پاکستان سمیت دنیا بھر میں دوران زچگی اموات میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے،پلوشہ خان
کوئٹہ:محفوظ حمل کیلئے موثر قانون سازی ناگزیر ہے ان خیالات کا اظہار امپلیفائی چینج کی اشتراک سے یاد آرگنائزیشن کی منعقدہ سیمینار سے پلوشہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دوران زچگی اموات میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خصوصا بلوچستان میں حمل کے دوران اموات میں اضافہ ھوتا جارہا ہے بہت سے خواتین محفوظ حمل کیلئے موثر قانون سازی نہ ہونے کیوجہ سے موت سے لڑتے ہیں انھوں نے مزید کہا کہ فیملی پلاننگ سہولیات کا فقدان اور کم عمری میں شادی اموات کی سب سے بڑی سبب ہیں سیمینار سے فاروق آغا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوبے کی آبادی پھیلے ہوئے جہاں بنیادی ضروریات کا فقدان ہے اور شعور وآگاہی کی بھی سخت ضرورت ہے تاکہ لوگوں میں حمل کے حوالے سے شعور دیا جاسکے انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حمل ٹھرنے کے بعد خواتین کو ریگولر بنیاد پر چیک اپ کی ضرورت ہے جو سہولیا کی فقدان کیوجہ سے دور دراز علاقوں سیتعلق رکھنے والے لوگ نہیں کرتے جسکی وجہ سے دوران زچگی اموات ھو جاتے ہیں حمیداللہ کاکڑ نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ کم عمری میں شادی رکوانے کیلئے موثر قانون سازی کیساتھ ساتھ شعور وآگاہی کی بھی ضروری ہے امپلیفائی چینج کی اشتراک سے یاد ارگنائزیشن ترجیحی بنیادوں پر آگاہی کیلئے کام کررہاہے صوبے کے دوردراز علاقوں میں اس پر پہلو پر مختلف سیشنز کا انعقاد کررہے ہیں تاکہ حمل دوران ذچگی اموات کی شرح بالکل کم کرسکے۔


