آخر وہی ہوا!

دونوں فریق مناسب حکمت عملی وضع کرتے،اس تصادم سے بچا جا سکتا تھا۔پی ڈی ایم کو گوجرانوالہ، کراچی،کوئٹہ اور پشاور میں جلسے کرنے کا موقع ملا، قائدین نے حکومت کی پالیسیوں پر جتنی تنقید کرنی تھی کرلی۔جتنی دل کی بھڑاس نکالنی تھی نکال لی۔جلسوں سے یہی کچھ حاصل کیاجا سکتا ہے۔ عوام کو کھلے مقامات پر جمع کرکے حکومت کو دکھایا جاتا ہے کہ ہم تنہا نہیں،ہمارے ہمدرد ہمارے حمایتی کثیر تعداد میں آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ہم ایک اشارہ کریں حکومت کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی، ایک لات ماریں حکومت گر جائے گی۔یہ سب کتابی باتیں ہیں، عملی زندگی کے تقاضے کچھ اور ہیں۔پی ڈی ایم کی قیادت زمینی حقائق سے باخبر ہے جانتی ہے مجمع اپنے گھروں کو لوٹ جائے گا تو ماضی میں جو روایت رہی ہے وہی دہرائی جائے گی، مقدمے درج ہوں گے گرفتاریاں ہوں گی، جیل بھیجے جائیں گے۔پھر عدالتیں ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کریں گے۔جو صاحب حیثیت ہیں با آسانی اخراجات برداشت کر لیں گے مگر غریب کارکن پر جو گزرتی ہے اسے کارکن کے خاندان کے سوا کوئی نہیں جانتا۔خاندان کا کفیل جیل میں قید ہوتو فاقوں کی نوبت آجاتی ہے۔عدالت ضمانت کا حکم جاری کردے تو ضامن کی تلاش ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔شدید زخمی ہونے والوں کا کرب دیدنی ہوتا ہے علاج معالجہ آسان نہیں۔ماڈل ٹاؤن (لاہور) کے مقتولین آج تک انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، زندگی بھر کے لئے معذور ہوجانے والے تو زندہ درگور ہیں۔جو کل ہوا تھا، وہی کچھ آج کیا جائے گا۔قائدین ہاتھ ہلاتے ہوئے جیل سے نکلیں گے،شاہی خاندان کے بھیجے ہوئے جہاز میں بیٹھ کر لندن جاتے رہیں گے مگرغریب کارکن ریاستی قہر اپنی ناتواں جان پر برداشت کرے گا۔ حکومت کے لئے کورونا کی روک تھام پہلی ترجیح ہے۔روزانہ کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 50تک پہنچ گئی ہے 2سو سے زائد مریض اسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے قاسم علی قاسم کی طبیعت خراب ہونے پر اسپتال لے جانا پڑا کوروناٹیسٹ لیا گیا ہے۔
حکومت کورونا کے حوالے سے کسی لاپروائی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔خدانخواستہ حالت قابو سے باہر ہوگئی تو یہی اپوزیشن (پی ڈی ایم) حکومت کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔امریکہ میں مسلسل 26ویں روز 1لاکھ سے زائد نئے کیسزسامنے آرہے ہیں۔امریکہ میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2لاکھ73ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔پاکستان کورونا کے پھیلاؤ کے سامنے دیر تک کھڑارہنے کی سکت نہیں رکھتا، ڈھیر ہوجائے گا۔ پہلی لہر میں بڑی تباہی سے بچ گیاتھاضروری نہیں کہ دوسری لہر کے نتائج پہلی لہر جیسے ہوں۔صورت حال بگڑ سکتی ہے قابوسے باہر ہو سکتی ہے۔پی ڈی ایم کو اسی ملک میں عوام کی خدمت کرنی ہے۔پی ڈی ایم کی قیادت کو یاد ہوگا کہ کورونا کی پہلی لہر آئی تو پاکستان میں کارآمد وینٹی لیٹرز کی تعداد بہت کم تھی زیادہ تر خراب پڑے تھے۔پاکستان میں وینٹی لیٹرز تیار نہیں کئے جاتے تھے، درآمد ہوا کرتے تھے۔آج پاکستان نہ صرف وینٹی لیٹرز اپنی ضرورت کے لئے تیا رکر رہا ہے بلکہ برآمد بھی کر رہا ہے۔کورون کے لئے درکار تمام لوازمات پاکستان میں تیار کئے جا رہے ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ کورونا کو روکنے میں لاپروائی برتی جائے احتیاط کی تمام حدیں عبور کرلی جائیں۔عوام کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ریاست اپنی ذمہ داری حکومت کے ذریعے پوری کرتی ہے۔یہی وجہ کہ وزیر اعظم عمران خان اگلے روز اپنے وزراء آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف ایئراسٹف ایئر مارشل مجاہد انور خان چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی اور دیگر فوجی افسران کے ساتھ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر پہنچے جہاں انہیں ڈائریکٹرجنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے علاقائی اور ملکی صورت حال پرتفصیلی بریفنگ دی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئیٹ میں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اپوزیشن عوام کی زندگیوں اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے ان لوگوں کو عوام کی زندگی کی کوئی فکر نہیں یہ این آر او کے حصول کے لئے ہر حربہ اختیار کر رہے ہیں ان کی پوری توجہ لوٹی ہوئی دولت بچانے پر ہے لیکن انہیں این آر او نہیں ملے گا۔تاہم دوپہر تک ملتان انتظامیہ کے رویہ میں اچانک نرمی آگئی جلسہ میں شرکت کے لئے آنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور جوش و جذبہ کو دیکھتے ہوئے پولیس کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت ملی اور کاکن تیزی سے قاسم باغ کی طرف بڑھنے لگے۔قائدین نے جلسے کے انتظامات کی ذمہ دار ٹیم کو ہدایت کردی ہے کہ تیزی سے اسٹیج اور کرسیاں لگا دی جائیں۔ انتظامیہ نے اپنا فیصلہ تبدیل کرکے جلسہ کی راہ ہموار کردی۔اس سے کسی بڑے تصادم کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔مبصرین نے حکومت کو سخت رویہ نہ اپنانے کا مشورہ دیا تھا۔پی پی پی کو یوم تاسیس بھرپورانداز میں میں منانے کا جمہوری حق حاصل ہے۔اچھا ہوا حکومت نے حالات کو بگڑنے سے بچا لیا۔امید ہے 13دسمبر تک امن و امان کی صورت حال میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملے گی۔حکومت کو علم ہوجانا چاہیئے کہ سیاسی جذبات کے سامنے کوروناکا خوف رکاوٹ نہیں بن سکے گا۔حکومت اپنی جلسے نما تقاریب کو جب تک ترک نہیں کرے گی عام آدمی کورونا کے پھیلاؤ کے سرکاری اعدادوشماراورخدشات کو درست نہیں مانے گا۔ حکومت اپنے اوپر احتیاطی تدابیر نافذ نہیں کرے گی تب تک پی ڈی ایم کے جلسوں کو نہیں روک سکے گی۔ویسے بھی ککر سے بھاپ نکلنے کا راستہ بند کردیا جائے تو دھماکہ ہوتا ہے جو ہلکی بھاپ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اپوزیشن کو سانس لینے کا موقع ملنا چاہیئے اور دوسری جانب حکومت مہنگائی کو نیچے لانے میں سنجیدگی اختیار کرے۔چینی، آٹا، دالیں،سبزیاں اور پھل عو ام کی قوت خرید کے مطابق فراہم کئے جائیں۔یہی دانشمندانہ سیاسی و معاشی طریقہ ہے۔انتظامی سختی سے گریز کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں