کوئٹہ، نجی نرسری سے نومولود بچوں کی تبدیلی کا واقعہ، نرسری سیل، دو ملازمین گرفتار
کوئٹہ(یو این اے )کوئٹہ کے جناح روڈ پر واقع ایک نجی نرسری میں نومولود بچوں کی مبینہ تبدیلی کا ایک انوکھا اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے شہر بھر میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ چار روز قبل نظام الدین نامی شخص نے اپنا نومولود بیٹا مذکورہ نرسری میں داخل کرایا تھا، تاہم بعد ازاں نرسری انتظامیہ نے اہل خانہ کو ایک بچی حوالے کر دی۔بچے کے والد نظام الدین نے بچی لینے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے نرسری میں بیٹا داخل کرایا تھا، بچی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والا بچہ ان کا نہیں ہے۔ دوسری جانب محمد اعظم نامی شخص نے دعوی کیا ہے کہ نرسری انتظامیہ نے انہیں ایک دن قبل ایک نومولود بچہ دیا تھا جو گھر لے جانے کے بعد انتقال کر گیا، جسے انہوں نے اپنی بچی سمجھ کر تدفین کر دی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بچہ لڑکا تھا۔محمد اعظم نے اپنی اصل بچی کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہیں دھوکہ دیا گیا اور بچی کی جگہ مردہ بچہ حوالے کیا گیا۔ ورثا کے مطابق جب تدفین کے بعد حقائق سامنے آئے تو معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔واقعے میں نرسری میں سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم موجودگی کے باعث معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ دونوں فریقین نے اپنے اپنے بچوں کی ویڈیوز پولیس کو بطور ثبوت فراہم کر دی ہیں۔ نظام الدین نے اپنے بچے کی انکیوبیٹر میں موجود ویڈیو پیش کی جبکہ محمد اعظم نے بھی اپنی بچی کی ویڈیو دکھائی۔حکام کے مطابق واقعے کی اصل حقیقت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔ پولیس نے نجی نرسری کے مالک کے خلاف سٹی تھانے میں مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ نرسری کے دو ملازمین کو گرفتار کر کے نرسری کو سیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب کوئٹہ نجی ہیلتھ سینٹر سے نومولود بچے کی مبینہ تبدیلی کے سنگین واقعے پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا ہے کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کو واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے اور کمیشن 24 گھنٹوں کے اندر واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔بخت محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہ متاثرہ بچوں کے والدین سے براہِ راست رابطے میں ہیں اور حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے بعد جہاں بھی غیر قانونی عمل یا غفلت ثابت ہوئی، وہاں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور صحت کے شعبے میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔


