پاکستان غیر اشرافیائی معاشرے کی تشکیل کی طرف گامزن ہے،صدر علوی
اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ پاکستان تیزی سے غیر اشرافیائی معاشرے کی تشکیل کی طرف گامزن ہے اور اس مقصد میں ہائبرڈ تعلیم کا ایک اہم کردار ہے، پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جس میں ہائبرڈ تعلیم نئے امکانات اور مواقع پید ا کر کے معاشرے کی ساخت کو بدل دے گی۔ جمعرات کو یہ بات انہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، ُپاکستان اور برٹش کونسل، پاکستان کے زیر اہتمام تین روزہ آن لائن پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے ورچوئل کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس ”مضبوط اعلٰی تعلیمی شعبے کی تشکیل نو پر غوروخوض“ کے عنوان پر منعقد کی گئی، جس کے اختتامی سیشن میں صدر پاکستان عارف علوی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی، جبکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کانفرنس میں برطانیہ اور پاکستان سے اعلٰی تعلیمی شعبے اور جامعات کے ماہرین نے شرکت کی اور جامعات کی طرف سے کورونا کی صورتحال میں لیے گئے اقدامات پر آراء کا تبادلہ کیااور اس بات پر غور کیا کہ کہ دونوں ممالک کے مابین تزویرائی بین الاقوامی تعلیم کے فروغ کے لیے باہمی اشتراک کو کیسے مزید مستحکم بنایا جائے۔ کانفرنس میں مختلف عنوانات پر سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں بین الاقوامی تعلیم کا فروغ، تعلیمی کورونا کے دوران قیادت کا کردار، بین الاقوامی اشتراک اور تعلیم کی عالمیت، فاصلاتی تعلیم کا مستقبل، اور بین الاقومی طلباء کی نقل و حرکت شامل ہیں۔ صدر عارف علوی نے ایچ ای سی اور برٹش کونس پاکستان کے مابین شراکت داری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ معاونت کی وجہ سے پاکستان کی پہلی اوپن اور فاصلاتی تعلیم کی پالیسی ترتیب دی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا نے جہاں دنیا میں تباہی مچا دی ہے، وہیں نئے مواقع بھی سامنے آئے ہیں اور اب ادارے ترقی کی نئی شاہراہوں کو اختیار کر رہے ہیں۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ بائبرد تعلیم نے خواتین کے لیے حصول تعلیم کے عمل کو آسان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کو سستا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ پاکستانی جامعات دنیا کے مقابلے میں نسبتاََ سستی تعلیم فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اساتذہ نئے تعلیمی طریقہ کار سے خود کو ہم آہنگ کریں کیونکہ جتنی جلدی ہم اس سمت میں آگے بڑھیں گے، اتنا ہی لوگوں کے لئے حصول تعلیم میں آسانی پیدا ہو گی۔ انہوں نے آن لائن تعلیمی نظام میں طلباء کی کارکردگی کو پرکھنے کے لیے سرٹیفیکیشن کا ایک نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی کمیونٹی خصوصا پیشہ ور افراد ملکی نظام کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان پاکستان کا اثاثہ ہیں، اور حکومت نوجوانوں کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اعلٰی تعلیمی نظام کو عالمی سطح پر مسابقتی اور بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے برطانوی نظام تعلیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ شراکت داری پاکستانی اعلٰی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی باہمی شراکت داری کو سراہا اور کہا کہ پاکستان برٹش کونسل کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے برطانوی عوام کی فیاضی اور غیر ملکی پاکستانیوں کے ساتھ ان کے رویے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے مضبوط اعلیٰ تعلیمی شعبے کی تشکیل نو میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری نے پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے کی کامیابیوں پر شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اس طرح کی شراکت داری کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا نے دنیا کو ڈرامائی طور پر بدل دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں ایک دوسرے سے سیکھنے اور اپنے نصب العین کو مل کر آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر اختیار کردہ بہترین مشقوں اور اسباق میں باہم تبادلہ کیا جائے َتاکہ ایک دوسرے سے سیکھ کر آگے بڑھا جاسکے۔ انہوں نے شرکاء کو کورونا صورتحال میں تعلیمی حرج کو کم کرنے کے لیے ایچ ای سی کی جانب سے لیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیویلپمنٹ آفس کے جنوبی ایشیاء کے لیے مقرر وزیر طارق محمود احمد نے کہا کہ ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی شراکت داری نے دوطرفہ تعاون کے نئے دور کا آغاز کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت پاکستان میں تعلیم کے فروغ کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں متعدد پاکستانی طلباء اس وقت تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ طلباء کی ایک بڑی تعداد گزشتہ چند سالوں میں اپنی تعلیم مکمل کرچکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باہمی شراکت داری کے فروغ سے طلباء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے کا آغاز 2018میں کیا گیا۔ یہ منصوبہ پاکستانی اور برطانوی جامعات کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے مقصد کے تحت شروع کیا گیا اور اب تک اس منصوبے کے تحت 21سفری گرانٹس کے ذریعے 50 سے زائد فیکلٹی ممبران کو متعلقہ شعبے کے ماہرین سے ملنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، سات بڑے تحقیقی منصوبوں کا اجراء کیا جاچکا ہے، اور پروگرام کے تحت دونوں فریقین مختلف شعبہ جات میں تعاون کو پروان چڑھا رہے ہیں، جن میں نیشنل اکیڈیمی آ ف ہائیر ایجوکیشن پاکستان کی معاونت بھی شامل ہے۔ اسی طرح ایڈوانس ہائیر ایجوکیشن یوکے اور برطانیہ کی کوالٹی اشورنس ایجنسی ایچ ای سی کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کے انتظام و انصراف اور معیارتعلیم کے شعبہ جات پر کام کر رہے ہیں۔ (وخ)


