بلوچستان میں بجلی اور گیس کے بحران نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، مرکزی تنظیم تاجران

کوئٹہ (ویب ڈیسک) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے باران رحمت کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی اور گیس کی 24 گھنٹے سے زائد بندش پر شدید تعجب اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارشیں تو ملک بھر میں ہوتی ہیں مگر سہولیات کا فقدان صرف بلوچستان کے حصے میں ہی کیوں آتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی اور عدم توجہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ذرا سی بوندا باندی ہوتے ہی پورا صوبہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے، بجلی کا نظام بیٹھ جاتا ہے اور گیس کا پریشر مکمل طور پر غائب ہو جانا معمول بن چکا ہے، جس کے باعث شہری شدید مشکلات اور اذیت سے دوچار ہیں۔ کاشف حیدری نے کہا کہ ایک طرف عوام شدید سردی اور بارش کے موسم میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث لکڑیاں اور دیگر متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش نے تاجر برادری کے کاروبار کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، دکانیں، مارکیٹیں، ورکشاپس اور چھوٹے کاروبار مسلسل بندش کے باعث شدید مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گیس کی شیڈول لوڈشیڈنگ پہلے ہی رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک مقرر ہے، مگر اس کے باوجود دن کے اوقات میں بھی بلا اعلان گیس بالکل ناپید رہتی ہے، جو عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی اور بدانتظامی کا ثبوت ہے۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ بارش یا موسم کو جواز بنا کر بار بار بجلی اور گیس کی سپلائی معطل کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ متعلقہ محکموں کے پاس کوئی مو¿ثر حکمت عملی موجود نہیں، ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی ہے مگر اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ بلوچستان بھی اسی ملک کا حصہ ہے اور یہاں کے شہری اور تاجر بھی باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ناقابل قبول اور امتیازی طرزِ عمل کے مترادف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں