سائنس کالج کوئٹہ کی انتظامیہ کی جانب سے مولانا ہدایت الرحمن اور دیگر رہنماﺅں کیخلاف ایف آئی آر قابل افسوس ہے، اسلامی جمعیت طلبہ

کوئٹہ (پ ر) اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی بلوچستان نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ سائنس کالج کوئٹہ کی انتظامیہ کی جانب سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، ناظم کوئٹہ مقام اخونزادہ عطاءالرحمن، ناظم کالج اور معاون معتمد مقام نصیب اللہ کے خلاف ایف آئی آر کے لیے درخواست دینے کو شدید جبر و ظلم قرار دیا ہے۔ جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور کالج انتظامیہ کی جانب سے پروگرام کی باقاعدہ اجازت دینے کے باوجود بعد ازاں اس نوعیت کا اقدام آئینی، انتظامی اور قبائلی روایات کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ عمل آئینِ پاکستان سے بھی متصادم ہے۔ اعلامیے میں مو¿قف اختیار کیا گیا کہ جماعت اسلامی ایک تعلیم دوست اور طلبہ پرور منظم قومی تحریک ہے، جو ملک اور بلوچستان بھر میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی، تعلیمی تربیت اور معاونت کے لیے پروگرامز کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ اعلامیے کے مطابق سائنس کالج میں منعقدہ پروگرام بھی اسی نوعیت کا ایک تعلیمی و تربیتی پروگرام تھا، جس کی پرنسپل اور انتظامیہ نے باضابطہ اجازت دی تھی۔ پروگرام میں طلبہ کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ، طلبہ تنظیموں کے رہنما، پروفیسرز، وکلا، اراکین اسمبلی اور معززین شہر نے شرکت کی۔ اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی نے کہا کہ اس کے باوجود اس طرح کے ہتھکنڈے قبائلی، قانونی، انتظامی اور تعلیمی روایات کے سراسر منافی ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ وہ ان اقدامات کا پرامن اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مقابلہ کریں گے اور تعلیمی اداروں، حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے آئندہ بھی طلبہ اور اساتذہ کے لیے تعلیم دوست اور تربیتی پروگرامز کا انعقاد جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں