شام سے ڈھائی ہزار دہشتگرد افغانستان پہنچ چکے، ہمسایہ ملک میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے موجود ہیں، آئی ایس پی آر

راولپنڈی (پ ر) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً ڈھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ اتحادی افواج نے افغانستان میں 134 ارب ڈالر خرچ کیے، اس کے باوجود وہاں پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں