بلوچستان میں خواتین کی حالت زار بہتر بنانے کی ضرورت ہے،مقررین

کوئٹہ :عورت فانڈیشن کے زیر اہتمام جذبہ ڈسٹرکٹ فورم کاانعقاد کیا گیا جس میں ہیومن رائٹس کمیشن کے وائس چیئرمین حبیب طاہر ایڈووکیٹ، عورت فانڈیشن کی جذبہ پروجیکٹ کے پروگرام منیجر یاسمین مغل، پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض، سیاسی و سماجی کارکن شاہدہ ارشاد، عورت فانڈیشن کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر علاؤ الدین خلجی،زرغونہ ایڈووکیٹ ودیگر نے شرکت کی۔شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے عورت فانڈیشن کی جذبہ پروجیکٹ کے پروگرام منیجر یاسمین مغل نے کہاکہ جذبہ پروجیکٹ کوئٹہ، سبی، کیچ اور گوادر میں جاری ہے جس کا مقصد خواتین پر تشدد ودیگر سے متعلق لوگوں میں آگاہی اور خواتین کوبااختیار بناناہے،انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے پروگرام محدود ہوا تاہم عورت فاؤنڈیشن نے جذبہ پروجیکٹ کے تحت کورونا سے متاثرہ خواتین میں راشن تقسیم کیا بلکہ رواں سال 2020 میں دنیا بھر کی طرح عورتوں پر ہونے والے تشدد اور جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کیلئے 16روزہ مہم جو دنیا میں عورتوں پر تشدد اور جبر کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پر منائے جاتے ہیں 10 دسمبر تک تک جاری رہے گا۔اس سلسلے میں لوگوں میں شعور وآگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے،بلوچستان میں خواتین کی حالت زار بہتر بنانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں انہیں سیاسی عمل میں شمولیت کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر مستحکم کیا جائے اور زندگی کے تمام شعبوں میں نمائندگی دی جائے۔خواتین کے حقوق کی سب سے بڑی گارنٹی انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ عورت کو واقعی طور پر اس کا مقام دینا مقصود ہو تو انہیں سیاسی، تعلیمی، انتظامی اور مالی طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔ ہم نے آج تک عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا۔ ان کو طرح طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ موجودہ صورتحال کرونا کے باعث خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کرونا کے باعث محنت کش عورت جہاں معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے وہاں اسے گھریلو تشدد کا زیادہ سامنا کرنا پڑا۔ بچیوں کی کم عمری اور جبری شادی کے رجحانات سے بچیوں کی صحت پر خطرنات اثرات مرتب ہورہے ہیں،انہوں نے کہاکہ میڈیا، ٹریڈ قدغن کا شکار ہے آئین کے تحت اظہار رائے کی آزادی، تجارت کی آزادی کا حق حاصل ہوتا ہے طلبا سیاست کا اہم رول تھا لیکن 21 ویں صدی میں طلبا سیاست پابندی کا شکار ہیں، سیاست ہر شخص کا بنیادی حق ہے لیکن آج ملک میں سیاست قدغن کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ آئین میں انسانی بنیادوں پر برابری کی سطح پر حقوق دئیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ شعور کا فقدان ہے قوانین بنتے ہیں لیکن عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے بلوچستان میں 18 ویں ترمیم کے بعد 4 وومن پرو قوانین بنائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں