انتخابی دھاندلی کا مقدمہ امریکی سپریم کورٹ نہیں سنے گی؟
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ 19جنوری تک صدر کے عہدے پر موجود رہیں گے20جنوری کو نئے صدر کی حیثیت سے جوبائیڈن حلف اٹھائیں تب نئے صدر کے 4سالہ اقتدار کا آغاز ہوگا۔پاکستانی عوام نے اگلے روزامریکی صدرونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان بڑی حیرانگی سے سنا کہ اچھے وکلاء کی خدمات حاصل ہونے کے باوجودوہ انتخابی مقدمے کے حوالے سے یقین رکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ ان کا مقدمہ نہیں سنے گی۔حالانکہ ان کے پاس سینکڑوں ثبوت موجود ہیں۔پاکستانی عوام کی حیرانگی کی ایک سے زائد وجوہات ہے؛ پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ امریکی عدالتی نظام کوآئیڈیل سمجھتے ہیں،دوسری وجہ یہ ہے کہ234سال سے امریکہ میں جمہوریت قائم ہے۔46ویں صدرمقررہ تاریخ پر حلف اٹھائیں گے،چوتھی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں اس دوران ایک بار بھی مارشل لاء نہیں لگایا گیا۔سیاست دانوں کی حکومت برسراقتدار رہی، پانچویں وجہ یہ کہ امریکی شہری تعلیم یافتہ ہیں، دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں امریکہ میں معیاری تعلیم دے رہی ہیں، کوئی گھوسٹ تعلیمی ادارہ وہاں موجود نہیں۔ چھٹی وجہ یہ ہے کہ ملک میں صرف دو سیاسی پارٹیاں ہیں جن کے انتخابی نشان ہاتھی اور گدھا ہیں۔یعنی جانوروں سے صرف محبت نہیں کی جاتی بلکہ ان کی عزت بھی کی جاتی ہے۔ووٹرز ہاتھی اور گدھے دونوں کو ووٹ دیتے ہیں۔اتنے شاندار ماحول میں پیدا ہونے والے گوری نسل کے ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان پر یہ جملہ پاکستانیوں کی بھاری اکثریت کے لئے حیران کن ہے۔صرف قلیل تعداد میں ایسے پاکستانی ہیں جو اسی روزسمجھ گئے تھے جب صدارتی امیدوار الگور نے صحافی کو جواب دیا تھا:
”میں 4سال بعد جیت جاؤں گا لیکن عدلیہ پر کوئی داغ لگ گیا صدیوں نہیں دھلے گا“
اس جملے میں بصیرت کے ساتھ اذیت ناک کرب بھی جھلک رہا ہے جو الگور جیسا شریف النفس امریکی سیاست دان بڑی خوبصورتی سے پی گیاتھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ابھی بصیرت کی اس بلندی تک نہیں پہنچے کہ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برت سکتے۔ امریکی عدل کو عد ل کی معراج سمجھنے والے تواس سیاہ فام شہری کی سادہ، مختصراور بامعنی درخواست میں چھپی امریکی معاشرے کی مکروہ تصویر بھی نہیں دیکھ سکے،جو گوری نسل کے پولیس افسر سے عاجزی سے کہہ رہا تھا:
”میری گردن پرسے دباؤ کم کرو،میں سانس لے سکوں“
جس ملک میں صدارتی امیدوار اور عام شہری انتظامیہ اور عدلیہ کی پستی کا ماتم کر رہے ہوں، برسر اقتدار صدر مایوسی سے برملا کہہ رہا ہو کہ سینکڑوں ثبوت ہونے کے باوجو د امریکہ کے قابل ترین وکلاء انتخابی دھاندلی کا مقدمہ سپریم کورٹ لے کر جائیں گے تو عدالت نہیں سنے گی۔ وہ کسی ادارے پر الزام نہیں لگا رہے، جو کچھ کہہ رہے ہیں براہ راست عدلیہ کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ دراصل بین السطور ڈونلڈ ٹرمپ اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ امریکی پارلیمنٹ طویل پارلیمانی تاریخ رکھنے کے باوجود ابھی تک ایک چھوٹے سے مفاد پرست ٹولے کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے جو الیکشن کے دوران دونوں سیاسی پارٹیوں کو ڈونیشن کے نام پر کثیر سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ اس لئے پارلیمنٹ میں پہنچنے والے تمام پارلیمنٹیرینزاپنا ضمیر چندہ دینے والے ٹولے کے پاس گروی رکھنے کے بعد حلف برداری کی تقر یب میں شرکت کرتے ہیں۔
یہ وہی کہتے ہیں جو کہلائے مالک
ورنہ کیوں چوری کھلائے مالک؟
پارلیمنٹ آئین ساز ادارہ ہونے کی بناء پر تمام اداروں عدلیہ،انتظامیہ }سول اور ملٹری بیورو کریسی { اور حکومت کی ماں کہلاتی ہے۔لیکن ”ماں اپنے ان”بیٹوں“ کی محتاج ہوتی ہے جوان حلف اٹھانے والوں کونان نفقہ فراہم کرتے ہیں، پالتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں با اختیار پارلیمنٹ اس وقت وجود میں آئے گی جب پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لئے سرمایہ بنیادی ضرورت نہیں ہوگا۔صوبائی سیاست میں شامل ہونے کے لئے صرف اس شہری کو استحقاق حاصل ہو جو یونین کونسل کاالیکشن جیت چکا ہو، اور وزیر اعظم کا انتخاب لڑنے کی اہلیت کسی بڑے شہر کا میئر ہونا مقرر کی جائے۔الیکشن کے اخراجات کمترین سطح (صفر کے قریب) لائے جائیں۔کسی امیر شخص سے چندہ(ڈونیشن) لینے کی ضرورت نہ ہوبلکہ چندہ لینا /دیناجرم قراردیا جائے۔شناختی کارڈ ہی ووٹ کانمبر ہو۔مردم شماری کا نظام افراد کی مرضی کے تابع نہ ہو، جیسے ہی کسی بچے کا برتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو اس کانام مردم شماری کے متعلقہ علاقائی ریکارڈکا حصہ بن جائے اور شناختی کارڈ کے اجراء کے ساتھ ووٹر لسٹ میں خود بخود درج ہو جائے۔ اسی طرح مرنے والے کانام اس کی تدفین کے ساتھ ہی مردم شماری کے ریکارڈاور ووٹر لسٹ پر ”مرحوم“ آ جانا چاہیئے۔نہ کوئی مردہ ووٹ ڈال سکے اور نہ ہی اس کے نام پر اکاؤنٹ کھلے اور بھاری رقوم بیرون ملک بھیجی یا منگوائی جا سکیں۔تمام خرابیوں کی جڑ مہنگے انتخابات ہیں جو دولت مندوں کے چندے کے بغیر منعقد ہونا ممکن نہیں۔یاد رہے کہ دولت مندوں کے احسانوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے اراکین پارلیمنٹ احسان فراموشی نہیں کر سکتے۔امیدوار کے لئے نام پیش کرنے اور تائید کنندہ کی اول تو ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیئے اس کی یونین کونسل میں جیت ہی کافی سمجھی جائے۔ صوبائی اسمبلی کے لئے یو سی اور قومی اسمبلی کے لئے صوبائی اسمبلی میں جیتنا لازمی قرار دیا جائے۔اس کے بغیر موروثی سیاست کا خاتمہ ممکن نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ بھی اگر دوبارہ جیت جاتے تو اپنی لاڈلی بیٹی کو صدر ارتی الیکشن لڑانے کا ارادہ رکھتے تھے۔یہ تو باپ کی سیاست اپنے بیٹے/بیٹی کے لئے مختص کرنا ہوا، عوام تو کہیں وجود نہیں رکھتے۔پاکستان میں بھی آئندہ انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔بلدیاتی انتخابات کے لئے کوئی نیا نظام متعارف کرنے کی باتیں طویل عرصے سے سنی جارہی ہیں مگر قانونی خدو خال تحریری شکل میں تا حال سامنے نہیں آئے۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اپنا انتخابی تنازعہ واپس نہیں لیں گے مگر ان کی گفتگو اور لب و لہجے سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ20جنوری 2021کو وائٹ ہاؤس خالی کر دیں گے۔پی ڈی ایم نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو رضاکارانہ گھرجانے کا مشورہ دیا ہے بصورت دیگر لائحہ عمل کا اعلان کیاجائے گا۔ پارلیمنٹ میں عوام کے منتخب نمائندے جو خود بھی عوام میں سے ہوں،کسی سرمایہ دار کی دی ہوئی دولت خرچ کرکے الیکشن نہ جیتے ہوں تو ایسے اعلانات اور دھمکیوں کی ضرورت نہیں رہے گی صرف الیکٹڈ پارلیمنٹ وجود میں آئے گی، سلیکٹڈ پارلیمنٹ کے امکانات صفر ہو جائیں گے۔


