بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر قوم پرست، سیاسی و مذہبی جماعتیں عوام کو گمراہ کرنے کیلئے واویلا کر رہی ہیں، بی اے پی

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سے متعلق بعض قوم اور مذہب پرست سیاسی ومذہبی جماعتوں کے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر متضاد بیانات اور طرزِ عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی اے پی جو موقف پارلیمنٹ میں اختیار کرتی ہے، وہی موقف عوام کے سامنے بھی کھل کر رکھتی ہے، جبکہ بدقسمتی سے بعض سیاسی ومذہبی جماعتیں پارلیمنٹ میں اس ایکٹ کی حمایت اور باہر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے واویلا کر رہی ہیں، جو عوام کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں بی اے پی کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں موجود چند جماعتوں کے قول و فعل میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ جماعتیں پارلیمنٹ کے اندرکمیٹی میں اس ایکٹ کی حمایت کرتی ہیں جبکہ پارلیمنٹ سے باہر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے احتجاج، شور و غوغا اور عدالتی کارروائیوں کا سہارا لے رہی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ایک مذہبی جماعت نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے مائنزہ اینڈ منرل ایکٹ کی کمیٹی میں حمایت کی اوراپنے رکن اسمبلی کی برائے نام پارٹی رکنیت معطل اور بعد میں بحال کی، جبکہ پارلیمنٹ کے اندر ان کا موقف اس کے برعکس ہے۔ اسی طرح ایک قوم پرست جماعت نے طویل عرصے تک میر عبدالقدوس بزنجو کی سابقہ حکومت کو پسِ پردہ چلانے میں شامل رہی، انکے ایک موجودہ رکن اسمبلی نے بھی کمیٹی میں مائنزمنرل ایکٹ کی حمایت کی تاہم عوام کے سامنے محض دکھاوے کے لیے اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہے،، موجودہ اسمبلی میں ایک اور بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں پر بھی ایسا ہی طرزِ عمل پر بھی سوالات اٹھتے ہیں دونوں ایک پشتون اور ایک بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اراکین اسمبلی بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن پینچوں پر بیٹھ کرتمام حکومتی اور ذاتی مراعاتوں سے مستفید ہورہے ہیں اور عوام کو اندھیرے میں رکھ کر بیانات کی حدتک اپنی سیاسی ساگ بچانے کی ناکام کوشش کررہی ہے وہ مراعات حاصل کرنے کے لئے تو حکومت میں ہیں اور عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اپوزیشن کے نعرے لگارہے ہیں جو عوام کے ساتھ دھوکہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر ان ان جماعتوں کا پارلیمنٹ کے اندر ایک موقف جبکہ باہر احتجاج، عدالتی کارروائیاں اور شور و غوغا دراصل عوام کو اندھیرے میں رکھنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح کچھ غیر پارلیمانی عناصر، جنہیں عوام پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں اور جن کا پارلیمنٹ میں کوئی کردار نہیں، ملاقاتوں اور اخباری بیانات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بی اے پی کے ترجمان نے واضح کیا کہ بلوچستان عوامی پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے کبھی بھی عوام کے سامنے اپنے قول و فعل میں تضاد نہیں رکھا۔ پارٹی نے پارلیمنٹ میں جو موقف اختیار کیا، وہی موقف عوام کے سامنے بھی پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اب ان جماعتوں کی اصل حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ دیگر جماعتوں کے دوغلے پن کا شکار نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ اپنے اصولی اور واضح موقف پر قائم رہتے ہوئے عوام کے سامنے حقائق رکھتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں