کرسیاں، ساؤنڈ سسٹم دینے والوں کے خلاف کارروائی
پی ڈی ایم کا ملتان میں جلسہ روکنے میں ناکامی پرحکومت نے فیصلہ کیا ہے؛آئندہ جلسے نہیں روکیں گے،مقدمات قائم کریں گے۔رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں انقلابی بننے کا موقع نہیں دیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں عوامی مسائل پر بحث میں کوئی دلچسپی نہیں، معاشرے کو چوروں اور عام لوگوں میں فرق کرنا ہوگا۔اپوزیشن کی جانب سے فوراً جواب دیا گیا: جھوٹے مقدمات سے نہیں گھبراتے، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے حکومت کے دھڑن تختہ ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔وہ پہلے ہی یہ رائے دے چکے ہیں کہ اعلان جنگ ہو جانے کے بعد اسے واپس لینا غیر اسلامی ہے۔اپوزیشن،بالخصوص جے یو آئی کے سربراہ،پہلے دن سے عندیہ دے رہے ہیں کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔حکومت کا کہنا ہے جیسے ہی اپوزیشن مستعفی ہوگی،ضمنی انتخابات کرا دیئے جائیں گے۔حکومت کو اندازہ نہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں اراکین کے مستعفی ہونے کے بعد پارلیمنٹ کی ساکھ پر کتنا منفی اثر پڑے گا؟حکومت تصویر کا صرف ایک رخ دیکھ رہی ہے اس لئے اسے اندازہ نہیں کہ اپوزیشن گنتی کے لحاظ سے معمولی سی پیچھے ہے،آدھی پارلیمنٹ خالی ہوجانے کے بعد باقی ماندہ پارلیمنٹ کی حیثیت اخلاقی طور پر کمزور ہو جائے گی۔لیکن گزشتہ 28ماہ سے پارلیمنٹ جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ بھی اپنی جگہ قابل رشک نہیں۔دونوں فریق متأثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔حکومت گلاپھاڑ کر اپوزیشن کو چور کہتی رہی جبکہ اپوزیشن جواباً وزیر اعظم کو سلیکٹڈ ہونے کا طعنہ دیتی رہی۔عام آدمی دیکھ رہا ہے آج بھی دونوں فریق اپنی اسی پوزیشن پر جمے ہوئے ہیں۔جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا،یہ پہلے اجلاس کی ہو بہو نقل محسوس ہوتا ہے۔
دنیا اس دوران کہیں آگے نکل چکی ہے، دو تین عرب ممالک اسرائیل سے دوستانہ مراسم قائم کر چکے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمرانوں کی جانب سے تردید آجانے کے باوجودعمومی رائے کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم اور سعودی حکمرانوں کے درمیان امریکی وزیر خارجہ کے درمیان طویل ملاقات ہوئی تھی اور کسی بہت بڑی خبر کااعلان جلد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے جو یقینا سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی میں کمی والی متوقع اطلاع نہیں ہوسکتی۔ ممکن ہے بعض مبصرین کے نزدیک قطر اور سعودی عرب کے درمیان بہترتعلقات قائم ہونے سے اس خطے میں ایران اور ترکی کے مفادات کو دھچکا لگے گا۔ لیکن وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ قطر 80 ارب ڈالر کا اسلحہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خرید چکاہے، طالبان سے امریکی نمائندے قطر میں مذاکرات کرتے رہے ہیں۔قطرپہلے ہی امریکی کیمپ کا حصہ ہے۔البتہ اس کے تعلقات ایران اور ترکی سے بھی قائم رہے۔امریکی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل رہی۔سعودی عرب سے اختلافات کی نوعیت مختلف تھی۔معمولی نہ سہی لیکن اختلافات کو غیر معمولی کہنا بھی آسان نہیں۔امریکہ کے لئے ایران کو فتح کرنا مستقبل قریب چھوڑ دیں، مستقبل بعید میں بھی ممکن نہیں۔شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے فرار کے بعد عراقی صدر صدام حسین کے ذریعے ایران سے جنگ میں آٹھ سال بعدپسپا ہوا۔اب قطراورسعودی عرب یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکیں گے۔اسرائیل نے اپنے سائنسدانوں کوایرانی دھمکیوں کے پیش نظرسفر سے روک دیا ہے۔خوفزدہ اسرائیل ایران فتح کرنے کی پوزیشن میں نہ ہے اور نہ ہی ہوگا۔اسرئیل اگر امریکی شہ پر یہ حماقت کرے گاتوایران آج یکا و تنہا نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ براک اوبامہ دورمیں کئے گئے معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرکے خود تنہا ہو چکاہے۔اس کا ثبوت اقوام متحدہ میں منظور کی جانے والی قراردادیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جھنجلاہٹ ہے۔20جنوری دور نہیں۔دھند چھٹنے لگے گی۔
پاکستان کے سیاست دانوں میں سے بعض اگر 20جنوری سے(پہلے/بعد) کچھ امیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں تو انہیں علم ہوجائے گا کہ خواب اور حقیقت میں کتنافرق ہے؟ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کے معروضی حالات اپوزیشن کی سائیکی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مسلم لیگ نون نے پرانا فارمولہ آزما کر دیکھ لیا ہے اس بارماضی جیسا نتیجہ نہیں نکلا۔ضرورت تھی کہ لیگی قیادت از سر نو سوچ بچار کرتی۔ممکن ہے کی ہو، مگر دوسرے درجے کی قیادت کے رویہ سے اس کے شواہد نہیں ملتے۔ ترجمان اپنا اعتبار کھو چکے ہیں،ان کی معلومات ادھوری اور خلاف واقعہ ہوتی ہیں۔موروثی سیاست میں بااختیاراعلیٰ قیادت ہوتی ہے مشاورت کا چلن نہیں۔نون لیگ کے چوہدری نثار علی دیرینہ رفاقت کی بناء پر جو کچھ عوام کے سامنے کہتے رہے، آج گمنامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جے یو آئی کے ایک رہنما نے اپنی طویل وابستگی اورخصوصی قربت کے باعث اختلاف رائے کی جسارت کی تھی، منظر عام سے ہٹا دیئے گئے۔جب سیاست دان اپنی بعض کمزوریوں اور مجبوریوں کی بناء پر دیرپا پالیسی مرتب کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں تو انہیں اپنی فکری سمت کا جائزہ لینا چاہیئے،جہاں درستگی اور اصلاح کی ضرورت ہو،بلا ہچکچاہٹ کر لی جائے۔یاد رہے تاریخ جامدو ساکت نہیں، ہر لمحہ متحرک اور فعال ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نئے تقاضے جنم لیتے ہیں۔ پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنے کارآمد نہیں، مولانا طاہر القادری اس کی مثال ہیں کسی پارٹی کے کارکن شائد ہی ایسے صبر و استقلال ایسی مثال مستقبل میں پیش کر سکیں۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پرایک اور خونی دھرنے کا انجام واپسی کے کرایہ سے زیادہ نہیں رہا۔پی ڈی ایم کے قائدین ماضی سے ہٹ کر موجودہ تقاضوں کے مطابق مناسب حکمت عملی وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو نتیجہ مختلف نہیں ہوگا۔دیسی کشتی کے رستم زماں جوڈو کراٹے میں ماہر جاپان کے انوکی کے سامنے کامیاب نہیں ہوئے اس لئے کہ دیسی فن پہلوانی نے جدید تقاضوں سے آنکھیں بند رکھیں۔13دسمبر کے جلسے میں سرپرائز دینے کی اشد ضرورت ہے۔اورواضح رہے کہ سرپرائز لفظاًً اور معناً ہراعتبار سے سرپرائز ہونا چاہیے۔


