حافظ حسین احمد کو کیوں نکالا گیا۔۔۔۔؟

تحریر: رشید بلوچ
پی ڈی ایم کے جلسوں میں سخت موقف اپنانے والی دو جماعتوں جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ ن کے اندر زلزلے کے چھوٹے چھوٹے جھٹکے بلوچستان سے آنا شروع ہوگئے ہیں،ن لیگ بلوچستان کی آدھی کابینہ پہلے سے ہی صوبائی صدر کی قیادت میں اپنی جماعت کوٹا ٹا بائے بائے کر چکی ہے،اب جمعیت علما اسلام کی مرکزی قیادت نے اپنے سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد کو انکے عہدے سے ہٹا دیا ہے،حافظ حسین احمد کو انکے عہدے سے ہٹائے جانیکی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انہوں نے ایک زمہ دار پوزیشن پر ہوتے ہوئے جماعت کی پالیسی بیانیہ کے خلاف ورزی کی ہے،حسین احمد پاکستانی سیاست میں اپنے مخصوص انداز بیان سے جانا جاتا ہے،گزشتہ 20 سال سے حافظ حسین احمد کو انکی جماعت میں کوئی بڑی زمہ داری نہیں دی گئی تھی،حافظ حسین احمد کو عملاً غیر فعال کرنے میں جمعیت علماء اسلام کے سابق صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی اور جمعیت کے طویل عرصہ سیکرٹری جنرل بننے والے مولانا عبدالغفور حیدری کا بہت بڑا ہاتھ سمجھا جاتا ہے، مولانا محمد خان شیرانی دو عشرے تک جمعیت کے بلوچستان میں بلا شرکت غیرے طاقت ور امیر رہ چکے ہیں، انکے دور میں جمعیت بلوچستان میں ایک مضبوط پارلیمانی جماعت کی صورت میں ابھری تھی،خصوصاً جنرل پرویز مشرف کی دور حکمرانی میں جمعیت کو بلوچستان میں بہت زیادہ انرجی ملی تھی،جمعیت علماء اسلام میں مولانا محمد خان شیرانی واحد شخصیت تھے جو طالبان کے افغانستان میں عروج اور زوال دونوں صورت میں شدید مخالف رہے،پاکستان کے دیوبند طبقہ فکر کے تمام علما نے طالبان کی شمالی اتحاد کے ساتھ جنگ کو جہاد کا فتویٰ دیا تھا لیکن مولانا شیرانی واحد شخصیت تھے جنہوں نے طالبان کے اپنے مخالفین کی جنگ کو جہاد کے بجائے قتال کہا تھا اسکے بعد امریکہ افغان جنگ میں بھی مولانا شیرانی نے طالبان کی جنگ کو جہاد نہیں مانا، اسی اختلاف کی وجہ سے مولانا شیرانی پر ایک خود کش حملہ بھیہوا تھا،طالبان سے متعلق اپنی جماعت سے کھل کر اختلاف کے باوجود انکی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مولانا شیرانی نے مرکزی قیادت کیلئے مولانا فضل الرحمان کے خلاف الیکشن لڑا تھا،جماعتی الیکشن میں مولانا فضل الرحمان تو جیت گئے لیکن مولانا شیرانی نے الزام لگایا تھا کہ انکو مولانا فضل الرحمان کے حامی عمومی شوریٰ نے دھاندلی سے ہرا دیا ہے،یہ پہلا موقع تھا مولانا فضل الرحمان کو اپنی جماعت کے اندر چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جماعت کے اندر حافظ حسین احمد کو زیادہ سنجیدہ اور معاملہ فہم مانا جاتا تھا ایک دور میں حافظ حسین احمد کو جماعت کے اندر کلیدی حیثیت حاصل تھی وہ 1988سے 1990اسکے بعد مشرف دور میں 2002 سے 2007 تک رکن قوی اسمبلی رہ چکے ہیں جبکہ 1991سے 1994 تک سینٹ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں،مولانا شیرانی کی صوبائی قیادت سنبھالنے اور حیدری صاحب کی شیرانی سے قربت کے بعد آہستہ آہستہ حافظ حسین احمد کھڈے لائن ہوتے گئے تاآنکہ ایک مضبوط لابی نے انتھک کوشش کے بعد مولانا شیرانی کو جماعت کے صوبائی سربراہی سے ہرانے میں کامیابی حاصل کر لی،جمعیت کی نئی صوبائی قیادت وجود میں آنے اور مولانا شیرانی کی غیر فعال ہونے کے بعد حافظ حسین احمد کو دوبارہ اہمیت ملنا شروع ہوگئی اسکے بعد انہیں جماعت میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی اہم زمہ دار سونپ دی گئی،حالیہ پی ڈی ایم کے کوئٹہ جلسے کے بعد حافظ حسین احمد نے متعدد بار اپنے ٹی وی ٹاک شوز میں نہ صرف نوازبیانیہ اور نواز شریف کو رگڑکے رکھ دیا بلکہ اپنے پارٹی قائد کو بھی نہ بخشا، حافظ حسین احمد نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ اداروں سے متعلق مولانا فضل الرحمان کابیانیہ جماعت کا نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمان کا اپنا زاتی موقف ہے،ایسے سخت بیان بازی کے بعد دیر یا بذود حافظ صاحب کے پارٹی ڈسپلن کے خلاف موقف اپنانے پر کاروئی متوقع تھی،حافظ حسین احمد کے خلاف جمعیت اگر یہ کاروئی نہ کرتی تو یقیناً پی ڈی ایم میں موجود جماعتوں کے سامنے مولانا فضل الرحمان کا کردار مشکوک سمجھا جاتا،ایسی کاروئی جماعت کیلئے مجبوری بن گئی تھی ،جمعیت نے کارروائی کرکے پی ڈی ایم میں موجود پارٹیوں کے سامنے اپنی پوزیشن کلیئر کردی ہے،ایسا بھی نہیں ہے کہ حافظ حسین احمد اپنے خلاف ہونے والے کاروائی سے لا علم تھے یا نہیں ایسی کاروئی کی کوئی توقع نہیں تھی،حافظ حسین احمد کو پورا یقین تھا کہ ایسی کارروائی ہونی ہے،
حافظ حسین احمد کی اپنے قیادت سے ناراضگی آج کی نہیں ہے،بلکہ دل بھاری ہونے کا یہ قصہ کافی پرانا ہے،حالیہ دنوں میں حافظ حسین احمد کی والدہ انتقال کر گئیں،مرکزی قیادت کی جانب سے حافظ حسین احمد سے تعزیت کرنے کیلئے کوئی نہیں آیا،جب کوئٹہ میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا تھا مولانا فضل الرحمان سمیت جمعیت کی ساری قیادت کوئٹہ میں موجود ہونے کے باوجود کسی نے حافظ حسین احمد کے گھر جاکر فاتحہ خوانی کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی، جلسے کے دن حافظ حسین احمد کو بتا یا گیا کہ مولانا فضل الرحمان انکے گھر آرہے ہیں،روٹ پر سیکورٹی لگا دی گئی،حافظ حسین احمد انتظار کرتے رہے لیکن مولانا صاحب بروری روڈ تشریف نہیں لے جاسکے،مولانا عبدالغفور لہڑی صاحب کو خوف ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد کے درمیان نزدیکیاں انکے کیلئے جماعت کے اندر مسائل پیدا کرسکتی ہیں،جنرل سیکرٹری کا عہدہ حافظ حسین احمد کے پاس جا سکتاہے،جماعت میں نچلی سطح پر ایک بڑی اکثریت کے اندرمولانا عبدالغفورلہڑی سے متعلق اچھی رائے نہیں پائی جاتی ہے،کارکنوں کے خیال میں بڑی مدت سے مولاناعبدالغفور لہڑی جماعت کے دوسرے بڑے عہدے پر فائز ہوتے رہے ہیں اب انکی جگہ جنرل سیکرٹری کا عہدہ حافظ حسین احمد کو ملنا چاہئے،مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد کے درمیان تعلقات میں ایک اور بہت بڑی رکا وٹ مولانا شیرانی کو بھی تصور کیا جاتا ہے،مولانافضل الرحمان کو بتا گیا ہے کہ حافظ حسین احمد اور مولانا شیرانی کے درمیان خفیہ مزاکرات کا ایک سلسلہ جاری ہے،مولانا شیرانی چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں حافظ حسین احمد کے ساتھ مل کر ایک مضبوط گروپ تشکیل دیا جائے،صوبے کی عمومی شوریٰ (جنرل باڈی) میں اپنی گرفت مستحکم کرکے بلوچستان کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیا جائے،ظاہر ہے مرکزی قیادت سے بالا صوبائی سطح پر ایسی گٹھ بندھن مرکزی قیادت کیلئے قابل قبول نہیں،ایسی بہت ساری وجوہات نے مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد کے تعلقات میں شگاف ڈال دیا ہے،جماعت سے بنیادی رکنیت سے معطل کیئے جانے کے مرکزی فیصلے کے بعد حافظ حسین احمد نے بلاواسطہ اپنارد عمل ظاہر کردیا ہے،شائدیہ سطور انتخاب میں چھپنے تک حافظ حسین احمد کا باقاعدہ رد عمل میڈیا کے زریعہ عوام تک پہنچ جائے،اپنی ناراضگی پر لپٹی گرد پر سے مٹی ہٹا کر تصویر واضح کردیں لیکن غالب گمان یہی ہے کہ حافظ صاحب جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کی طرح اپنی جماعت سے مستعفی نہیں ہوں گے،حافظ حسین مرکزی قیادت کی جانب سے ان کو نکالے جانے کا دفاع کریں گے۔
حافظ حسین احمد اور مرکزی قیادت کے درمیان جاری اس کشمکش میں مولانا محمد خان شیرانی خاموش بیٹھنے والے نہیں ہیں،لوہا گرم ہے وہ اپنی وار کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے،مولانا شیرانی بلوچستان کے سیاست کے استاد ہیں انہیں معلوم ہے کہ کونسا پتہ کب ظاہر کرنا ہے، جماعت کے اندر مولانا شیرانی کی بڑی تعداد میں پیروکار موجود ہیں،قلات والے مولانا صدیق شاہ مرحوم کا خاندان مولانا عبدالغفور لہڑی سے تپا بیٹھا ہے،سینٹ اور صوبائی اسمبلی کے اندر بھی مولانا شیرانی کے ہم خیال لوگ موجود ہیں،بلوچستان میں ناراض عناصر کا ایک جھنڈ ہر علاقے میں خاموش بیٹھی ہوئی ہے جنہیں موجودہ قیادت سے کافی شکوہ شکایات ہیں،مولانا شیرانی کے دور میں جمعیت کے صوبائی جنرل سیکرٹری مفتی عبدالستار اور انکے ساتھی بھی اپنی صوبائی قیادت زیادہ خوش نظر نہیں آتے،یہ تمام ناراض لوگ مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد کے گرد جمع ہوکر مرکزی قیادت کو کھلا چیلنج دے سکتے ہیں، مزیدار بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم سے متعلق مولانا محمد خان شیرانی نے بھی وہی موقف اپنایا ہے جو حافظ حسین احمد کا ہے،چونکہ مولانا شیرانی کے بیان کو میڈیا کوئی خاص اہمیت نہیں ملی اس لئیے شائد مرکزی قیادت کی نگاہ مولانا شیرانی کے بیان پر نہیں پڑی حافظ حسین احمد کے بر عکس مولانا محمد خان شیرانی کو انکی جماعت کی طرف سے کوئی شوکاز نہیں دیا گیا
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں