قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تمام خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرانے کا فیصلہ
اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی تمام خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے الیکشن شیڈول جاری کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے دوران کویڈ 19 کے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں جبکہ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی دعوت کے باوجود ماسوائے سندھ حکومت کے کسی حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ نہ ذاتی حیثیت میں اور نہ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوا۔ جمعرات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کردہ اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن، پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء تاج حیدر اور الیکشن کمیشن کے افسران نے شرکت کی۔ سندھ حکومت کے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب اور سندھ حکومت کے دیگر نمائندگان نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا کہ اس وقت پورے ملک میں 8 حلقوں پر ضمنی انتخابات زیر التواء ہیں جن میں 6 صوبائی اور 2 قومی اسمبلی کی نشستیں شامل ہیں،بلوچستان اسمبلی کی 1، سندھ اسمبلی کی 3، پنجاب اسمبلی کی 1 اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کی 1 نشست شامل ہے جبکہ قومی اسمبلی کیلئے پنجاب اور خبیر پختونخواسے ایک ایک نشست خالی ہے۔ان تمام حلقہ جات پر ضمنی انتخابا ت کا انعقاد کویڈ 19کی وجہ سے نہیں ہوسکاتھا۔ تاج حیدرنے کہا کہ آئین پاکستان اور قانون کے تحت کسی بھی انتخابی حلقے کی خالی نشست پر 60 دن کے اندر الیکشن کروانا ہوتا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء کی جانب سے اس بات کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی کہ سینیٹ کے انتخابات کیلئے تمام صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی الیکٹورل کالج ہے اور اگر یہاں انتخابات نہ کروائے گئے تو الیکٹورل کالج نامکمل رہے گا اور ان حلقوں پر ضمنی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے ان حلقوں کے عوام کی نمائندگی نہیں ہو پائے گی۔مزید برآں حال ہی میں گلگت بلتستان میں بھی انتخابا ت کا انعقا ہوا ہے سب سے بڑھ کر امریکہ جہاں کویڈ کا پھیلاؤبہت زیادہ ہے وہاں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوا لہذا یہاں بھی تمام حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آئینی ذمہ داریاں پوری کی جا سکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے اور اسے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ تاج حیدر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں یقینی دہانی کروائی جاتی ہے کہ انتخابی عمل کے دوران کویڈ 19کے ایس او پیز پر پابندی یقینی بنائی جائے گی،مشیر قانون حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے بھی تاج حید رکے موقف کی تائید کی اور کہا اس وقت عمر کوٹ اور سانگھڑ کے اضلاع میں کویڈ19 پازیٹو کیس زیادہ نہیں ہیں اور صوبائی حکومت یقین دہانی کراتی ہے کہ انتخابی عمل کے دوران کویڈ19 ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔مرتضیٰ وہاب نے الیکشن کمیشن کو یقین دلایا کہ سندھ گورنمنٹ الیکشن کمیشن کی ہر قسم کی معاونت کے لئے تیار ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے باقی صوبوں کی حکومتوں کی طرف سے موصول رائے کو بھی مد نظر رکھا گیا۔ قبل ازیں الیکشن کمیشن کے استفسار پر سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے ضمنی الیکشن کے انعقاد پر آمادگی کااظہار کیاتھا جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں نے التواء کی سفارش کی تھی۔ اجلاس میں تمام صوبائی حکومتوں کو شرکت کے لئے مدعو کیا گیا تھا لیکن ماسوائے سندھ حکومت کے کسی حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ نہ ذاتی حیثیت میں اور نہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوا۔ الیکشن کمیشن نے تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ چاروں صوبوں میں تمام خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے دوران کویڈ 19 کے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور مزید دفتر کو ہدایت کی کہ ضمنی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کرے۔ (ع ا)


