اگر سعودی عرب کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ہمیشہ مملکت کی مدد کے لیے آئے گا، پاکستانی سفیر

ریاض میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ہمیشہ مملکت کی مدد کے لیے آئے گا۔عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے اس دورے کا بنیادی مقصد خطے کی موجودہ صورت حال پر گفتگو کرنا تھا۔انہوں نے کہا ’سب سے اہم بات یہ کہ اس موقعے پر پاکستان کو مشکل وقت میں مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کا موقع ملا، لہٰذا یہی اس ملاقات کا بنیادی مقصد اور خلاصہ تھا جو وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہوئی۔‘اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ ایک ہنگامی ملاقات تھی؟ پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’یہ دورہ اس تنازعے کے باعث کیا گیا جو اس خطے میں شروع ہوا ہے اور جس کے اثرات پڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس تنازعے کا مرکزی محور ایران ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے اثرات دوسرے علاقائی ممالک پر بھی پڑے ہیں جن میں مملکتِ سعودی عرب بھی شامل ہے اور بنیادی مقصد یہی تھا کہ اس بات پر توجہ دی جائے کہ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ہم کس طرح علاقائی سطح پر مزید کشیدگی کو روک سکتے ہیں، کیونکہ یہ خطے کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ یہ اصولی مو¿قف رہا ہے کہ جب بھی مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گا تو پاکستان اس کی مدد کے لیے آئے گا۔ ہم ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں۔‘پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں ایک تاریخی ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ریاض میں طے پانے والے اس معاہدے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں