زرعی ٹیکنالوجی وتجربات کوفروغ دیاجائے گا‘ڈی ایٹ

اسلام آباد(انتخاب نیوز)پاکستان سمیت 8ممالک پر مشتمل ”ڈی۔ایٹ“ گروپ کے ماہرین کا خصوصی اجلاس زرعی شعبوں کو جدید خصوط پر استوار کرنے، کسانوں کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فروغ اور تحقیق سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان سمیت آٹھ ممالک پر مشتمل ”ڈی۔ایٹ“ گروپ کے ماہرین کا خصوصی اجلاس آج اسلام آباد میں ہوا۔ ”زرعی شعبے کی پائیدار ترقی اور چھوٹے کسانوں کی عالمی سطح پر زرعی ترقی میں شراکت۔ ڈی ایٹ رکن ممالک کے لئے اہم امور“ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس کی میزبانی وفاقی وزارت فوڈ سیکورٹی و تحقیق نے کی۔ اجلاس میں پاکستان سمیت بنگلہ دیش، مصر، ایران، ملائیشیا، اور ترکی کے متعلقہ ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے جدید طریقوں، اشیائے ضروریہ، نجی و سرکاری اداروں کی خدمات کے علاوہ مالی امور اور رسک مینجمنٹ میکانزم کے ساتھ سرکاری اور نجی شراکت کے طریقوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ رکن ممالک کی وزارت زراعت کے ماہرین اور اعلی حکام کے علاوہ نجی شعبوں کے نمائندوں نے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ایک ارب سے زائد آبادی والے ڈی ایٹ رکن ممالک کو زرعی اشیاء کی ترسیل اور عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار اور اس کی قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھا? میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ زرعی شعبے کو جدید سہولیات کی فراہمی سے ہی پیداوار میں اضافہ اور وافر مقدار میں خوراک کی دستیابی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ پیداوار میں اضافے کے لئے تکنیکی مہارت،تحقیق اور جدید سہولیات سے استفادہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شرکاء نے زرعی ترقی اور پیداوار ی صلاحیتوں کو بڑھانے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس امر پر بھی زور دیا کہ رکن ممالک کی حکومتوں اور شراکت داروں کو جدید زرعی علوم کا فروغ،غذائیت کے معیار میں بہتری،زرعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سرمایہ کاری میں اضافے سمیت فعال منڈیوں تک آسان رسائی جیسے امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے ڈی ایٹ گروپ کے ارکان پرزور دیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ زرعی ٹیکنالوجی اور تجربات کے تبادلے کے لئے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لئے پالیسیاں مرتب کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں