نواز شریف کی مشکلات میں مزیداضافہ

برطانوی اخبار”دی سن“ کے مطابق پاکستان کی درخواست پر حکومت برطانیہ نے برطانیہ میں مقیم 40سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو چارٹرڈ طیارہ کے ذریعے پاکستان بھیج دیا،لیکن پاکستان نے اس طیارے کو پاکستان میں لینڈ نہیں کرنے دیا۔اجازت نہ دینے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ بھیجے گئے غیر قانونی تارکین و طن میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف موجود نہیں تھے۔واضح رہے کہ ان افراد کو پاکستان بھیجنے پر حکومت برطانیہ نے 6کروڑ پاکستانی روپے کے لگ بھگ اخراجات برداشت کئے تھے۔ پاکستان نے برطانیہ کوآگاہ کردیا ہے کہ جب تک محمد نوازشریف (سابق وزیر اعظم)برطانیہ بدر کئے جانے والے افراد میں شامل نہیں ہوں گے کسی برطانیہ بدر پاکستانی کو قبولنہیں کیا جائے گا۔ اس لئے کہ محمدنواز شریف پاکستانی عدالت کی اجازت سے محدود وقت کے لئے اپنی بیماری کے علاج کیلئے لندن آئے تھے، مگر نہ انہوں نے علاج کرایااورنہ ہی انہوں نے مجازعدالت سے لندن میں قیام کیلئے توسیع کی درخواست کی، بلکہ وہ پاکستانی عدالتوں کی جانب سے با ضابطہ”اشتہاری“قرار دیئے جا چکے ہیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات میں اس معاملے کی وجہ سے تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان نے برطانیہ بدر کئے گئے افراد کو لانے والا طیارے کو لینڈ کرنے کی اجازت نہ دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے، پہلاقدم اٹھا لیا ہے۔پاکستان نے جس رد عمل کا اظہار کرنا تھا کردیا ہے۔ اب فیصلہ برطانیہ کو کرنا ہے کہ اس تنازعہ کو کیسے حل کیا جائے؟ توقع ہے کہ برطانوی حکومت اپنے اداروں سے مشاورت کے بعدمناسب جواب دے دیا جائے گا۔واضح رہے امریکی سربراہان ایک سے زائد مواقع پرصاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ ملکوں کے درمیان دوستی نام کی کوئی شے نہیں ہوتی، صرف مفادات ہوتے ہیں۔
اغلب امکان ہے کہ پاکستان نے بھی نواز شریف کے بغیر آنے والے چارٹرڈ طیارے کے بارے میں یہ فیصلہ سوچ بچار کے بغیر نہیں کیا ہوگا، طیارہ چلنے پہلے ہی پاکستانی حکومت کو علم ہوگیا ہوگا کہ طیارے میں نواز شریف سوار نہیں ہوئے۔پاکستان لندن میں نواز شریف کے معمولات سے لا تعلق اور بے خبر نہیں۔نواز شریف تین بارملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، ایک بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات سربراہ ہیں۔پاکستان کی سیاست ان کی ہدایات اور مشاورت کے بغیر نہیں چل سکتی۔پی ڈی ایم گیارہ جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے،ان کے ویڈیو لنک خطاب سے ملکی سیاست پر (مثبت یا منفی)اثرات مرتب ہوتے ہیں، ورنہ ان کا خطاب الیکٹرانک میڈیا پر نشر کرنے سے نہ روکا جاتا۔ کوئی پابندی بلاوجہ نہیں لگائی جاتی۔طیارہ بھی بلاوجہ برطانیہ واپس نہیں بھیجا گیا۔عام آدمی تک یہ اطلاع بھی دیر سے پہنچی۔سرکاری طور پرحکومت پاکستان نے تاحال کوئی بیان یا تبصرہ نہیں کیا۔جو کچھ سامنے آیا ہے، برطانوی اخبار کی شائع کردہ خبر پرمبنی ہے۔ کسی حلقے نے اس کی تردید یاتصدیق نہیں کی،فریقین نے خاموشی اختیار کرنا پسند کیا گیا ہے۔ملکوں کے درمیان ہر معاملہ سادہ نہیں ہوتا، بعض اوقات دو سے زائد ممالک دلچسپی رکھتے ہیں۔نواز شریف عام آدمی نہیں، پاکستان کے اہم ترین سیاست دانوں میں شامل ہیں۔ چار دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے رہے، ہر قسم کے راز و نیاز سے باخبر ہیں۔اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ بیرون ملک بھی حکمرانوں سے ان کے اچھے مراسم قائم رہے ہیں۔سعودی فرماں روا انہیں جنرل پرویز مشرف کے عتاب سے بچانے والوں میں شامل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ تعلقات پہلے سی گرمجوشی نہ رہی مگروہ دوسری بار جیل سے نکل کر اسپتال اور پھر اسپتال سے طیارے میں سوار ہوکر لندن جانے میں کامیاب ہوگئے۔اس سفر کو حقیقت کا روپ دینے میں یقینا بہت سی دوستیاں کام آئی ہوں گی۔یہ ماضی کی افسانوی داستان نہیں، حالیہ تاریخ میں رونما ہونے والا سچاواقعہ ہے، کروڑوں عوام نے اپنی آنکھوں دیکھاہے۔
نواز شریف کی زندگی کے شب و روز ایسے انہونے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ایسے جرنیل کی سرپرستی میں گمنام شخص سے ملک کے سب سے طاقتور سیاست دان بن کر ابھرے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ دعا مانگی تھی کہ ان کی زندگی نواز شریف کو مل جائے، اور بعید نہیں کہ نواز شریف اسی دعا کے نتیجے میں ملنے والی زندگی گزار رہے ہوں۔ نوازشریف کے رویہ سے نظر آتاہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہیں ورنہ انہیں پاکستان کی جیل سے لندن جانے کی سہولیات میسرنہ آتیں۔ شاید برطانیہ کے چارٹرڈطیارے کی بغیر لینڈنگ واپسی کے بعد ان کے ذہن میں اس یقین کے برعکس تصور کے لئے جگہ بن سکے،اور وہ 90کی دہائی سے باہر نکل سکیں۔انسان انتہائی پیچیدہ جاندار ہے۔اسے سمجھنا آسان نہیں۔حکمرانی کا نشہ جس دماغ میں جگہ بنالے وہاں دیر تک قیام کرتا ہے۔ان کے بیٹے حکمرانی سے مستفید ہوئے مگر حکمرانی کے خمار سے دور رہے۔البتہ ان کی بڑی بیٹی ایک ریٹائرڈ فوجی افسرکی اہلیہ ہونے کی وجہ سے ممکن ہے سمجھتی ہوں کہ ان کے والد چوتھی بار بھی پاکستان کے وزیر اعظم بنیں گے۔برطانیہ کی جانب سے غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری بارے پالیسی کے خدو خال واضح ہونے کے بعد ہی شریف فیملی کوئی بڑا سیاسی فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکے گی۔عام آدمی کے علاوہ مبصرین بھی ابھی تک کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں۔برطانوی طیارے کی مسافروں سمیت واپسی کا واقعہ اتنا اچانک اور خاموشی سے رونما ہوا کہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ برطانوی حکومت کیسا جواب دے گی۔اس سے پہلے کوئی بیان بازی ہوتی،کوئی تلخ کلامی دیکھنے کو ملتی، مگرایسا کچھ بھی نہیں ہوا، اب بھی خاموشی طاری ہے۔مبصرین اور تجزیہ کارگہری خاموشی سے جھانک کر آئندہ کے ارادے نہیں بھانپ سکتے۔ معاملہ دو ملکوں کے درمیان ہے۔، نزاکتوں کاحامل ہے۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ برطانوی فیصلہ پاکستانی سیاست دانوں کے لئے چشم کشا ہوگا۔انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں