قلات، ریاست دور کا ریکروٹس ٹریننگ سینٹربند

قلات:قلات سے ریاست کے دور سے قائم ریکروٹس ٹریننگ سینٹر بند کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا گیا، عوامی حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصہ، قلات ترقی کی بجائے پسماندگی کی جانب گامزن، نوٹس لینے والا کوئی نہیں، سینٹر کی سرکاری گاڑیاں، موٹر سائیکلیں کلوز کرکے ڈرائیورز سمیت کوئٹہ منتقل کرنے کے احکامات گزشتہ روز جاری ہوئے تھے جبکہ مذکورہ سنٹر کے اہلکاروں کو بھی منتقل کرکے سنٹر قلات سے مستقل شفٹ کرنے کے امکانات جو تھے وہ حقیقت ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق ریکروٹس ٹریننگ سینٹر قلات جوکہ ریاست کے دور میں قائم ہوا مختلف فورسز کے جوانوں نے مذکورہ ٹریننگ سنٹر سے تربیت حاصل کی گزشتہ دور حکومت میں کئی سال سینٹر بند کیا گیا جبکہ اسے منتقل کرنے کی کوشش کی گئی مگر عوامی احتجاج پر سینٹر کو منتقل نہ کیا گیا۔ یکم فروری 2021 کو ایڈیشنل آئی IGP/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری کوئٹہ کے جاری حکمنامہ کے مطابق قلات سے آر ٹی سی سنٹر کو بمعہ اسٹاف کلوز کرکے اسٹاف و ملازمان کو بدر لائن کوئٹہ رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں عوامی حلقوں و دیگر نے اس اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ قلات ترقی کی بجائے پسماندگی کی جانب بڑھ رہا ہے جوکہ قلات اور یہاں کے عوام کیساتھ سراسر ذیادتی ہے آر ٹی سی سینٹر کو منتقل کرنے کے خلاف کسی بھی صورت خاموش نہیں رہیں گے، عوامی حلقوں کا کہنا ہیکہ قلات صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا حلقہ انتخاب ہے عوامی حلقے انکی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیکہ وہ آر ٹی سی قلات کو شفٹ ہونے کے جاری حکمنامے کا نوٹس لیکر جاری حکمنامہ منسوخ کرائے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلی جام کمال خان، وزیر داخلہ میر ضیا لانگو، سیکرٹری داخلہ، آئی جی بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن اور ڈی سی قلات عزت نذیر بلوچ و دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فورا سینٹر کی منتقلی کے حکمنامے کا نوٹس لیکر سینٹر کو فوری حال کرنے کے احکامات جاری کرے۔ بصورت دیگر عوام شدید احتجاج پر مجبور ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں