پی ڈی ایم بمقابلہ کرونا

پی ڈی ایم کی جانب سے بہت پہلے چاروں صوبوں میں 6جلسوں کے انعقاد کا اعلان کردیا گیا تھا۔ 30نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی ملتان کے جلسے کی میزبان ہے، اس روز پی پی پی کا یوم تاسیس بھی ہے۔حکومت اس جلسے کے انعقاد کی اجازت دینے سے تاحال انکاری ہے۔حکومت کاکہنا ہے کہ اس دوران کورونا کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اتنے بڑے اجتماع میں خدشہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد متأثر ہو سکتی ہے۔اپوزیشن سے مسلسل اپیل کی جارہی ہے کہ اپنااحتجاج کورونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لئے ملتوی کر دی جائے جبکہ اپوزیشن کا اصرار ہے کہ جلسہ ملتوی نہیں کیا جائے گا،قاسم باغ کا دروازہ نہ کھولا گیا تو سارے ملتان کی سڑکوں پر جلسہ ہوگا۔حکومت نے پی پی پی کی ریلیوں کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے موسیٰ گیلانی سمیت 40کارکن گرفتار کئے گئے تھے، اگلے روز عدالت سے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔مختلف مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو تصادم کے امکانات بڑھ جائیں گے،امن و امان کی صورت حال ابتر ہوجائے گی، دوسرے شہروں تک پھیلنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت جلسہ گاہ تک پہنچنے کے راستے بند کرنے کے بعد رات گئے تک اجازت نامہ جاری کردے جیسا کہ ماضی میں انتظامیہ کی روایت رہی ہے۔ بہر حال کورونا کے اعدادوشمار پوری دنیا میں خوفناک حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ کرسمس کی تقریبات بھی متأثر ہوں گی، بعض ملکوں میں لاک ڈاؤن پہلے سے جاری ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں کورونا سے اب تک1لاکھ35ہزار سے زائد ہلاکتیں جبکہ متأثرین کی تعداد93لاکھ سے زائدہے۔پاکستان میں اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
کورونا محض پروپیگنڈا نہیں، پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کورونا کی زد میں آنے کے باعث اپنی بہن کی منگنی کی تقریب میں شرکت نہیں کر سکے، ملتان کے جلسے سے بھی شائد ویڈیو لنک کی سہولت سے استفادہ کیا جائے گا۔سندھ میں کورونا ایک بار پھر بے قابو ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے باوجود لاڑکانہ میں جے یو آئی کے جلسے میں اگلے روز حاضرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام آدمی کورونا کواتنا سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتا،ماسک پہنے کو تیار نہیں۔ایسے نفسیاتی ماحول میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔پی پی پی کے رہنما سردار نبیل گبول نے تجویز دی ہے کہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں،وہ جلسہ گاہ نہ آنا چاہیں تو بیشک نہ آئیں لیکن حکومت زبردسی روکنے کی کوشش نہ کرے۔پاکستان میں شعور اس بلند سطح تک پہنچ چکا ہوتا توہوٹل اور دکانیں سیل کرنے کی نوبت نہ آتی۔کچھ قدرت بھی مہربان ہے کہ پاکستان میں کورونا کے ہاتھوں اٹلی جیسی تباہی نہیں پھیلی۔مگر لاپروئی اور احتیاطی تدابیر سے کھلا انکار کسی بڑے عذاب کاسبب بھی بن سکتا ہے۔یہ حقیقی فراموش نہ کی جائے کہ قدرت قانون پر عمل نہ کرنے والوں کوعبرت ناک سزا دیتی ہے۔ خودکشی کرنے والے مرتے ہیں، دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے ہلاکتیں اس کا ثبوت ہیں کہ احتیاط نہ کی جائے تو جانی نقصان ہوتا ہے۔ اگر کورونا سے کچھ نہیں ہوتا تو پی پی پی کے چیئرمین اپنی بہن کی منگنی کی تقریب میں کیوں نہیں شریک ہوئے؟نیوزی لینڈ میں پاکستانی ٹیم کو پریکٹس سے کیوں روک دیا گیا ہے؟سب کچھ نظر آرہا ہے، دیکھنے کے بعد ایسی ضد سمجھ سے بالاتر ہے۔کوئی ذی ہوش انسان اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔پی ڈی ایم کی قیادت کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے اپنے احتجاجی شیڈول پر نظر ثانی کرے۔کورونا ایک اذیت ناک، اور جان لیوا مرض ہے۔اسے جان بوجھ کر گلے کاہار نہ بنایا جائے۔ممکنہ حد تک بچنے کی کوشش کی جائے۔ترقی یافتہ ملک اس بیماری کے سامنے بے بس ہیں۔پاکستان کے عوام کوئی انوکھی مخلوق نہیں کہ کورونا انہیں کچھ نہیں کہے گا، سمجھداری سے فیصلے کئے جائیں۔
پی ڈی ایم کی قیادت تجربہ کار اور معاملہ فہم سیاست دانوں پر مشتمل ہے۔پاکستان کے معاشی حالات ان سے پوشیدہ نہیں۔یہ بحث فضول ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست دان سرجوڑ کر بیٹھیں،موجودہ پریشان کن حالات سے نکلنے کے لئے جو کچھ کیاجاسکتا ہے اسکے مطابق لائحہ عمل بنائیں۔حکومت بھی اپوزیشن کودیوار سے لگانے کی غلطی نہ کرے۔اپوزیشن ہی مستقبل کی حکومت ہواکرتی ہے۔ عرب ممالک نے اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے اس کے اثرات یقینا پاکستان پر پڑیں گے۔اپنا حامی بنانے کے لئے پاکستانی مزدوروں کوواپس بھیجنے کا خطرہ موجود ہے۔Current deficitبیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات پورا کرتی ہیں۔ گزشتہ 7 دہائیوں میں ملکی برآمدات اس سطح تک نہیں پہنچ سکیں کہ پاکستان معاشی دباؤ کادیر تک مقابلہ کر سکے۔ ان مشکلات کی ذمہ داری اپوزیشن کو بھی قبول کرنی چاہیے۔2018میں ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ قرضوں کی ادائیگی کے لئے دوست ملکوں کے آگے ہاتھ پھیلایا گیا تو اس مجبوری تک پاکستان کو دھکیلنے کے اسباب بھی زیر بحث لائے جائیں۔جمہوریت عوام کی فلاح میں ناکام ہوجائے تو اس کی جاذبیت اپنی کشش کھو بیٹھتی ہے۔صرف جمہوریت کی گردان سے موجودہ حکومت گھر نہیں جائے گی۔عوام جہالت، بیماری، اور غربت کا شکار ہیں تعلیمی ادارے بند ہیں۔ اپوزیشن کورونا کے خطرات بڑھا کر اس میں مزید اضافے کی غلطی نہ کرے۔کورونا کی دوسری لہرماضی کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا ہے۔دنیا بھر کے ڈاکٹر پی ٹی آئی کے کارکن نہیں،ان کی وارننگ کو نظر انداز نہ کیاجائے۔توقع ہے کہ حکومت بھی ملتان کے جلسے کو سیاسی تناظر میں دیکھتے ہوئے اپنے رویہ میں لچک پیدا کرے گی۔جلسے جلوس جمہوری سیاست کا حسن ہیں۔روک دیئے جائیں تودم گھٹنے لگتاہے۔حبس بڑھ جائے تو لوگ لو کی دعائیں مانگنے لگتے ہیں۔ کوشش کی جائے آئندہ سیاسی لو ملک کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔ دونوں فریق سمجھداری سے کام لیں۔30نومبر پر امن گزارا جاسکتا ہے۔یوم تاسیس سے کارکنوں جذباتی لگاؤ فطری امر ہے حکومت اسے بھی سامنے رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں