مشال کے قتل پر سزائے موت پانے والے مجرم کی سزا عمر قید میں تبدیل
پشاور ہائیکورٹ نیمشال قتل کیس میں مجرم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عمران کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔
عدالت نے 25 ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا اور تمام 25 ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے 7 ملزمان کی عمر قید کی سزا کو بحال رکھا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس عتیق شاہ نے 30 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، مجرموں نے پشاور ہائیکورٹ میں انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں کی تھیں۔مشال قتل کیس کا فیصلہ: ایک مجرم کو سزائے موت، 26 بری
عدالت نے مذکورہ 25 ملزمان کی 3 سال کی سزا بھی برقرار رکھی ہے۔7 فروری 2018 کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ ہری پور سینٹرل جیل میں سنا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج فضل سبحان نے فیصلہ سناتے ہوئے 58 گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم عمران کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے 5 ملزمان میں سے فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان کو عمر قید جب کہ ملزمان مدثر بشیر اور بلال بخش کو عمر قید کے ساتھ ساتھ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزائیں سنائیں تھیں۔


