مسلم لیگ نون ایک قدم آگے دو قدم پیچھے

سینئر نائب صدرمسلم لیگ نون مریم نواز نے غیرملکی چینل انٹرویو دیتے ہوئے کہاان کی پارٹی فوج سے مذاکرات کے لئے تیار ہے،لیکن یہ چھپ کر نہیں ہوں گے، عوام کے سامنے ہوں گے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کی جائے گی،فوج ہمارا ادارہ ہے میں ادارے کی مخالف نہیں ہوں مگر میں سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہوگا۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ”اسٹیبلشمنٹ“ نے میرے ارد گرد بہت سے لوگوں سے رابطے کئے ہیں مگر میرے ساتھ براہ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ مریم نوازکے تازہ ”بیانیہ“ میں بھی ابہام اور ایک سے زائد تضادات پائے جاتے ہیں۔ایک جانب وہ کہتی ہیں کہ فوج سے مذاکرات آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کئے جائیں گے اوراگلے سانس میں غیر آئینی شرط رکھتی ہیں:”پہلے اس حکومت کو گھر بھیجنا ہو گا“۔ حکومت کو گھر بھیجنے کا طریقہ آئین کے آرٹیکل95میں درج ہے، اس پر عمل کریں،حکومت خود بخود گھر چلی جائے گی۔آئین کا مذکورہ آرٹیکل یقینا پی ڈی ایم اور نون لیگ کی سینئر نائب صدر مریم نوازنے پڑھا ہوگا؛آئین کہتا ہے کہ قومی سمبلی کے کم از کم 20فیصد ارکان وزیر اعظم کے خلاف قرار داد عدم اعتماد پیش کر سکتے ہیں،یہ قرارداد پیش کئے جانے کے بعد تین سے سات دن کے اندربلائے گئے اجلاس میں منظور ہوتے ہی حکومت گھر چلی جائے گی۔پی ڈی ایم یا مسلم لیگ نون کی جانب سے فوج سے یہ کہنا کہ پہلے حکومت کو گھر بھیجیں پھر عوام کے سامنے مذاکرات ہوں گے کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کے سوا کچھ نہیں، اپنی سرشت میں غیر آئینی ہے۔ متضاد مطالبات نون لیگ کی قیادت کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرتے ہیں،مذکورہ مطالبے میں گیٹ نمبرچار والی جانی پہچانی بو رچی بسی محسوس ہوتی ہے۔
ملکی سیاسی منظر نون لیگ کی اپنے بیانیے سے پسپائی کا اشارہ دے رہا ہے اس لئے کہ نون لیگ پر اپنی جماعت کے اندر سے بھی شدید دباؤ دیکھنے میں آیا ہے،نون لیگ کی اعلیٰ قیادت اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوگی کہ بلوچستان سے صوبائی صدر جنرل(ر) عبدالقادربلوچ اور سردار ثناء اللہ زہری کی علیحدگی کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخواآواز اٹھی ہے۔علاوہ ازیں آج پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں نئے میثاق کے حوالے سے دی جانے والی سفارشات پر غور ہوگا۔جے یو آئی میں مولانا فضل الرحمٰن کی رائے سے اختلاف کرنے پر حافظ حسین احمد کے خلاف اقدامات شروع ہوگئے ہیں۔مریم نوازکوخود بھی ادراک ہے کہ نون لیگ کے تاحیات سربراہ محمد نواز شریف کے بیانیہ کا بوجھ اٹھا کر چلنا آسان نہیں۔پشاور میں 22نومبر کے جلسے سے نواز شریف کا خطاب پی ڈی ایم اور میزبان پارٹی(اے این پی)کے لئے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔خطاب سے پہلے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس میں گوجرانوالہ جلسے والا بیانیہ شامل نہیں ہونا چاہیئے۔کراچی میں آئی جی سندھ کے ساتھ پیش آنے وال واقعہ کے ذمہ دار افسران کو ان کے عہدوں سے علیحدہ کرکے جی ایچ کیو رپورٹ کرنے کاحکم جاری ہو چکا ہے۔اب مزار قائد پر کی جانے والی نعرے بازی کا معاملہ اہمیت اختیار کرے گا۔ اس کے اثرات براہ راست یا بالواسطہ شریف فیملی کوتنہا برداشت کرنا ہیں۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کورٹ آف انکوائری کی رپور ٹ کو ویلکم کیا ہے،اسے اچھی پیشرفت قرار دیا ہے۔اس کے برعکس نون لیگ کے رہبر نوازشریف نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ گویا پی ڈی ایم میں شامل دونوں بڑی جماعتیں اس مسئلے پر اپنی اپنی حکمت عملی پر چلیں گی اور یہ معاملہ پی ڈی ایم کے مشترکہ ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے گا۔ میثاق کے خدوخال سامنے آنے پر رہے سہے شکوک بھی دور ہوجائیں گے، مزید واضح ہوجائے گا کہ مسلم لیگ نون اپنے بیانیے پر کھڑی ہے یا اسے ترک کردیا ہے؟
کل15نومبرہے، رات تک گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج آجائیں گے۔ حقیقت سب کو معلوم ہو جائے گی کہ نون لیگ کو کتنی پذیرائی ملی۔گلگت بلتستان کے عوام نے نون لیگ کی کارکردگی کو سراہا ہے یا مسترد کر دیاہے؟جس پارٹی کی یہاں حکومت بنے گی آنے والے دنوں میں اسی کا بیانیہ بھی چلے گا۔ اور ان نتائج کا وفاق پراثر پڑے گا۔تاحال کئے جانے والے کسی سروے میں مسلم لیگ نون کی جیت کی پیش گوئی نہیں کی گئی۔یہ بات گلگت بلتستان کے عوام سے بہتر کوئی دوسرا نہیں جانتا کہ ان کے مسائل حل کرنے میں نون لیگی حکومت نے کتنی دلچسپی لی تھی۔وہی فیصلہ سنائیں گے کہ 2020کے بعد اقتدار کس پارٹی کے حوالے کیا جائے۔دھاندلی کاقبل از وقت شور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مچایاتھا لیکن تازہ اطلاعات کے ان کے وکلاء نے دائر کردہ درخواست عدالتوں سے واپس لینا شروع کر دیا ہے۔انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ جلسوں میں دھاندلی کا الزام عائد کرنا بہت آسان ہے لیکن عدالت کے روبرو قابل قبول شواہد پیش کرنا مشکل کام ہے۔جو کام ڈونلڈ ٹرمپ صدر ہوتے ہوئے نہیں کر سکے،کیسے مان لیا جائے کہ مریم نواز کر لیں گی۔ نون لیگ پہلے ہی عدالتی معاملات میں گھری ہوئی ہے۔مریم نواز ضمانت پر ہیں،نوازشریف علاج کے لئے جیل سے لندن پہنچے ہیں۔ پاکستان میں عدالتیں انہیں اشتہاری قرار دے رہی ہیں۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ نیب کورٹ کی عمارت کے قریب پتھراؤ کرنے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمات زیر سماعت ہیں۔اس کے باوجود یہ کہنا کہ ”اسٹیبلشمنٹ“ ان کے ان کے ارد گرد بہت سے لوگوں سے (7ستمبر2020کے بعد بھی)رابطے کئے ہیں، عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہیں۔زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں