مذہبی /سیاسی جلسوں پر پابندی کی درخواست مسترد
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری نے پیٹشن دائر کری جس میں درخواست کی گئی تھی کہ معزز عدالت سیاسی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کرے تاکہ کورونا کے پھیلاؤ سے لوگوں کی جان اور صحت جو خطرات لاحق ہیں ان سے بچاجا سکے۔اس کے علاوہ یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ پیمرا کو کورونا کے حوالے سے نیشنل کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر کی جاری کردہ گائیڈلائن کی خلاف ورزی کرنے والوں کی خبر چینلز پر چلانے سے بھی روکا جائے۔عدالت نے اس درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ کورونا سے متعلق جاری کردہ عدالتی حکم پر کوئی عملدرآمد نہیں کرا رہا،سب سیاست میں مصروف ہیں، ہم کیوں مداخلت کریں؟لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے بھی لاہور میں پی ڈی ایم کا 13دسمبر کو منعقد ہونے والا جلسہ رکوانے کی ایسی ہی ایک درخواست مسترد کردی ہے۔عدالت نے مزید کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں ادارے نہیں ہیں،آئین کے مطابق رٹ قابل سماعت نہیں۔عام طور پر یہی سمجھاجاتا ہے کہ عدالتی فیصلہ آجانے کے اس پر من و عن عملدرآمد ہونا چاہیئے۔ اگر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جائے تو اسے توہین عدالت کا مجرم کہہ کر عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ نون کے بعض رہنماؤں کو ”توہین عدالت“کے جرم میں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی:”کیوں نہ تمہیں توہین عدالت کے مرتکب ہونے پر جیل بھیج دیا جائے؟“،ہر مجرم نے غیر مشروط معافی مانگے اور فیصلہ معزز عدالت کی صوابدید پر چھوڑ دیا۔ معزز عدالت نے رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیشتر کیسز میں معاف کردیا۔البتہ ایک چیف جسٹس پاکستان پرتواتر سے جارحانہ تنقیدکرنے پرکراچی کے ایک شہری کو سزاسنائی گئی۔چند ہفتے قبل سندھ ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو توہین عدالت کے تحت شخصی طور پر طلب کر لیا ہے،آئندہ سماعت پر معلوم ہوگا عدالت ملزم کی وضاحت قبول کرلیتی ہے یا یوسف رضا گیلانی کی طرح وہ گھر جائیں گے؟توہین عدالت قابل سزا جرم ہے۔
اسلام آباد نے کورونا کے حوالے سے انسانی جانوں کو لاحق خطرات کے ایک جیسے سوال پر دومختلف فیصلے سنائے۔ عام آدمی اپنی کم علمی کے باعث یہی سمجھے گا کہ معزز عدالت نے پہلا فیصلہ محض اس بناء پر واپس لے لیاہے کہ حکومت نے عدالت کے پہلے فیصلے پر عمل نہیں کرایا، دوسری جانب سوسائٹی بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی،جلسوں میں شرکتترک کرنے کوتیارنہیں۔ اس لئے عدالت کیوں مدخلت کرے؟ عام آدمی کے سر سے اگر کسی وجہ سے عدالت کا سایہ ہٹ جائے تو وہ ظلم کی تپتی دھوپ میں بے سہارا ہوجائے گا۔کہا جاتا ہے برطانیہ کے وزیراعظم سر ونسٹن چرچل نے سوسال قبل جرمنی کی جانب سے کی جانے والی فضائی بمباری کے دوران گھبرائے صحافی کو جواب دیاتھا جب تک عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں برطانیہ محفوظ ہے۔ ملکی سلامتی کی سب سے مضبوط اینٹ چرچل کی نگاہ میں عدلیہ کی جانب سے انصاف کی فراہمی تھی اور آج بھی چرچل کایہ جواب قانونی حلقوں میں ایک ضرب المثل کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ امید ہے کہ عام آدمی کی رہنمائی کے لئے کسی مناسب وقت پر مفاد عامہ کے ایسے ہی کسی مقدمے میں عام آدمی کی اس ذہنی الجھن کودور کر دے گی۔بلکہ بعض وکلاء بھی یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ ایک ہی سوال پر، ایک ہی عدالت، چند دن کے وقفے سے دو مختلف فیصلے سنائے توزیادہ معتبر، زیادہ مفید اور زیادہ قابل عمل فیصلہ کون سا ہوگا؟پریشانی اس وقت دوگنا ہو جاتی ہے جب لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دوسرے فیصلے کی تائید کررہا ہے، ایک ہی روزسنایاگیا ہے، اخبارات میں ایک ساتھ چھپا ہے۔ عدالتی فیصلے ہی نظیر بنتے ہیں۔مستقبل کے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔عام آدمی بلواسطہ یا بلاواسطہ متأثر ہوتاہے۔ عام آدمی کی آسانی کے لئے اس قانونی الجھن کودور کیاجانا از حد ضروری ہے۔
پارلیمنٹ کے بعد عدلیہ سب زیادہ بااختیارادارہ ہے اس لئے کہ آئین سازی کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہونے کے باوجود آئین کی تشریح کااختیار عدلیہ کو حاصل ہے۔ثبوت کے طور پر 19ویں آئینی ترمیم دیکھی جا سکتی ہے۔اٹھارہویں ترمیم کے تحت ججوں کی تقرری کے لئے متعین کردہ طریقہ کار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔سپریم کورٹ نے 21اکتوبر2010ء کواپنا عبوری فیصلہ سناتے ہوئے آئینی کمیٹی اور مجلس شوریٰ کو چار تجاویز پیش کیں۔تیسری تجویز تھی: اگر پارلیمانی کمیٹی کے تین چوتھائی ارکان کسی جج کے نام پر اتفاق نہیں کرتے تو کمیٹی کو اس کی نہایت معقول وجوہات بتانا ہوں گی۔چوتھی تجویز:”جوڈیشل کمیشن ان وجوہات پر غور کرنے کے بعد اگر اپنا فیصلہ برقرار رکھتا ہے تو یہ حتمی تصور ہوگا اور صدر مملکت اس کے مطابق تقرری کریں گے“۔ آئینی کمیٹی نے سپریم کورٹ کی چوتھی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا: اس سے پارلیمنٹ کی بالا دستی کا تصور مجروح ہوتا ہے۔اس لئے طے کیاگیا کہ اگر جوڈیشل کمیشن کے تجویز کردہ کسی جج کے نام پر آئینی کمیٹی کے تین چوتھائی ارکان اختلاف رائے کریں گے تو اس جج کاتقرر نہیں ہوگااور وزیر اعظم کمیشن کو کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ قومی اسمبلی کی منسوخی کی صورت میں صرف سینیٹ کے 4ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عدلیہ آئین کی تشریح کا استحقاق رکھتی ہے۔دیگر آئینی ادارے اگر آئین کی خلاف ورزی کریں تو عدلیہ اصلاح کرنے کی مجاز ہے۔ عام آدمی کی تمام امیدیں عدلیہ سے وابستہ ہیں۔عام آدمی کو یقین ہے کہ اس کے مفادات کو کسی نے نقصان پہنچایا تووہ عدلیہ کادروازہ کھٹکھٹائے گااور عدلیہ اس کے مفادات کی حفاظت کیلئے موجود ہے۔ اس کے مفادات پر آنچ نہیں آنے دے گی۔عام آدمی کایہ اعتماد قائم رہنا چاہیے۔اسی اعتمادکے سہارے وہ چالیس،پچاس سال تک عدالتوں میں پیشیا ں بھگتنا برداشت کر لیتاہے۔ اس اعتماد کو ٹھیس پہنچی تو وہ مایوس ہو جائے گا۔


