بلوچستان کے تاجروں کی دکانوں اور گوداموں پر رات کی تاریکی میں چھاپے قابل مذمت ہیں، آل پارٹیز کانفرنس

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماءاسلام کے زیر اہتمام جمعیت کے دفتر واقع اینگل روڈ، کوئٹہ میں ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت جمعیت علماءاسلام کے صوبائی نائب امیر اور جے یو آئی ضلع کوئٹہ کے امیر، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق نے کی کانفرنس میں جمعیت علماءاسلام کے صوبائی معاون سیکرٹری و ضلعی ناظم عمومی حاجی عین اللہ شمس، صوبائی نائب امیر و سینئر نائب امیر ضلع کوئٹہ مولانا خورشید احمد، عوامی نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے صدر ثنائ اللہ کاکڑ، جنرل سیکرٹری حمزہ کاکڑ، پریس سیکرٹری زین اللہ، مظلوم عوامی تحریک ضلع کوئٹہ کے صدر خیر محمد شاہین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ناظم لطیف، مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع کوئٹہ کے امیر محمد زکریا زاکر، خلیل اللہ، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع کوئٹہ کے صدر میر نصیب اللہ شاہوانی، سینئر نائب صدر سید ایوب آغا، نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے نائب صدر محمد حنیف کاکڑ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی کمیٹی کے رکن حیدر خان اچکزئی، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی نائب صدر ضلع کوئٹہ امین اللہ کاکڑ، ایڈووکیٹ خورشید کاکڑ، جمہوری وطن پارٹی ضلع کوئٹہ کے محمد ندیم کاکڑ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جنرل سیکرٹری و صوبائی جوائنٹ سیکرٹری ندا محمد خان سنگر، جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ کے جنرل سیکرٹری اعجاز محبوب، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے عبد الرحیم کاکڑ، میر یاسین مینگل، صوبائی جنرل سیکرٹری اور جمعیت کے سیکریٹری حاجی ظفر کاکڑ، گرینڈ الائنس کے شفاءمینگل، عبدالقدوس کاکڑ، کنزیومر سوسائٹی کے محمد زبیر جہانگیر خان بلوچستان کولڈ سٹورکے صوبائی صدر جمعیت کے ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید عبدالواحد آغا جمعیت کے ضلعی ڈپٹی جنرل حافظ مسعود احمد اور دیگرنے شرکت کی۔آل پارٹیز کانفرنس میں اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تمام نکات پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو کی گئی، جس کے بعد شرکائے اجلاس کی آراءکی روشنی میں متفقہ طور پر درج ذیل مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیاجس میں کہا گیا ہے آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان کے تاجر برادری کی دکانوں اور گوداموں پر رات کی تاریکی میں کسٹم حکام اور ایف سی اہلکاروں کی معیت میں کیے جانے والے چھاپوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور اس غیر قانونی عمل کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس قسم کے ناروا اقدامات سے بلوچستان کے عوام کا معاشی قتلِ عام کیا جا رہا ہے۔ صوبے کے دیگر ممالک سے ملحقہ سرحدی باڈرز کو سیل کر کے قانونی و غیر قانونی ہر قسم کا کاروبار بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے روزگار اور لاکھوں خاندان نانِ شبینہ کے محتاج ہو چکے ہیں۔آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر تمام باڈرز کھول کر قانونی کاروبار کی اجازت دی جائے اور تاجروں کے اموال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے کسی بھی ادارے کو اموال ضبط کرنے سے روکا جائے۔ ریاست کی ظالمانہ پالیسیاں بلوچستان کو مزید آگ میں جھونکنے کی دانستہ کوشش اور عوام کو ریاست کے خلاف مزاحمت پر اکسانے کی سنگین سازش ہیں۔ تاجروں کے اموال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ رات کے اندھیرے میں چھاپے مار کر دن دہاڑے تاجروں کے سامان کی منتقلی کے دوران بھی لوٹ مار اور ذاتی طور پر ضبط کرنے کا عمل جاری ہے، جو نہ صرف غیر قانونی بلکہ غیر اسلامی بھی ہے۔یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں یہ ناروا عمل صرف بلوچستان کے تاجروں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ کوئٹہ شہر میں ایف سی اور کسٹم کے اعلیٰ اہلکاروں کے احکامات پر تاجروں کے اموال ضبط کر کے اگلے ہی دن وہی مال تاجروں کو فروخت کیا جا رہا ہے، جو ریاستی ناک کے نیچے اعلانیہ ہو رہا ہے۔آل پارٹیز کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں تاجر برادری کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی، ان کی آواز بنیں گی اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کو کسی صورت مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔آ آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم گرینڈ الائنس کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملازمین کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے ڈی آر اے سمیت تمام مراعات فراہم کی جائیں۔ پرامن احتجاج کو بزور بازو دبانے، تشدد کرنے، گرفتاریاں اور برطرفیوں کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔ گرفتار ملازمین کو فوری رہا اور برطرف ملازمین کو فوراً بحال کیا جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس ہر سطح پر گرینڈ الائنس کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ آل پارٹیز کانفرنس کوئٹہ شہر میں گیس و بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ شدید سردی میں عوام ٹھٹھرنے پر مجبور ہیں اور آئے روز گیس لوڈشیڈنگ کے باعث بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گیس بلوچستان کی پیداوار ہونے کے باوجود صوبائی دارالحکومت کے کئی علاقے آج بھی اس سہولت سے محروم ہیں۔ مطالبہ ہے کہ فوری طور پر گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے، سردیوں میں 24 گھنٹے فراہمی یقینی بنائی جائے اور پانی کے مسئلے کے حل کے لیے اعلیٰ حکام کے ساتھ تمام جماعتوں کی قیادت پر مشتمل اجلاس بلا کر فوری اقدامات کیے جائیں۔ آل پارٹیز کانفرنس کوئٹہ کے داخلی و خارجی راستوں اور شہر کے وسط میں ایف سی اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور ان کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، کیونکہ ان ناکوں پر عوام کو بلاجواز تنگ کیا جا رہا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کوئٹہ میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قتل و غارت، ڈکیتیوں اور جرائم کی سخت مذمت کرتی ہے اور امن و امان کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کوئٹہ میں مخصوص اداروں کی مبینہ پشت پناہی سے سونے کے کاروبار سے وابستہ افراد سے بھاری غنڈہ ٹیکس وصول کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس گھناو¿نے عمل میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس شہر کی معروف تجارتی شاہراہوں پر نو پارکنگ کے فیصلے کو فوری طور پر ختم کرنے، تاجروں کا روزگار متاثر کرنے کے اس غیر اخلاقی عمل کو روکنے اور ان شاہراہوں کو دوبارہ پارکنگ ایریاز قرار دینے کا مطالبہ کرتی ہے، نیز پارکنگ پلازہ جات کے قیام کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس صوبائی دارالحکومت میں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے چنگچی رکشہ ڈرائیورز کے ساتھ نرمی برتنے، انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے اور سامان کی ترسیل کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ ان کا معاشی قتل عام روکا جا سکے۔ نیز پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ یا تو تمام روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ بحال کی جائے یا دیگر روٹس پر بھی گرین بس سروس شروع کی جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس شہر میں فحاشی و عریانی کے فوری خاتمے، اس کے اڈوں کو بند کرنے اور بے حیائی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے، کیونکہ یہ عمل نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ آنے والے ماہِ رمضان المبارک کے پیش نظر احترامِ رمضان آرڈیننس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے، اور غریب و متوسط طبقے کے لیے خصوصی رمضان پیکیج کا اعلان کیا جائے۔آل پارٹیز کانفرنس کی قیادت ان تمام مطالبات کے فوری حل کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان، گورنر بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر کے ایک متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی۔ پہلے مرحلے میں مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی جائے گی، بصورت دیگر تمام سیاسی جماعتیں، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے