محکمہ ایکسائز میں خالی فی اسامی پر 15 سے 20 لاکھ روپے لینے کی اطلاعات ہیں، رحمت صالح بلوچ
کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے محکمہ ایکسائز کی خالی اسامیوں پر ہونے والی بھرتی میںرٹ کی سنگین پامالیوں پر تشویش کا اظہار کرتے گورنر ،وزیر اعلی ،چیف جسٹس اور چیف سیکرٹری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ،میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ دوڑ پاس اور قد کی ریکروٹمنٹ میں آگےانے والے نوجوانوں کی جگہ ایسے نوجوانوں کو تحریری امتحان کے سلپ جاری کیے گئے جو یا تو دوڑ میں فیل ہوئے یا پھر شامل بھی نہیں تھے انہوں نے کہا کہ پاس نوجوانوں کو اس لیے امتحان کےلئے نہیں بلایا گیا کیونکہ ان کے پاس پیسہ نہیں انہوں نے کہا کہ فی اسامی 15سے 20 لاکھ روپے لینے کی اطلاعات ہیں جن سے پیسے لیے گئے ان کو تحریری امتحان کا پرچہ بھی قبل ازوقت دیا جارہا ہے،یہ بدترین ظلم ،زیادتی اور نوجوانوں کے ارمانوں کا خون ہے انہوں نے کہ محکمہ ایکسائز میں ایک مظبوط لابی اور مافیا موجود ہے جس نے محکمہ کو مارکیٹنگ کا ادارہ بنادیا اور اس کو پارلیمانی سیکرٹری کی مکمل حمایت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ ساتھ کی سیٹوں پر پہلے بھی میرٹ پامال کرکے پیسے دینے والوں کو سلیکٹ کیا گیا مافیا ایک بار پھر وہی تاریخ دہرارہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر پیسوں پر آسامیاں دینی ہیں تو ٹیسٹ اور انٹرویو کے کا ڈارمہ کرنے کی بجائے ڈائریکٹ اشتہار میں ریٹ لگاکر ٹینڈر کیا جائے کم سے کم بےروزگار نوجوانوں کا فوٹو اسٹیٹ کا خرچہ بچ جائے گا ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ایک طرف میرٹ اور آسامیوں کی فروخت پر سخت ایکشن کی بات کررہے ہیں تو دوسری جانب ایکسائز میں سرعام پیسے لیے جارہے ہیں کیا ان دعوں کی نفی اور کھلا تضاد نہیں انہوں نے کہا کہ فوری طور پر نوٹس نہ لیا گیا تو نیشنل پارٹی احتجاج اور عدالت سمیت ہر فورم استعمال کرکے نوجوانوں کا ساتھ دے گی انہوں نے کہا کہ یہی وہ چیزیں ہیں جو نوجوانوں کو مایوس اور ریاست سے بددل کررہی ہے اور دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔


