سب کا صدر ہوں، ان کا بھی جنہوں نے میرے خلاف ووٹ دیا، بائیڈن کا خطاب
کیپٹل ہل میں ہونے والی حلف برداری تقریب میں کملا ہیرس نے نائب صدر کے عہدے کا حلف بھی اٹھایا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے 4 سالہ صدارت کا خاتمہ ہوگیا ، جوبائیڈن نے امریکا کی باگ دوڑ سنبھال لی۔اپنے پہلے صدارتی خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ آج امریکہ اور جمہوریت کا دن ہے،آج جمہوریت کامیاب ہوئی ہے، میں امریکی آئین کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں۔ن کا کہنا تھا کہ جو میرےخلاف ہیں، اُن سےکہنا چاہتا ہوں مجھ سے بات کریں، پھر بھی مجھ سے اختلاف ہو تو یاد رکھیں یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔جو بائیڈن نے کہا کہ میں اہل امریکا کو یقین دلاتا ہوں کہ میں سب کا صدر ہوں،اُن کا بھی صدر ہوں جنہوں نے میرے خلاف ووٹ دیا۔حلف برداری کی تقریب کی کسی بھی گڑبڑھ کے خدشے کے پیش نظر کیپٹل ہل کی عمارت کے گرد دھاتی باڑ لگائی گئی ۔تقریب کےد وران 25ہزار نیشنل گارڈز تعینات کیے گئے جبکہ انتہاپسندوں سے تعلق کے شبے میں 12 نیشنل گاردز کو ہٹادیا گیا ۔صدارتی حلف برداری کے دوران بعض مقامات پر سڑکیں بھی بند کردی گئیں ۔کورونا وائرس اور سیکیورٹی خطرات کے باعث عوام کو تقریب میں شرکت روک دیا گیا ہے ، 2لاکھ امریکیوں کی نمائندگی جھنڈوں سے کی گئی۔تقریب میں معروف امریکی گلوکارلیڈی گاگا، جینی فرلوپیز ، بون جووی اور بروس اسپرنگ سٹین گیت گائیں گے۔امریکی صدر کے معاؤنین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اپنے عہدے کے پہلے دن جو بائیڈن 17 اہم فیصلے کریں گے ۔معاونین کے مطابق جو بائیڈن کے یہ 17 فیصلے ماحولیات ، امیگریشن اور کورونا وائرس سے متعلق ہوں گے ، جن پر وہ آج ہی دستخط بھی کریں گے ۔جوبائیڈن اپنے دور کے پہلے ہی دن ڈونلڈ ٹرمپ کا نافذ کردہ مسلم ٹریول بین ختم کردیں اور پیرس کلائمنٹ ڈیل کو دوبارہ جوائن کریں گے۔میکسیکو کے ساتھ سرحدی دیوار کی تعمیر روکنے کے احکامات دینگے، اور امریکا کی عالمی ادارہ صحت میں واپسی یقینی بنائیں گے۔


