گنتے رہے
تحریر: جمشید حسنی
الیکشن کمیشن نے عوامی نمائندوں کے اثاثے بتائے۔ایوب خان کے پوتے عمر ایوب کے پاس ایک ارب21کروڑ ہے۔شیریں رحمان کے26کروڑ 30لاکھ کے اثاثے ہیں اسلام آباد میں سولہ کروڑ کا گھر ہے۔دوسراگھر ایک کروڑ58لاکھ کا ہے190تولہ سونا ہے مطلب سوا دو سیرسے زیادہ80تولہ کا سیر ہوتا ہے میں تو اتنا بے خبر آدمی ہوں کہ ابھی تک یہ نہیں معلوم وہ سندھن ہیں یا پنجابن یا بارہ مصالحہ سولہ سنگھار والی ہیں پیپلزپارٹی کی لیڈر ہیں۔دولت کہاں سے آئی والد کیا کرتا تھا یہ نا معقول باتیں نہ پوچھیں۔اعظم سواتی کے پاس81کروڑ ہیں۔سینیٹر تاج آفریدی کے پاس گیارہ 11ارب 22کروڑ ہیں۔عبدالکریم کے پاس13کروڑ کی جائیداد ہے تین کروڑ کا کاروبار ہے۔صادق سنجرانی کے پاس 5کروڑ53لاکھ 69لاکھ 42ہزار کی گاڑیاں ہیں۔تین کروڑ 30لاکھ کا کاروباری اثاثے 41لاکھ80ہزار کے پرائز بانڈ،ولید اقبال کے پاس14کروڑ ہیں 2کروڑ 55لاکھ کی چار گاڑیاں یعنی ایک گاڑی 63لاکھ ہے راحیلہ مگسی کا ایک کروڑ23لاکھ دبئی میں فلیٹ ہے۔مشاہد اللہ کی 15ملین کی پراپرٹی ہے۔رحمان ملک 13لاکھ پاؤنڈ کا لندن میں گھر ہے۔طلحہ محمود کا 16کروڑ کا پلاٹ ہے۔ایوب کے پوتے کے پاس ایک ارب اکیس کروڑ روپے ہے اگر یہ لوگ زکواۃ دیں تو سینکڑوں غریبوں،بیواؤں،یتیموں کا گزارہ ہوجائے یہ ریاست مدینہ ہے۔آصف زداری کے پاس ایک کروڑ 66لاکھ کا اسلحہ ہے99لاکھ روپیہ کے گھوڑے مویشی ہیں۔ایک کروڑ37لاکھ کا کاروبار ہے۔سوئٹرز لینڈ کی دولت چینی کے کارخانے نہیں بتلاتے فیصل ووڈا 55کروڑ کی جائیدادیں 40تولہ سونا ہے شیخ رشید کے پاس 4کروڑ 18لاکھ ہیں 9کروڑ 7لاکھ فکسڈ ڈیپازٹ ہے۔غلام سروردو کروڑ کی سرمایہ کاری ہے۔اعجاز شاہ کی پانچ جائیدادیں ہیں۔اہلیہ کا 76تو لہ سونا ہے۔غلام سرور کہتے ہیں جائیداد وراثتی ہے پرویز خٹک کے 15کروڑ ہیں عمران خان کے 8کروڑ ہیں سراج الحق کے پاس 6لاکھ روپیہ ہے فروغ نسیم کے پاس 1.3ملین پاؤنڈ۔۔
اب کس کس کی دولت شمار کریں یہاں منشاء آواری ملک ریاض کو بھول جائیں یہاں غریب بیس کروڑ ہیں محض ایک فرد ہے محکمہ شماریات کے مطابق عام آدمی آمدنی کا 36%کھانے پینے 23.6فیصد کرایہ گھر بجلی پانی تیل پر خرچ کرتا ہے7.5کپڑوں جوتوں پر 3.3فیصد صحت پر خرچ کرتا ہے تعلیم کا خرچ نہیں بتلاتا گیا اوسطاً ماہوار خرچ37ہزار روپیہ ہے تعلیم کی شرح60فیصد ہے روزگار56فیصد ہے سبسڈی گرانٹGDPکا 4.5فیصد ہے۔18فیصد لوگوں کے پاس ٹائلٹ نہیں 91فیصد لوگوں کو بجلی ملتی ہے 18فیصد لوگوں کے پاس نلکے کا پانی ہے80فیصد گھروں میں فلش ٹائلٹ نہیں میونسپلٹی 20فیصد گھروں ہے کچرہ اکٹھا کرتی ہے پتہ نہیں اسی فیصد فلیش ٹائلٹ کا کڑ خراسان میں ہیں وزیر ستان میں 45فیصد لوگوں کے پاس موبائل ہیں بڑے شہروں میں سروے کا اطلاق تھرچولستان کوہستان پر ہوتا ہے ہم سب مانتے ہیں کاش کہ کورونا تائیوان سنگاپور برونئی ملائیشیا انڈونیشیا نیوزی لینڈ جیسے ملکوں سے موازنہ کرایا جاتا۔ کیوبا میں دنیا کا صحت کا بہترین نظام ہے ہم تعلیم اور صحت پر تین تین فیصد خرچ کرتے ہیں تحقیق کے لئے وسائل نہیں ہائیر ایجوکیشن عجائب گھر کے ڈائنا سور کا ڈھانچہ ہے ڈاکٹر عطاء الرحمن جنرل مشرف کو اس بات سے خوش کرتے رہے ملک میں پانچ کروڑ لوگوں کے پاس موبائل ہیں ملک میں ایک موبائل نہیں بنتا۔ہندوستان میں بنگلور سافٹ ٹیکنالوجی کا عالمی معیار کا مرکز ہے۔تعلیم میں بھی سیاست کار فرما ہے۔گلگت بلتستان کے انتخابات میں آبادی13لاکھ ووٹر سات لاکھ24سیٹس ہیں خواتین کی6اقلیتیں،ٹیکنو کریٹ3کل33سیٹس ہیں گلگت کو صوبہ بناے کا وعدہ ہے یہ بخاربھی اس ہفتہ ٹوٹ جائے گا۔وعدہ تو جنوبی پنجاب کو بھی صوبہ بنانے کا تھا حالانکہ عثمان بزدار شیریں مزاری شاہ محمود قریشی جاوید ہاشمی یوسف رضا گیلانی اویس لغاری لطیف کھوسہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے بس ایک ایڈیشنل سیکرٹری لگا دیا گیا گلگت کی آئینی حیثیت غیر واضح ہے۔
آخر میں اپنے صوبہ کا شام غریباں کچھی بستیاں بنتی رہے گی گھبرائیں نہیں صوبہ کے لئے کچھ نہیں عمران خان کہتے ہیں جنوبی ضلعوں کو پیکج دوں گا گوادر پورٹ بن رہی ہے۔حافظ آباد یونیورسٹی ہے چار سو بستروں کا ہسپتال ہے زیادہ شر شور نہ کریں ہم پہلے ہی شر پسند کہلاتے ہیں شاعر نے کہا
جب کبھی بھوک کی شدت کا گلہ کرتا ہوں
کم عقیدوں کے غبارے مجھے لادیتے ہو
آپ کو بہلانے جمعیت کے پاس عقیدوں پشتونخوا کے پاس قومیت کے غبارے ہوتے ہیں۔


