوٹرل کرنے کے لئے یہ بات کہی ہے‘ کئی ناقدین نے بلاول کے انٹرویو پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور پی ڈی ایم کے مستقبل کو مخدوش قرار دیا ہے ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلاول نے این آر او کے حصول کے لئے ایسا کیا ہے راحت ملک جوکہ نیشنل پارٹی کے رکن ہیں لیکن سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) اور شریف فیملی کے دیوانہ نظر آتے ہیں پیپلز پارٹی کے ناقدین میں سرفہرست ہیں ان کا اعتراض یہ ہے کہ عمران خان کے لئے سلیکٹیڈ وزیراعظم کی اصطلاح سب سے پہلے خود بلاول نے پارلیمنٹ کے اندر استعمال کی تھی سلیکٹرز کا لفظ بھی انہوں نے ہی استعمال کیا یہ کھلا تضاد ہے کہ بلاول وزیراعظم کو تو سلیکٹیڈ کے نام سے یاد کریں لیکن سلیکٹرز کا نام استعمال کرنے پر معترض ہوں۔
بنیادی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان محبت اور نفرت کا رشتہ بہت پرانا ہے محترمہ کی شہادت کے بعد 2008ء کے انتخابات میں تو دونوں جماعتوں نے مل کر مخلوط حکومت بنائی تھی زرداری نے شروع میں اسحاق ڈار کو اپنا وزیر خزانہ بھی مقرر کیا تھا جبکہ پنجاب میں انہوں نے بھولا ریاض عرف راجہ ریاض کو سینئر وزیر بھی بنوایا تھا لیکن یہ تعلق زیادہ دیر تک چلا نہیں بلکہ ن لیگی رہنما روز کہتے تھے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں ان کے لئے کمبل بن گئی ہے اور جان نہیں چھوڑ رہی بالآخر تنگ آکر ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت سے علیحدہ کردیا تھا اس علیحدگی کے بعد میاں نواز شریف نے زرداری کی سخت مخالفت شروع کردی تھی حتیٰ کہ جب خود ساختہ میمو اسکینڈل منظر عام پر آیا تو نواز شریف مدعی بن گئے اور زندگی میں پہلی بار کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے اسی طرح برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لئے انہوں نے لاہور سے ایک لانگ مارچ شروع کیا جب یہ مارچ گوجرانوالہ پہنچا تھا تو جنرل اشفاق پرویز کیانی نے نواز شریف کو اطلاع دی کہ چوہدری صاحب اور دیگر جج بحال کردیئے گئے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں جب حکومت نواز شریف کو ملی تو معلوم ہوا کہ جنرل کیانی اور افتخار چوہدری مسلم لیگ ن کے طرف دار تھے یہی وجہ تھی کہ چوہدری صاحب نے یوسف رضا گیلانی کو ایک خط نہ لکھنے پر معزول کردیا تھا چوہدری صاحب کو جلد نواز شریف نے دھتکار دیا اور وہ راندہ درگاہ بن کر بے آسرا بھٹکنے لگے۔
2014ء میں جب عمران خان نے دھرنا دیکر پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا تو پیپلز پارٹی نے اس کا بھرپور ساتھ دیا لیکن تعلقات اتنے خراب تھے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران چوہدری اعتزاز حسین نے کہا کہ دیکھیں میاں صاحب یہ آپ کا وزیر داخلہ چوہدری نثار مجھے خومخوا نظروں سے گھور رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف نے 1990ء کی دہائی میں سیف الرحمان کے ذریعے محترمہ اور زرداری پر بھی درجنوں مقدمات بنوائے‘ زرداری نے 9 سال جیل میں گزارے دوبئی میں جو میثاق جمہوریت ہوا تھا اسے بھی ن لیگ نے توڑا اور اس طے شدہ اصول کو توڑا کہ جمہوریت کے استحکام کے لئے فوج کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا ہے شاید اس زمانے کا چلن یہ تھا کہ مقتدرہ کو ملائے بغیر حکومت حاصل نہیں کی جاسکتی تھی اسی مجبوری کی وجہ سے میاں صاحب نے ساز باز کرلی ن لیگ کے دور اقتدار میں زرداری نے دو اقدامات کے ذریعے بدلہ لیا ایک چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر اور دوسرا بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت کو ہٹاکر
دونوں جماعتوں کے راستے اسی وقت جدا ہوگئے تھے لیکن 2018ء میں عمران خان نے اقتدار میں آکر دونوں کو چور ڈاکو اور لٹیرے کا خطاب دیکر ان کا احتساب شروع کردیا عمران کی اس سیاسی ناپختگی نے سدا کے حریفوں کو اکٹھے کردیا انہوں نے مجبور ہوکر پی ڈی ایم کی تشکیل میں حصہ لیا لیکن کون نہیں جانتا کہ دونوں جماعتوں کی بنیادی اپروچ میں فرق ہے جس کی وجہ سے وہ اکٹھے نہیں چل سکتے مثال کے طور پر پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تحریک کو صرف عمران خان کی معزولی تک مرکوز رکھا جائے جبکہ ن لیگ کا تازہ موقف ہے کہ ایک ہی بار فوج کو سیاسی معاملات سے ہمیشہ کے لئے بے دخل کیا جائے حالانکہ 7 ستمبر تک سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے ذریعے ن لیگ فوجی قیادت سے مذاکرات میں مصروف تھی جب وہاں سے صاف جواب دیا گیا تو میاں نواز شریف کشتیاں جلاکر میدان جنگ میں کود پڑے۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بی بی بے نظیر نے کہا کہ انہوں نے ترک صدر عبداللہ گل سے پوچھا تھا کہ آپ لوگوں نے فوجی مداخلت کو کیسے کنٹرول کیا تو انہوں نے فرمایا کہ
صبر، صبر اور صبر۔ اس کے باوجود ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی جوکہ ناکام ہوگئی انہوں نے آئین میں ترمیم کرکے فوج کا رول ہمیشہ کے لئے ختم کردیا نہ صرف یہ بلکہ تمام حاضر سروس جنرل صاحبان کو برطرف کرکے فوج سے نکال باہر کیا۔ اگرچہ سیاست میں مداخلت کے بارے میں اصولی طور پر مسلم لیگ ن یا میاں نواز شریف کا موقف درست ہے لیکن پاکستان میں ایک دم سے ایسا ہونا ممکن نہیں‘ کیونکہ یہ بہت پرانا معاملہ ہے جس کا آغاز ایوب خان نے کیا تھا ضیاء الحق اور مشرف نے اسے بام عروج تک پہنچایا تھا یہ بھی حقیقت ہے کہ 1985ء سے لیکر 2013ء تک ن لیگ نے اس مداخلت کو بار بار دعوت دی اس سلسلے میں ن لیگ کے جرائم ناقابل معافی ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ میاں صاحب اپنے ماضی سے تائب ہوگئے ہیں لہٰذا ایک جمہوریت پسند رہنما کی حیثیت سے ان کی حمایت ضروری ہے لیکن میاں صاحب کی تازہ توبہ 7 ستمبر کے بعد ہوئی جب آرمی چیف نے کہا کہ ان کا معاملہ عدالتوں کے پاس ہے اور وہ عدالتوں کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے اگر پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کا ساتھ چھوڑ دیا تو میاں صاحب کی جدوجہد زیادہ طویل ہوجائے گی اس صورت میں میاں صاحب کو مولانا اور دیگر جماعتوں پر انحصار کرنا پڑے گا انہیں اپنی ساری توجہ پنجاب پر مرکوز رکھنا پڑے گی تاکہ وہاں پر ایک زور دار تحریک کا آغاز ہوسکے یہ بات یقینی ہے کہ اگر پنجاب کے عوام سڑکوں پر نہیں آئے تو مداخلت کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ موجودہ حکومت کو ہٹانا بھی مشکل ہوجائے گا جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اس کی عوامی قوت ن لیگ کے پاس ہے اگر وہ عوام کو باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہوئی تو دیگر جماعتیں کچھ بھی نہیں کرسکیں گی پنجاب میں بھی ن لیگ کا سارا دار و مدار محترمہ مریم نواز پر ہے کیونکہ ان کے علاوہ پارٹی کا کوئی اور رہنما عوام کو سڑکوں پر لانا تو کیا ایک جلسہ تک نہیں کرسکتا۔
بلاول کے بیان کے بعد جو تلخی پیدا ہوئی ہے مولانا کوشش کرکے پی ڈی ایم کو ٹوٹنے نہیں دیں گے لیکن 22 نومبر کو پشاور کا جلسہ کس طرح ہوگا اور اگلے ماہ لاہور کے جلسے میں کتنے لوگ شریک ہونگے اسے دیکھ کر ہی حکمران اپنا لائحہ عمل طے کریں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ نظام کا ایک اسٹیک ہولڈر ہے سندھ میں اس کی حکومت قائم ہے جبکہ اسے ایک اور حکومت ملنے کا آسرا بھی ہے اگر پی ڈی ایم نئے انتخابات کا مطالبہ منوانے میں کامیاب ہوگیا تو پیپلز پارٹی کو کیا ملنا ہے زیادہ سے زیادہ وہ سندھ کی حکومت دوبارہ حاصل کرسکے گی قومی اسمبلی اور پنجاب تو ن لیگ کو ملیں گے جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے گا اگر اس کے ساتھ بہت اچھا ہوا تو اس کی قومی اسمبلی میں 10 نشستوں کا خاتمہ ہوجائے گا وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی روایتی حریف ن لیگ کو کامیابی کا کیک طشتری میں رکھ کر تو پیش نہیں کرے گی چنانچہ پیپلز پارٹی کو سوچ بچار کرکے ایک موثر اور اسمارٹ حکمت عملی طے کرنا پڑے گی دونوں جماعتوں کے تعلقات کو عظیم مزدور رہنما مرزا ابراہیم کے ایک مشہور خطاب کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔
ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جماعت اسلامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
”اوہ جماعتیاں اوہ اسلامیاں جب تک یہ دنیا ہے ہماری تمہاری صلح نہیں ہوسکتی“
لہٰذا پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کبھی دیرپا اتحاد قائم نہیں رہ سکتا وقت اور حالات نے دونوں جماعتوں کو کمزور کردیا ہے لیکن اگر پیپلز پارٹی مزدوروں اور کسانوں کو منظم کرکے ان کی حمایت دوبارہ حاصل کرلے تو اس کی طاقت میں اضافہ ہوگا ورنہ جو کچھ اس وقت ہے اسی پر گزارہ کرنا پڑے گا۔


