نوشکی، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف خواتین کا احتجاج، روڈ کئی گھنٹوں تک بند
نوشکی (نمائندہ انتخاب)نوشکی میں کیسکو کی بدترین نااہلی، ظالمانہ رویے اور 18 گھنٹے سے زائد طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف خواتین سڑکوں پر نکل آئیں۔ درجنوں خواتین نے کیسکو گریڈ اسٹیشن کے سامنے شدید احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلا دیے اور احتجاجاً انام بوستان روڈ کو کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند رکھا، جس کے باعث ٹریفک معطل رہی ا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میر خورشید جمالدینی نے کیسکو انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوشکی میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ بندش کھلی زیادتی، عوام دشمنی اور بدانتظامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید سرد موسم میں 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، گھروں میں اندھیرا، بچے تعلیم سے محروم، مریض اذیت میں مبتلا اور کاروباری زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔میر خورشید جمالدینی نے کہا کہ کیسکو کی مسلسل غفلت اور بے حسی کے باعث آج نوشکی کی باوقار خواتین کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنا پڑا، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کا صبر جواب دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اسے کسی صورت ہتھیار بنا کر استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اگر کیسکو نے فوری طور پر اپنی روش نہ بدلی تو نوشکی بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری کیسکو اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوشکی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فی الفور خاتمہ کیا جائے، بجلی کی بلا تعطل اور منصفانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو اندھیرے میں رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون موقع پر پہنچیں اور مظاہرین سے تفصیلی مذاکرات کیے۔ اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے کیسکو حکام سے بات چیت اور مسئلے کے فوری حل کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے احتجاج مو¿خر کر دیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔احتجاجی خواتین نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر لوڈشیڈنگ کا یہ ظالمانہ سلسلہ بند نہ ہوا تو آئندہ احتجاج مزید سخت ہوگا اور اس کی ذمہ داری مکمل طور پر کیسکو انتظامیہ پر عائد ہوگی۔شہری حلقوں نے بھی خواتین کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نوشکی کو بجلی کی مسلسل اور منصفانہ فراہمی دی جائے، بصورت دیگر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔


